روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں

سڑک پر ہر طرح کی گاڑیوں، سواریوں کا ہجوم ہے، شور ہے، دھواں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہر کے سب۔۔۔


Zahida Hina September 07, 2013
[email protected]

سڑک پر ہر طرح کی گاڑیوں، سواریوں کا ہجوم ہے، شور ہے، دھواں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہر کے سب لوگ دوڑے چلے جاتے ہیں، لیکن منزل کسی کو معلوم نہیں۔ معلوم ہو بھی تو کیسے کہ وہ ابتدائی دنوں میں ہی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ لوگ جس جمہوریت، رواداری اور انصاف کی تلاش میں چلے تھے، وہ باتیں سراب ثابت ہوئیں۔ فیضؔ نے یہ بات 1947ء میں کہہ دی تھی اور معتوب ٹھہرے۔ آج 2013ء تک لوگوں کی زبان پر یہی مصرعے رہے کہ:

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

کہیں تو ہو گا شبِ سست موج کا ساحل

کہیں تو جا کے رُکے گا سفینۂ غمِ دل

گاڑیوں کے بے ہنگم ہجوم میں میری گاڑی بھی رک جاتی ہے۔ گل خان کھڑکی سے گردن نکال کر 'معلومات' حاصل کرتے ہیں۔ نیوی کے کسی کیپٹن کا قتل ہو گیا ہے۔ سڑک بند کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم کراچی میں ہیں اور شہر میں امن کے قیام کے لیے ان کی مختلف سیاسی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذمے داروں سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں چل رہی ہیں۔ آج ملک بھر کے چُنے ہوئے ٹیلی ویژن پر سیاسی گفتگو کی محفلیں سجانے والوں اور کچھ ایڈیٹروں اور کالم نگاروں کو بلایا گیا ہے تا کہ وزیر اعظم کراچی میں امن کے حوالے سے ان کو سن سکیں۔ مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ہونے والی ایسی ہی ملاقاتیں یاد آنے لگتی ہیں جو چیف منسٹر ہائوس میں ہوئیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سربراہی میں جناب جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم اور جناب شعبان میرانی نے کیسی کوششیں نہیں کیں لیکن سب رائیگاں گئیں اور پھر میاں نواز شریف کے دور حکومت میں ہونے والی ملاقاتیں۔ دو دہائیاں گزر گئیں مگر مرض بد سے بدتر ہوتا گیا۔

2013ء آ پہنچا ہے اور کراچی ایک ایسا شہر ہو گیا ہے جس پر ہوسِ زر اور ہوس ِزمین کا آسیب مسلط ہے۔ لسانی، نسلی اور مسلکی نفرتیں اپنی بہار دکھا رہی ہیں۔ اس بہار سے جو گروہ لطف اندوز ہو رہے ہیں انھیں ہم سب جانتے ہیں لیکن کس کی مجال ہے کہ ان کی طرف انگلی اٹھائے۔ دوسری طرف عوام ہیں جن میں ہر زبان کے بولنے والے، ہر مسلک کے ماننے والے اور ہر نسل سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ان کا خون یوں ارزاں ہوا کہ یقین نہیں آتا۔ گاڑی گورنر ہائوس پہنچتی ہے، میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاتی ہوں تو پاکستان کے نامی گرامی صحافی، مدیران، ٹیلی ویژن پر اپنی گرم گفتاری دکھانے والے، اردو، سندھی اور انگریزی کے کئی کالم نگار موجود ہیں۔

