الوداعی ظہرانہ شیریں یادیں اور باتیں

جس میں سیاستدان،اراکین پارلیمنٹ، سینیٹ اور چند افراد میڈیا سے بھی تھے۔


Zahida Hina September 10, 2013
[email protected]

مرگلہ کی پہاڑیوںنے سنہرے کا دوشالہ اوڑھا اور بادلوںنے افق تا افق پرے جمائے۔ رم جھم پھوار پڑنے لگی۔ صنوبر ناظر نے مسکرا کر میری طرف دیکھا۔ ''یہ بادل اب کسی بھی وقت برسیں گے اور سب جل تھل ہوجائے گا۔'' میں کہتی ہوں ''یہی تو اس شہر کی شان ہے'' وہ گاڑی اسٹارٹ کرتی ہیں، ریورس گئیر لگاتی ہیں اور ہم ان کے گھر کے ڈرائیو وے سے نکل کر سڑک پر آجاتے ہیں۔میں ایک روز کے لیے اسلام آباد آئی ہوں اور تقریباً ہمیشہ کی طرح ناظر اور صنوبر کی مہمان ہوئی ہوں۔ صنوبر مجھے پرائم منسٹر ہائوس چھوڑنے جارہی ہیں جہاں پانچ برس کے تلخ و شیریں دن گزار کر جناب آصف علی زرداری کی صدارت کے عہدے سے رخصت پر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ان کے اعزاز میں ایک الوداعی ظہرانہ دیاہے۔ اس ظہرانے میں شرکت کے لیے ملک بھر سے 132 افراد کو دعوت دی گئی تھی جس میں سیاستدان،اراکین پارلیمنٹ، سینیٹ اور چند افراد میڈیا سے بھی تھے۔

ہم پولیس چیک پوسٹوں سے گزرتے ہوئے آخر کار پرائم منسٹر ہائوس پہنچے، صنوبر مجھے پورٹیکو میں اتار کر رخصت ہوئیں۔ میں نے سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر ایک نگاہ اس دل نواز منظر پر ڈالی جو فطرت کا پروردہ تھا اور جس کی چمن آرائی ان محنت کشوں نے کی تھی جو عرف عام میں مالی کہلاتے ہیں اور جن کے نام سے ہم واقف بھی نہیں ہوتے۔ پیش دالان سے گزرکر انتظارگاہ میں پہنچی تو چند دوسرے لوگوں کے ساتھ سیفما کے امتیاز عالم اور عرفان صدیقی پہلے سے موجود تھے۔ایک الماری میں کچھ کتابیں سجی ہوئی تھیں اور میز پر ٹائم اور نیوز ویک کے شمارے تھے تاکہ انتظار کرنے والے ان رسائل کی ورق گردانی کرتے رہیں۔ لیکن ہمیں انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑی۔ یکے بعد دیگرے مہمان آتے رہے۔ سندھ سے آنے والوں میں وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور جناب امین فہیم سے لے کر قوم پرست رہنما تھے۔ سابق اسپیکر محترمہ فہمیدہ مرزا بھی تھیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز اشفاق کیانی اوردوسرے فوجی افسران بھی آتے رہے۔ میاں نواز شریف سیدھے اپنے دفتر سے آئے اور ان کے ساتھ ہی جناب آصف علی زرداری کی آمد ہوئی۔ میزبان نے مہمان کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔ دونوں کے چہروں پر کسی قسم کا تنائو یا رسمی مسکراہٹ نہیں تھی۔

