آصف زرداری… لاہور کا نیا سیاسی ڈیرہ دار

ایوب خان کے زمانے میں مسلم لیگیں دو گروپوں میں بٹ گئیں۔


Abdul Qadir Hassan September 09, 2013
[email protected]

ایک زمانہ تھا جب ملک کا دارالحکومت تو کراچی تھا لیکن ملک کی سیاست کا مرکز اور دارالحکومت لاہور تھا۔ سیاسی جماعتوں کے دفتر لاہور میں تھے لیڈروں نے لاہور کو اپنا مرکز بنایا ہوا تھا اور ہم رپورٹروں کے لیے لاہور کا ریلوے اسٹیشن ایک اہم مقام تھا جہاں سے لیڈر آتے جاتے تھے۔ تب ہوائی جہاز نہیں تھے۔ بڑے سیاسی لیڈروں نے لاہور میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ان ڈیروں کو ان کے لاہوری کارکن اور پیروکار آباد رکھتے تھے۔

باہر سے آنے والے عام کارکنوں کے لیے یہاں رات بسر کرنے کا اچھا برا انتظام بھی ہوتا تھا اور یہ ڈیرے متعلقہ جماعت اور اس کے لیڈروں کے ساتھ عوام کے رابطوں کا سب سے بڑا ذریعہ بھی تھے۔ پرانی وضع کے ثقہ لیڈر ہوٹلوں میں قیام پسند نہیں کرتے تھے وہ کسی دوست کے ہاں قیام کرتے تھے اور ان ڈیروں پر ملاقاتیں کرتے تھے۔ ملک کی جتنی جماعتیں تھیں لاہور میں ان کے اتنے ہی اڈے اور ڈیرے تھے۔ سب سے پر تکلف ڈیرہ چوہدری ظہور الٰہی کا تھا جہاں قیام و طعام کا پرتکلف انتظام ہوتا تھا۔ چوہدری صاحب مسلم لیگ کے لیڈر تھے اور اس رشتے سے ان کا ڈیرہ مسلم لیگی ڈیرہ بھی سمجھا جاتا تھا لیکن وہ چونکہ کسی جماعت کے سربراہ نہ تھے اس لیے ان کی جماعت کا مرکزی ڈیرہ کہیں اور ہوتا تھا۔

ایوب خان کے زمانے میں مسلم لیگیں دو گروپوں میں بٹ گئیں۔ ایوب خاں نے اپنی مسلم لیگ کے قیام کے لیے کارکنوں کا اجلاس بلایا تو اس تقریب کو کنونشن کہا گیا تھا اسی رعایت سے یہ لیگ کنونشن لیگ کہلائی جب کہ اس کے مقابلے میں میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ نے اپنی لیگ کی تنظیم نو کے لیے جو اجلاس بلایا اسے کونسل کہا گیا اور ان کی جماعت کونسل لیگ مشہور ہوئی۔ لیگ کے علاقائی کارکن کونسلر کہلاتے تھے ان کے اجتماع کو کونسل کہا گیا۔ مادر ملت کو کونسل لیگ سے ہمدردی تھی اس لیے کونسل لیگ کو باعزت مسلم لیگ سمجھا جاتا تھا۔

بات سیاسی ڈیروں کی ہو رہی تھی توکنونشن لیگ کا ایک تو مرکزی دفتر تھا دوسرا ڈیرہ صاحبزادی محمودہ بیگم کا دولت خانہ تھا جہاں کھانے کی میز ہر وقت لگی رہتی تھی۔ کونسل لیگیوں کا ڈیرہ ممتاز دولتانہ کا گھر تھا، میاں صاحب ہر وقت کے عوامی لیڈر نہیں تھے ان کا گھر ایک نیم سیاسی ڈیرہ تھا۔ چوہدری ظہور الٰہی جب کبھی کونسل لیگ میں سرگرم ہوتے تھے تو کونسل لیگی ان کے ہاں بھی آتے جاتے تھے۔ ان بڑے اور مشہور ڈیروں کے ساتھ ایک اور ڈیرہ بھی تھا جو سب سے بڑا سیاسی ڈیرہ تھا اور اس کے ڈیرہ دار نوابزادہ نصراللہ خان تھے جو متحدہ ہندوستان کے زمانے کے سیاستدان اور لیڈر تھے، وہ مجلس احرار میں تھے لیکن قیام پاکستان کے بعد انھوں نے خالص پاکستانی سیاست کا رنگ اختیار کیا۔ جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کے پٹھان خاندان کے اس مکمل سیاست دان نے لاہور میں ڈیرہ ڈال دیا۔

زمین بیچ کر سیاست کرنے والے یہ سیاستدان سیاست کے استاد بھی تھے اور برصغیر کی سیاست کے چشم دید گواہ۔ نواب صاحب ایک بے حد ملنسار عوامی مزاج کے سیاستدان تھے۔ ان کا ڈیرہ کرائے کے کسی مکان میں رہا۔ اس میں ان کا کمرہ ایک عام سے صوفے دو چار کرسیوں ایک ٹی وی اور ایک بستر اور حقے پر مشتمل تھا اور وہ دن بھر کے سیاسی جھمیلوں کے بعد اس بستر پر لیٹ کر رات بسر کر دیتے تھے۔ ڈیرہ کا دروازہ کھلا رہتا اور دو تین افراد پر مشتمل ان کا اسٹاف ملازم سے زیادہ سیاسی کارکنوں کا تھا البتہ مظفر گڑھ کا ایک باورچی غیر سیاسی ہوتا تھا۔

