یوم دفاع… زندہ اور زندہ رہے گا

قوم یوم دفاع منا رہی تھی اور میں گھر میں بیٹھا تھا۔ یہ وہ دن تھا جب شہیدوں کو سلام کرنے والے لاہوری اپنی ان سرحدوں۔۔۔


Abdul Qadir Hassan September 07, 2013
[email protected]

قوم یوم دفاع منا رہی تھی اور میں گھر میں بیٹھا تھا۔ یہ وہ دن تھا جب شہیدوں کو سلام کرنے والے لاہوری اپنی ان سرحدوں کو اپنے جذبوں کی آغوش میں لیے ہوئے تھے جہاں وطن کی ماں کا دفاع کرتے ہوئے اس کے بیٹے شہادت کے اعلیٰ ترین مقام سے گزرے تھے۔ اس دن میری کالم نویسی کی چھٹی تھی اور میں سرحدوں پر حاضری دینے سے جسمانی طور پر معذور تھا لیکن مجھے کسی ایک دن کے گزر جانے کی فکر نہ تھی کیونکہ جب تک ہمارا دشمن زندہ ہے، ہمارا یوم دفاع بھی زندہ ہے۔

کل بھی یوم دفاع تھا آج بھی یوم دفاع ہے، یہ شہیدوں کا دن ہے اور شہید ہماری ظاہری نظروں سے اوجھل سہی مگر وہ زندہ ہیں، ہماری طرح کھاتے پیتے اٹھتے بیٹھتے زندہ سلامت ہیں مگر ہمیں ان کے زندہ شب و روز کی زیارت سے محروم کر دیا گیا ہے اور ان کی یاد کی برکت ہمیں عطا کر دی گئی ہے، میں یہ کالم اس لیے لکھ رہا ہوں کہ میرے کچھ بھائیوں اور ہموطنوں نے پورے ملک کی طرح لاہور شہر کو بھی دشمنوں سے بچا لیا تھا ، بھارتی فوج کا کمانڈر اپنی یہ حسرت دل میں لیے جلتا سڑتا رہا کہ وہ ہمارے جمخانے میں وہسکی کا آدھا چڑھائے گا اور یوں لاہور کی فتح کا جشن منائے گا۔ جب تک دشمن باقی ہے، ہمارا یوم دفاع بھی باقی ہے ہمارے چھ ستمبر پر سورج غروب نہیں ہو گا۔

ہمارے ذرائع ابلاغ نے اپنے شہیدوں کی شہادت کی خوشی میں جشن منایا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور جان دے کر اپنی آزادی کو بچاتے ہیں لیکن بھارتی سرحدوں پر کسی بھارتی دن کی خوشی میں شمعیں روشن کرنے والے نہیں معلوم کہاں کہاں مر گئے تھے۔ غالباً بھارت دشمنی میں سرشار پاکستانیوں کو دیکھ نہیں سکتے تھے، ان کی جذبہ حب الوطنی کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔ قومی دکھ کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو خود پاکستانیوں سے بھی کمک مل رہی ہے۔ ہماری بدبختی پھیل رہی ہے اور ہمارے ابدی دشمن سے ہم آغوش ہونے کی حسرت بار بار ہمارے سامنے ہمارے منہ پر ماری جاتی ہے لیکن بھارت پرستی میں کوئی کچھ بھی کرتا رہے ہمارے شہیدوں کا خون اور غازیوں کے نعرے اس کی موت بنے رہیں گے۔