ہم طعام گاہ میں داخل ہوئے تو چھت سے آویزاں فانوس روشن تھے اور دیواروں پر لگے ہوئے کنول بھی۔ پھولوں سے آراستہ وسطی میز پر صدر، وزیر اعظم، منتخب صدر جناب ممنون حسین اور موجودہ اسپیکر، میاں شہباز شریف، سید قائم علی شاہ اور دوسرے اہم سیاستدان موجود تھے۔ اس کے علاوہ پشاور، خیبرپختونخوا، بلوچستان، کوئٹہ، کشمیر، لاہور، پنجاب، سندھ اور کراچی کے نام سے 9 میزیں مختص تھیں۔ میرے حصے میں ''پشاور'' آیا جہاں وزیر اعظم کے پولیٹیکل سیکریٹری ڈاکٹر آصف کرمانی اور وزارت مذہبی امور کے وزیر مملکت پیر محمدامین الحسنات شاہ تشریف رکھتے تھے۔ پیر صاحب میرے کالم پڑھتے ہیں۔ انھوں نے ازراہِ تلطف مجھے اپنے تعلیمی ادارے میں بولنے کی دعوت بھی دی۔ ان کا یہ تعلیمی ادارہ بھیرہ میں ہے۔ موٹر وے سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفر کیجیے تو بھیرہ پر نظر پڑتی ہے۔ میں نے ان سے کسی مناسب موقعے پر آنے کا وعدہ کیا۔ اسی وقت وزیر اعظم کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ میاں صاحب اپنی کرسی سے اٹھے، مولانا فضل الرحمان سے کچھ کہا اور واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔ مولانا فضل الرحمان اپنی کرسی پر ہی متمکن رہے اور انھوں نے ایک طویل آیت کی تلاوت کی۔

میاں صاحب روسٹرم پر آئے اور انھوںنے تقریر شروع کی تو بہت سے لوگوں کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ صدر زرداری پہلے منتخب صدر ہیں جو باوقار انداز میں رخصت ہورہے ہیں، یہ میرے لیے بھی فخر کی بات ہے کہ پہلی بار کوئی منتخب وزیر اعظم، منتخب صدر کو رخصت کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج میرا دل رسمی، روایتی باتوں کی طرف مائل نہیں، میرے دل میں ماضی کی شیریں یادیں تازہ ہورہی ہیں، وہ دن کبھی نہیں بھولوں گا جب بے نظیر بھٹو اور زرداری ملنے آئے۔ جدہ میں ہوئی اس ملاقات میں زرداری صاحب نے خصوصی دلچسپی لی اور بے نظیر بھٹو شہید کے لندن کے استقبال نے میرے دل پر گہرا نقش چھوڑا۔مجھے ان پھولوں کی خوشبو نہیں بھولتی جو آپ کی صاحبزادیوں نے مجھے پیش کیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ زرداری صاحب اور بے نظیر نے سیاسی رابطوں میں پہل کی، آج ایک نئی روشن تاریخ رقم ہورہی ہے۔ صدر مملکت نے ہر قسم کی غیر آئینی تبدیلی کی مخالفت کرکے آئینی کلچر کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے 1997 میں اتفاق رائے کے ساتھ آئینی ترامیم کی روایت ڈالی تھی۔ صدر زرداری نے بڑی حکمت اور دانائی سے اس روایت کو قائم رکھا۔ ان کے عہد میں ہونے والی تمام ترامیم بھی اتفاق رائے سے ہوئیں۔ انھی کے عہد میں اٹھارہویں ترمیم ہوئی جس کے تحت وہ تمام صدارتی اختیارات وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کو واپس چلے گئے جنھیں آمریت کے دنوں میں چھین لیا گیا تھا، زرداری صاحب کی خوش دلانہ مرضی کے ساتھ 1973 کے آئین کی بڑی حد تک اپنی اصلی شکل میں بحالی دیر تک یاد رکھی جائے گی۔

میاں صاحب نے جس گرم جوشی اور خوش دلی سے باتیں کیں، انھیں سن کر بیشتر لوگوں کو حیرت ہورہی تھی۔ جناب زرداری جوابی تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو انھوں نے یہ کہہ کر حاضرین کو حیران کیا کہ اپنی دھرتی اورآنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے ہمیں ایک ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ پاکستان کو آج بھی مفاہمت کی ضرورت ہے اگر ہم نے پاکستان کو مزید مضبوط نہ کیا تو یہاں بھی مصر، شام، لیبیا جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ موجودہ حالات میں ملک سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لیے ہم وزیر اعظم کی قیادت میں کام کریں گے، سیاست 5 سال بعد نئے انتخابات کے اعلان پر شروع کریں گے۔ صدر زرداری نے کہا کہ ہمیشہ وزیراعظم ہائوس آتے ہوئے ڈر ہی لگا رہتا تھا کیونکہ یہیں سے میری بیوی اور بچے گرفتار ہوئے تھے۔ جب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے تو بھی یہاں کم ہی آتا تھا۔ کیونکہ یادیں انسان کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ میں نے تلخ یادوں، غم اور کمزوریوں کو اپنی طاقت بناکر ملک کی خدمت کرنے کی کوشش کی، تسلیم کرتا ہوں کہ پیپلز پارٹی نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں جو آئینی ترامیم کیں وہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں تھیں۔