وزیر اعظم آتے ہیں اور گفتگو شروع ہوتی ہے جو تلخ ہے اور لگی لپٹی کے بغیر کی جا رہی ہے۔ فوجی آپریشن کیوں ہو؟ شہر کو فوج کے حوالے کیوں کیا جائے؟ فوج تو براہ راست 3 دہائیاں صرف کراچی پر نہیں سارے ملک پر حکومت کرتی رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسی کے مختلف زمانوں میں تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوا۔ اقتدار پر قابض جرنیل اور ان کی سربراہی میں کام کرنے والے اعلیٰ افسران اپنے نو آبادیاتی آقائوں سے یہ سادہ سا سبق سیکھ کر آئے تھے کہ ''تقسیم کرو اور حکومت کرو''۔ انھوں نے اس عمل میں کمال ہنر مندی دکھائی اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کا ہر علاقہ 'لڑائو اور حکومت کرو' کی اس پالیسی کے تحت پارہ پارہ کیا جا رہا ہے۔

2008ء میں منتخب ہونے والی ایک جمہوری حکومت کیسے کیسے سنگین مرحلوں سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہے کہ ایک منتخب صدر دوسرے منتخب صدر کو اقتدار منتقل کر رہا ہے اور اس سے پہلے ایک منتخب وزیر اعظم کے بعد ایک دوسرے منتخب وزیر اعظم کو یہ اعلیٰ عہدہ سونپنے کے لیے نگراں وزیر اعظم نے اپنے فرائض انجام دئیے ہیں۔ یہ وہ کام ہیں جو دنیا کی جمہوریتوں میں روز مرہ ہیں لیکن ہمارے یہاں یہ معجزہ محسوس ہو رہے ہیں۔ چوہدری رحمت علی، محمد علی جناح، لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشترؔ کی روغنی تصویریں ان لوگوں کو دیکھ رہی ہیں جنھیں ہاتھوں سے لگائی ہوئی گرہیں دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہیں۔

وزیر اعظم کو شاید اتنی کھری باتیں سننے کی توقع نہ ہو۔ چوہدری نثار علی خان، خواجہ آصف اور پرویز رشید صاحبان خاموشی سے سن رہے ہیں۔ وزیر اعظم سے کہا جا رہا ہے کہ آپ نے رینجرز کو مکمل اختیارات سونپ دئیے تو کیا ہو گا۔ یہ بتایا جا رہا ہے کہ پولیس کی بدعنوانیاں اپنی جگہ لیکن رینجرز کے افسران کے شادی ہال، مرغی خانے اور بیکریاں ہیں۔ اراضی پر ناجائز قبضہ کون کر رہا ہے اور اسے کس کی سرپرستی حاصل ہے۔ کھل کر نام لیے جاتے ہیں۔ کوئی مشہور صحافی کیوں قتل ہوا اور اسے کس افسر کی نگرانی میں قتل کیا گیا۔ ہر بات 'مبینہ' ہے۔ شہادت کون دے؟ گواہ کون بنے؟ یہ کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے درمیان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کی مخلوط حکومت نے سندھ پر حکومت کی تو پھر ان سیاسی جماعتوں سے یہ کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ پانچ برس کے دوران وہ اس شہر کے دکھوں کا مداوا کیوں نہ کر سکیں۔

18 ویں ترمیم کے بعد امن و امان قائم رکھنے کی ذمے دار صوبائی حکومت تھی، وہ اپنی ذمے داریاں فراموش کیے کن نیندوں سوتی رہی۔ کراچی میں آنے والے ناجائز اسلحے کا ذکر بھی ہوا۔ ایسا اسلحہ جس کا مقابلہ پولیس اور رینجرز کے بس میں نہیں۔ صوبائی حکومت سے یہ پوچھنے کی بات ہوئی کہ کراچی کے داخلی راستوں پر اسکینر کیوں نہیں لگائے جاتے کہ جو ٹرکوں اور ٹرالروں کے ذریعے آنے والے ناجائز اسلحے کی روک تھام میں کام آئیں۔ وزیر اعظم کو یہ خبر بھی دی گئی کہ آپ کی موجودگی کے باوجود پولیس اور رینجرز کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ آج اور ابھی کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کی بس جس میں طالبات کی اکثریت تھی وہ لوٹ لی گئی۔

