2020 اولمپکسنکول اسکواش کوشامل نہ کرنے پر مایوس

اس بار فیصلہ حق میں ہونے کی امید تھی، نکول


AFP September 10, 2013
2020 اولمپک گیمز کے لئے ریسلنگ شامل، شارٹ لسٹ کیے گئے اسکواش اور بیس بال/سافٹ بال کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ فوٹو؛ اے ایف پی/ فائل

ملائیشین ورلڈ نمبر ون نکول ڈیوڈ اسکواش کو2020 اولمپکس میں شامل نہ کیے جانے پر مایوس ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس کیلیے کوششوں نے کھیل کا معیار بلند کردیا۔

یاد رہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے اتوار کو اولمپک اسپورٹس میں ریسلنگ کو دوبارہ شامل کرلیا، شارٹ لسٹ کیے جانے والے اسکواش اور بیس بال/سافٹ بال کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اس فیصلے سے قبل آئی او سی ارکان نے2020 اولمپکس کی میزبانی کیلیے ٹوکیو کو چن لیا تھا ۔30 سالہ نکول نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ اس بار فیصلہ ہمارے حق میں ہوجائے گا تاہم ایسا نہ ہوسکا تاہم میں سمجھتی ہوں اب اسکواش اور اولمپکس میں زیادہ دوری نہیں رہے گی۔



ملائیشیا کی انتہائی کامیاب کھلاڑی نکول نے ویمنز اسکواش پر حکمرانی کی، وہ مسلسل7برس تک ٹاپ رینک پلیئر رہیں، ریکارڈ7ورلڈ ٹائٹلز جیتے اور ملک کیلیے پہلا اولمپک گولڈ پانے کی حقدار بھی ثابت ہوسکتی تھیں،انھوں نے اسکواش کو اولمپکس میں شامل کرانے کیلیے بہت جدوجہد کی لیکن 2020 کی ناکامی نے ان کے میڈل کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اگر2024 میں اسکواش کو اولمپک میں شامل کرلیا جاتا ہے تو اس وقت ان کی عمر 40 برس ہوگی۔ نکول کا کہنا ہے کہ اس وقت میڈل حاصل کرنا نسبتاً مشکل ہوجائیگا کیونکہ اسکواش کھیلنے کیلیے جسمانی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کھیل نے گذشتہ دہائی میں متعدد بار اولمپکس میں شمولیت کی کوشش کی،

2005 میں گیمز کے چاہنے والوں کی کافی تعداد اسکواش کی حمایت کررہی تھی لیکن یہ کھیل 2 تہائی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ نکول نے کہاکہ میں مستقبل میں بھی اولمپکس میں اسکواش کو شامل کرنے کی حمایت کرتی رہوں گی۔ دوسری جانب اسکواش فیڈریشن کے صدر نارائن راماچندرن نے کہاکہ آئی او سی کے فیصلے پر اسکواش سے محبت کرنی والے لاکھوں شائقین کی دل شکنی ہوئی، انھوں نے کہا کہ مستقبل کے گیمز میں شمولیت کیلیے دوبارہ کوشش کی جائیگی ۔