درست کہ اس قوم پر ایک کاری ضرب لگائی جا چکی ہے اور بھارت پرست ملک کو دو ٹکڑے کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں لیکن اس شکست نے قوم کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو اس کے سامنے کر دیا ہے اور وہ اب ان سے ہوشیار ہو چکی ہے۔ اس کا یوم دفاع ایک دن کا نہیں اس کی پوری عمر کا ہے، بیرونی دشمنوں کا بندوبست موجود ہے اور اب اس کو پتہ ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف فوجی جارحیت نہیں کر سکتا لیکن اس نے ایک دوسرا محاذ جنگ کھول دیا ہے اور وہ ہے میڈیا کا محاذ جنگ جو ہمارے لیے میر و جعفر بن کر ہمارے دلوں کو کھوکھلا کرنے کے در پے ہے لیکن اس محاذ پر اس کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے، ہمارے قومی ایمان کو کمزور نہیں کیا جا سکتا' مثلاً ایک پرانا پاکستانی دل کے تین آپریشنوں اور بڑھاپے کی عمر میں بھی حب وطن کے محاذ پر ڈٹا ہوا ہے۔ مجید نظامی کے ہم شکر گزار ہیں کہ اس بزرگ نے اپنے تمام وسائل کسی مقصد کے لیے وقف کر دیے ہیں اور ایک محاذ کھول لیا ہے جو ہر روز کسی نہ کسی بہانے زندہ ہو جاتا ہے۔

اگر ہمارا یوم دفاع صرف چھ ستمبر تک محدود تھا تو اس پر تو سورج غروب ہو چکا ہے اور وہ دن اپنی رات کی تاریکی میں گم ہو چکا ہے لیکن حالات نے ہمیں ایک مسلسل جنگ پر مجبور کر دیا ہے، ایک تو ہم نے بھارت ماتا سے اپنا وطن چھین لیا ہے دوسرے ہم نے اپنی گئی گزری حالت میں بھی ایٹم بم بنا لیا ہے۔ پاکستان بنانے کی طرح یہ بم بنانا بھی ہماری آزمائش بن چکا ہے۔ ہمارے بم کے دھماکے کے فوراً بعد امریکا کے ایک نائب وزیر خارجہ نے چند سطروں میں اپنے جذبات کی یوں عکاسی کی تھی کہ ہمیں پاکستان کا ایٹم بم قبول نہیں ہے اور یہ بات درست بھی ہے، دنیا کی واحد سپر پاور کے عروج میں اس کے کسی نا پسندیدہ ملک کے پاس ایسا حتمی نتائج والا ہتھیار کیوں ہو۔ چودھراہٹ کا پہلا اصول ہر کسی کو لاغر کر دینا ہوتا ہے لیکن ہمیں اس ایٹم بم کو بھی زندہ رکھنا ہے جو ہمارے دلوں کی توانائی ہے اور ہمارے اندر زندہ و سلامت موجود ہے، کسی شہید کی طرح اپنی سپاہ سمیت پوری قوم ایک ایٹم بم ہے اور وہ زمانے گئے جب دشمن ہم سے آدھا ملک چھین کر اپنے انتقام کی آگ بجھاتا تھا، اب یہ ہماری باری ہے کہ ہم اپنے ملک کی وحدت اور سلامتی کو ختم کرنے والوں سے اپنا انتقام لیں۔

اب صورت حال یہ ہے کہ امریکا بھارت کی مکمل سرپرستی کرتا ہے اور بھارت ہمارے دشمنوں میں ایک طاقت ور ملک بنا ہوا ہے لیکن جیسا کہ عرض کیا ہے، بھارت اب ہمارے ساتھ کھلی جنگ نہیں کر سکتا چنانچہ اس نے ہمارے اندر میر و جعفر پیدا کرنے شروع کر دیے ہیں لیکن قدرے اطمینان کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہ اندرونی دشمن ظاہر ہیں چھپے نہیں ہیں اور ان کے ساتھ مقابلہ جاری ہے کیونکہ ہمارا یوم دفاع صرف ایک دن تک محدود نہیں ہے، اس کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ امن مطلوب ہے مگر امن کے نام پر غلامی نہیں ہمارا یوم دفاع ہمیں یہ غلامی قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ جب تک دشمن باز نہیں آتا ہمارا دفاع جاری رہے گا۔

مقبول خبریں