شام پر انتہائی محتاط مختصر اور مؤثر کارروائی ہوگی امریکا

مسئلے کاحل یقینا فوجی نہیں سیاسی ہونا چاہیے تاہم اسد حکومت کواپنے...،جان کیری کی ولیم ہیگ کیساتھ لندن میں پریس کانفرنس


AFP September 10, 2013
پینٹاگون کا شام کے 50 اہداف پر 3 دن میں فضائی حملوں کی کارروائی مکمل کرنیکا منصوبہ تیار، حملے کی صورت میں کیمیائی ہتھیار تلف یا پھر عالمی کنٹرول میں دیے جائیں، روس کی شام کو تجویز، شامی صدر بے قصور ہو سکتے ہیں، جرمن اخبار فوٹو: اے ایف پی/فائل

ISLAMABAD: امریکا نے کہا ہے کہ شام پرانتہائی محتاط، محدود اور موثر فوجی کارروائی کی جائے گی۔ لندن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور برطانوی ہم منصب ولیم ہیگ نے شام کے مسئلے پر مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں جان کیری نے کہا کہ شام کے مسئلے کا حل یقیناً فوجی نہیں سیاسی ہونا چاہیے تاہم اسد حکومت کو اپنے ہی لوگوں کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے روکنے کے لیے شام پر فضائی حملے بھی بہت ضروری ہیں، ہم کسی جنگ کی طرف نہیں بڑھ رہے، ہم اپنے اتحادی ممالک کو اس بات پر قائل کر رہے ہیں کہ شامی صدر کو اس کے غیر قانونی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ضرور حساب دینا ہوگا، جان کیری نے شامی صدرکے امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال نہ کرنے کے بیان کو مسترد کردیا۔

ادھر پینٹاگون نے شام کے50 اہداف پر 3 دن کے اندر فضائی حملوں کی کارروائی مکمل کرنے کا منصوبہ تیارکرلیا ہے، حملے میں کروز میزائل، فضا سے فضا میں مار کرنے والے جدید میزائل اور ایئرفورس کے جنگی طیاروں کو استعمال کیا جائے گا۔ امریکی اخبارلاس اینجلس ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی صدر نے پینٹاگون کوشامی اہداف کی توسیع شدہ لسٹ پیش کی جس میں بشارالاسدکا محل بھی شامل ہے۔ جرمن اخبار نے انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ شامی صدر بے قصور ہوسکتے ہیں۔



اسرائیل نے پڑوسی ملک شام پرامریکا کے ممکنہ حملے کے پیش نظرمقبوضہ بیت المقدس میں بھی میزائل شکن ائرن ڈوم سسٹم نصب کردیا ہے۔ دوسری طرف روس نے شام کو تجویزدی ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں کیمیاوی ہتھیاروں کو تلف یا پھر بین الاقوامی کنٹرول میں دیا جائے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ بہتر ہوگا کہ شام خود ہی کیمیائی اسلحے کو تلف کردے یا ذخائر کے بین الاقوامی تحفظ کا اعلان کرے، جس کے بعد امریکا کے پاس حملے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ جارحیت قبول نہیں کی جائے گی۔ چین کے وزیرخارجہ وانگ وی نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے ساتھ ٹیلی فون پرگفتگو میںشام کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، چین نے ایک مرتبہ پھرامریکا پر زور دیا ہے کہ شامی بحران کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے ذریعے حل کیا جائے، سلامتی کونسل میں معاملہ واپس لا کراسے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔

قبل ازیں امریکی پی بی ایس چینل کوانٹرویو دیتے ہوئے شام کے صدر بشار الاسد نے بتایا ہے کہ امریکا کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں، انھوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ اگر مغرب نے حملہ کیا تو اس کے حلیف اس کا جواب دے سکتے ہیں، شام کے حلیفوں میں روس، چین اور ایران کے علاوہ لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ شامل ہے۔