نجکاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاج

نجکاری سرمایہ دارانہ نظام کا ایک ایسا ہتھیار ہے جسے ہر اس ادارے پر استعمال کیا جاتا ہے جو نقصان میں چل رہا ہو۔


Zaheer Akhter Bedari September 08, 2013
[email protected]

ہماری حکومتوں اور بیورو کریسی کی نااہلیوں کے نتیجے میں ملک کے اہم قومی اداروں میں جو کرپشن کے معاملات سامنے آئے ہیں، اس کا حل یہ نکالا جارہا ہے کہ ان اداروں کو پرائیویٹائزکردیا جائے یعنی بیچ دیا جائے۔ سرکاری اداروں کو بیچنے کی پالیسی کو نجکاری کا نام دیا جاتا ہے۔ نجکاری سرمایہ دارانہ نظام کا ایک ایسا ہتھیار ہے جسے ہر اس ادارے پر استعمال کیا جاتا ہے جو نقصان میں چل رہا ہو۔اس وقت کئی قومی ادارے نقصان میں جارہے ہیں' اس کی وجہ یہ ہے کہ ان اداروں کے حکمرانوں کی طرف سے لگائے ہوئے من پسند بیوروکریٹس نے کرپشن کرکے ان اداروں کو اس طرح کنگال کردیا ہے کہ یہ اب کروڑوں کے نقصان میں جارہے ہیں اور اس کا واحد حل حکمرانوں کے نزدیک نجکاری ہے۔ حکومت کا فلسفہ یہ ہے کہ نجکاری کے ذریعے جو سرمایہ داران اداروں کو خریدتے ہیں، انھیں اپنے سرمائے اور منافعے کا لالچ ہوتا ہے اور وہ اپنے سرمائے اور بھاری منافعے کی خاطر اپنے خریدے ہوئے اداروں کو نقصان سے نکال کر منافع بخش بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

نجکاری کا پہلا بڑا نقصان ورکرزکی چھانٹی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔نئی مینجمنٹ سب سے پہلے یہی کام کرتی ہے،ہزاروں مزدوروں کو اس جواز کے حوالے سے ملازمتوں سے الگ کردیا جاتا ہے کہ یہ ورکرز فالتو یا فاضل ہیں' ان فالتو یا فاضل مزدوروں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ روزگار حاصل کرنے کے لیے رشوت ادا کرتے ہیں اورعموماً یہ رشوت قرض لے کر ادا کی جاتی ہے اور یہ قرض اترنے بھی نہیں پاتا کہ انھیں ملازمتوں سے نکال دیا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ایسے لیبر لاز اور ایسی لیبر عدالتیں ہوتی ہیں جو مالکان کی طرف سے اس قسم کے مزدور دشمن اقدامات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جن اداروں کی نجکاری کی جاتی ہے ان اداروں سے نکالے جانے والے ہزاروں ورکرز بے روزگاری کے نتیجے میں یا تو فاقہ کشی سے دو چار ہو جاتے ہیں یا پھر جرائم کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں۔

یہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایسا خطرناک کھیل ہے جس میں سرمایہ دار کوکروڑوں روپوں کا فائدہ ہوتا ہے اور ان اداروں کو اپنے خون اور پسینے سے چلانے والے محنت کشوں کو بے روزگاری کا انعام ملتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک سرمایہ دار ان نقصانات میں چلنے والے اداروں کو نفع بخش بناسکتا ہے تو حکومت ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان اداروں کو نقصان سے دو چارکرنے والے بیوروکریٹس بھی سرمایہ کارانہ نظام کے پرزے ہوتے ہیں' ان میں اتنی اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ اداروں کو کامیابی سے چلا سکیں۔ اگر ان اداروں کی سربراہی اہل اور ایماندار افراد کے حوالے کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ انھیں منافع بخش نہ بنایا جا سکے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہحکمران کرپٹ اہلکاروں کی کرپشن میں بھی حصہ دار ہوتے ہیں اور نجکاری میں بھی اربوں کی کرپشن کا ارتکاب کرتے ہیں۔

اہم قومی اداروں کو قومی ملکیت میں لینے کا نظام سوشلسٹ ملکوں نے متعارف کرایا تھا، اس نظام کی افادیت کو دیکھ کر سرمایہ دارانہ نظام میں بھی اہم قومی اداروں کو قومی ملکیت میں لینے کا عمل شروع ہوا اور بیشتر ترقی پذیر ملکوں میں قومی ادارے اب بھی منافع بخش انداز میں چل رہے ہیں لیکن غالباً پاکستان واحد ملک ہے جہاں تمام اہم قومی ادارے نقصان کا شکار ہیں اور حکومت کے نزدیک اس کا واحد حل نجکاری ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا وہ استحصال ہے جس کا سامنا دنیا بھر کے مزدور کر رہے ہیں۔

پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کی جانب سے حکومت کی نجکاری کی پالیسی کے خلاف کراچی سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں مظاہرے کیے گئے اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت قومی اہمیت کے اداروں کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں بیچنے کے بجائے ان اداروں کے کرپٹ سربراہوں کو نکال کر یا تو مخلص اہل اور ایماندار افراد کے ہاتھوں میں ان اداروں کا کنٹرول دے یا پھر مزدوروں کے ہاتھوں میں ان اداروں کا انتظام دے کر ان کی اہمیت اور اداروں سے ان کی وفاداری کو آزمائے۔ موجودہ حکومت کے وزیر اعظم کا تعلق کاروباری گھرانے سے ہے ۔وہ ایک محنت کش خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اس حوالے سے انھیں محنت کشوں کے مسائل کا زیادہ احساس ہونا چاہیے اور انھیں اس حقیقت کا ادراک بھی ہونا چاہیے کہ کوئی سرمایہ دار نقصان میں جانے والے اداروں کو نفع بخش اداروں میں بدل سکتا ہے تو اس کی وجہ صرف انتظامی اہلیت ہوتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں ایسے اہل اور مخلص افراد موجود نہیں جو ان اداروں کو نقصان سے نکال سکیں؟ ایسی بات نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ اہل ایماندار اور باصلاحیت منتظمین کو اگر اپنے خاندانوں اپنے حلقہ احباب اور اپنے طبقے ہی میں تلاش کیا جائے تو ایسے افراد ہرگز نہیں مل سکتے، اگر اہلیت ایمانداری کے حوالے سے اپنے خاندان اپنی کلاس کے باہر ایسے لوگوں کو تلاش کیا جائے تو یقیناً ایسے اہل افراد مل سکتے ہیں جو اداروں کو نقصان سے نکال کر منافع بخش بناسکتے ہیں۔ قومی اہم اداروں پر کس قسم کے افراد کو مسلط کیا جاتا رہا، اس کی ایک مثال وگرا کے سربراہ توقیر صادق کی شکل میں ہمارے سامنے موجود رہے جس پر بھاری کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔ کمال یہ ہے کہ اس شخص کو ملک سے فرار کرنے کا الزام ایک ایسی پارٹی کے ممتاز رہنما پر لگایا جارہا ہے جو حکومت میں تھی اس لیے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کرپٹ لوگوں اور حکومتوں کے درمیان کتنا گہرا رشتہ ہوتا ہے۔

حساس اور قومی اہمیت کے حامل اداروں کی نجکاری ملک کی ایلیٹ کلاس کی ایسی سازش ہے جس کا مقصد قومی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاکر یہ ثابت کرنا ہے کہ قومیانے کی پالیسی ایک ناکام پالیسی ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بے شمار ادارے قومی ملکیت میں ہیں اور بڑی کامیابی سے چل رہے ہیں وہاں بھی ان اداروں کو چلانے والے ہمارے جیسے انسان ہی ہیں' فرق یہ ہے کہ ان میں قومی مفادات کا احساس باقی ہے اور ہماری مملکت خداداد میں ہر طرف ایسی ایمانداری اور حب الوطنی بکھری ہوئی ہے جس کا مشاہدہ ہم مختلف اداروں میں کر رہے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام میں کرپشن اگرچہ خون بن کر اس کے جسم میں دوڑتی رہتی ہے لیکن یہ لعنت عموماً اشرافیہ ہی میں پائی جاتی ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر کوئی کرپشن حکومتوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں، اس پس منظر میں یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ نقصان زدہ اداروں کے مسئلے کا حل نجکاری نہیں بلکہ اشرافیائی حکومت اشرافیائی سیاست کی تبدیلی ہے، جب تک مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے اہل اور ایماندار لوگوں کے ہاتھوں میں اقتدار نہیں آتا نہ کرپشن رک سکتی ہے نہ قومی ادارے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ پاکستان ورکرز کنفیڈریشن نے نجکاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کرکے اپنی طاقت کا جو مظاہرہ کیا ہے ایسے ''طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں'' تک لے جانے کے لیے ایک بڑے اتحاد کی ضرورت ہے جو وقت کا تقاضہ بھی ہے اور محنت کش طبقات اور ان کی قیادت کی ذمے داری بھی ہے۔

مقبول خبریں