ان سب کے موبائل اور بٹوے اور جیب کی رقم دن دہاڑے وہ لوگ لے گئے جنھوں نے اس لوٹ مار سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو، سندھ کے وزیر اعلیٰ ، پولیس اور رینجرز کے اعلیٰ افسران ، سب کو چیلنج کیا ہے۔ انھوں نے دراصل اس جرم کے ذریعے یہ کہا ہے کہ ہم یہ سب کچھ کر سکتے ہیں، کسی میں ہمت ہے تو ہمیں روک کر دکھائے۔ اغوا برائے تاوان کی کہانیاں وزیر اعظم کو سنائی جا رہی ہیں۔ سرکاری اراضی پر کس طرح قبضہ کیا جا رہا ہے اور ایسا کرنے والے کروڑوں اور اربوں روپے کے مالک بن رہے ہیں۔ اس موقعے پر کسی کو اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان کی یاد نہیں آتی جسے قتل کر دیا گیا اور جس کی خطا یہ تھی کہ اس نے شہر کی سرکاری زمینوں کا اور گوٹھوں کا حساب کمپیوٹرائزڈ کیا تھا اور ان لوگوں کے پہلو میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی جو شہر کو مردار خوروں کی طرح نوچ رہے تھے۔

اس روز نیویارک، روم، شکاگو اور ممبئی کی مثالیں دی گئیں جہاں مختلف مافیائوں نے عوام کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ وہاں وہ لوگ دندناتے پھرتے تھے جن میں سے ایک ایک درجنوں بے گناہوں کا قتل کر چکا تھا۔ لیکن ان شورہ پشتوں پر ہاتھ کیسے ڈالا جاتا کہ عینی گواہ اپنی جان عزیز رکھتے تھے۔ سو ان لوگوں کو ٹیکس چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور ان کا خوف عام شہریوں کے دل سے نکال دیا گیا جس کے بعد ان گروہوں کی کمر توڑنی آسان ہو گئی۔ یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ کن ملکوں میں قانون نافذ کرنے والوں نے ماوارئے عدالت قتل کا سہارا لیا۔

اس روز جب ناجائز اسلحے کو برآمد کرنے کی بات ہو رہی تھی تو مجھے بی بی سی کے مارک ٹیلی کا پندرہ بیس برس پرانا ایک تفصیلی مضمون یاد آیا جو اس نے کراچی میں موجود ناجائز اسلحے کے بارے میں لکھا تھا اور جس میں صرف چھوٹے ہتھیاروں کا ذکر کیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک پلوں کے نیچے سے پانی نہیں، بڑے پُرشور دریا بہہ گئے۔

اس روز ہر بات ہوئی لیکن ڈرگ مافیا کا ذکر نہیں ہوا جس کی دولت نے صرف کراچی میں ہی نہیں، پورے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی معاونت کی ہے۔ اس روز فرقہ واریت پر گفتگو ہوئی لیکن یہ کڑوی بات نہیں کی گئی کہ پاکستان میں کراچی اور کوئٹہ بہ طور خاص مسلم امہ کے دو اہم ترین ملکوں کی نیابتی جنگ کا میدان بن چکے ہیں۔ ملک میں سنی اور شیعہ آبادیوں کے درمیان مناقشہ اور تنازعہ موجود نہیں لیکن مسلکی بنیادوں پر بات وہاں پہنچائی جا رہی ہے جسے اگر فوری طور پر کچلا نہیں گیا تو شام کی کہانی یہاں بھی دہرائی جائے گی۔

دہشت گردی کو کچلنے کے لیے اس روز وزیر اعظم کے عزم کو سنتے ہوئے میں یہی سوچتی رہی کہ وزیر اعظم سے ہمدردی کی ضرورت ہے۔ 2013ء میں اب ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ:

روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں

گلشن میں چاک چند گریباں ہوئے تو ہیں

اب بھی خزاں کا راج ہے لیکن کہیں کہیں

گوشے رہِ چمن میں غزل خواں ہوئے تو ہیں

مقبول خبریں