نواب صاحب کا یہ ڈیرہ یوں تو دن بھر لیڈروں کی آمدورفت کی وجہ سے آباد رہتا تھا لیکن شام کو یہاں بڑی بے تکلفانہ محفل آراستہ ہوتی اور خوب رونق ہوتی جس میں نواب صاحب کا کوئی دوست لاہور کا کوئی مشہور پکوان لے آتا جسے اہل مجلس تناول کرتے۔ آغا شورش کاشمیری لاہور کے ایک خاص سالن کو بہت پسند کرتے اور اس لیے ان کی خاطر ایک اور شام مقرر کر دی جاتی۔ نواب صاحب اپنی اس شام کی محفل کو شام غریباں کہا کرتے تھے۔ نواب نصراللہ خان کا ڈیرہ ہر جماعت کا ڈیرہ تھا کیونکہ نواب صاحب کسی خاص جماعت سے وابستہ نہیں تھے۔ قومی سطح کے سیاسی اجلاس اور کوئی مشاورتی مجلس اسی ڈیرے پر منعقد ہوتی۔

لاہور کے ایک معروف سیاستدان ملک غلام جیلانی کا گھر بھی ایک مستقل ڈیرہ تھا جہاں شیخ مجیب الرحمن بھی قیام کرتے تھے اور ذرا اونچی قسم کی سیاست ہوتی تھی مشہور چھ نکات اسی گھر میں مرتب کیے گئے میاں محمود علی قصوری جیسے لوگ بھی فرصت ملتی تو ملک صاحب کے ہاں آ جاتے۔ میاں صاحب کے صاحبزادے میاں خورشید محمود قصوری کے ہاں اب ہر ماہ قومی و بین الاقوامی مسائل پر بحث و تمحیص کی ایک مجلس منعقد ہوتی ہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی قیام گاہ بھی بعداز نماز عصر ایک سیاسی ڈیرہ بن جاتی تھی لیکن یہ سیاسی محفل کم اور گپ شپ کی زیادہ ہوتی تھی جس میں مولانا کی بے مثال حس مزاح سے لوگ بہت حظ اٹھاتے تھے۔ بڑے بڑے لیڈر یہاں آتے تھے مگر کسی سیاسی مقصد کے لیے۔

اپنے وقت کے لاہور کے یہ معروف اور مصروف سیاسی ڈیرے رفتہ رفتہ ختم ہو گئے ہیں اور جن لوگوں کو ان سیاسی مرکزوں میں حاضری کا موقع ملا وہ ان کی یادوں سے معطر رہیں گے۔ کئی ڈیرہ دار چلے گئے مثلاً نوابزادہ صاحب، دولتانہ صاحب، چوہدری صاحب، ملک غلام جیلانی صاحب اور کئی دوسرے، اب نیا دور ایک نئے ڈیرے سے شروع ہونے والا ہے۔ جناب آصف علی زرداری کا شروع دن سے لاہور کو اپنی سیاست کا مرکز بنانے کا شوق ہے اور یوں لگتا ہے جیسے وہ وقت آ گیا ہے جب ان کا شوق پورا ہو گا۔

اگرچہ اسلام آباد نے لاہور کی سیاسی رونقیں کچھ چھین لی ہیں لیکن لاہور کا سیاسی کلچر ثقافت اور ماحول لاہور ہی کا ہے، اس شہر کے گلی کوچوں اور اس کے تھڑوں پر سیاست کی جو مجلسیں جمتی ہیں، وہ کہیں اور نہیں دیکھی جاتیں۔ کوئی سیاسی جلسہ دیکھنا لاہوریوں کا شوق ہے اور اگر کوئی جماعت ان کو اپنی سیاست کی قائل کر لے تو پھر یہ جماعت اڑتی چلی جاتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ہنگامہ خیز سیاست نے اس شہر کے عوام سے جلا پائی تھی اور انھوں نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی لاہور سے اپنی سیاست کا آغاز کیا تھا، اس لاہوری سیاست یعنی پنجاب نے ان کو وزیراعظم بنایا تھا، اب زرداری صاحب غالباً لاہور آ رہے ہیں۔ لاہور کی سیاست میں ایک نئے ڈیرے کا اضافہ لیکن اب وہ بے تکلف ڈیرے کہاں ،کوئی آزاد مزاج سیاسی کارکن سیکیورٹی کی آزمائشوں سے کیسے گزر سکتا ہے۔ سیاست کے اس پہلو پہ لکھنے کو بہت جی چاہتا ہے، کبھی شاید لکھیں گے بھی۔ فی الحال ایک نئے سیاسی ڈیرے کا خیر مقدم۔

مقبول خبریں