نواز شریف کو اس تاریخی موقعے پر مبارکباد دیتا ہوں، مانتا ہوں صوبوں کو حقوق دینے، آغاز حقوق بلوچستان کے اعلان اور خیبرپختونخوا کا نام تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوئے۔ لیکن ہم نے درست سمت کی جانب بڑھنے کا آغاز کردیا ہے۔ آج پوری اسلامی دنیا میں آگ لگی ہوئی ہے ایک گروپ کو دوسرے سے لڑایا جارہا ہے۔ ملکوں پر حملے کے لیے ڈھونگ رچایا جاتا ہے اور کئی برسوں بعد اس کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ مصر، شام اور لیبیا میں جو کچھ ہوا اور ہورہا ہے وہ ہمیں معلوم ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک رکھنا ہوگا کہ اگر ہمارا ملک معاشی اور اقتصادی لحاظ سے مزید کمزور ہوا تو یہ ساری صورتحال یہاں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس لیے وزیر اعظم کو یقین دلاتا ہوں کہ آیندہ 5 سال ان کی حکومت اور ملک کو مضبوط کریں گے تاکہ ہم اپنے پیروں پر خود کھڑے ہوسکیں۔ ہم نے اور نواز شریف نے مل کر تاریخ رقم کی ہے۔ ہم نے سیاست میں فالٹ لائنز کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ایک دوسرے کی عزت کریں،ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر پگڑی نہ اچھالیں، آج کا لمحہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔

پرائم منسٹر ہائوس کے درو دیوار نے ایسی باتیں کبھی نہیں سنی تھیں۔ یہاں اور ایوان صدر میں سازشیں تو ہوتی رہی ہیں لیکن دونوں جانب سے اتنی شیریں بیانی کاکوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ہر میز پر مہمانوں کے ناموں کے کارڈ کے ساتھ کھانے کا مینو بھی رکھا تھا جس پر ایک مغل منی ایچر اپنی شوبھا دکھا رہا تھا۔انسٹرومینٹل موسیقی کا آغاز ہوا تو اقبال بانو اور ملکہ ترنم نورجہاں کے گیت پر سب ہی وجد کرتے رہے اور نواز شریف ہر گیت کے خاتمے پر تالیاں بجا کر داد دیتے رہے۔ ''تُو لاکھ چلے رے گوری تھم تھم کے، پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے'' اور ''تم جُگ جُک جیو مہاراج ہم توری نگریا میں آئے'' وہ ناقابل فراموش پاکستانی گیت جن کی راگنی اور روح برصغیر کی دھرتی سے رشتہ رکھتی ہے۔

زرداری صاحب نے اپنی تقریر میں دھرتی اور اپنی آیندہ نسلوں کو بچانے کی بات کی ، اسی طرح میزبان نے مہمان کی رواداری، مفاہمت اور حکمت و دانائی کو خراج تحسین ادا کیا۔ پرائم منسٹر ہائوس سے رخصت ہوتے ہوئے میں یہی سوچ رہی تھی کہ اگر پاکستان میں جمہوری روایات کا یہ تسلسل ابتدا سے قائم رہتا اور اقتدار پر غاصبانہ قبضے کی ریت نہ ڈالی گئی ہوتی تو آج ہم بلوچستان اور کراچی کو نہ رو رہے ہوتے اور نہ عالمی دہشت گردی کی جنگ ہمارے ملک میں لڑی جارہی ہوتی۔ ہم روادار اور ترقی پسند سماج ہوتے، جہاں جمہوریت اور انصاف کے چشمے سے اقلیت اور اکثریت سب ہی پیاس بجھاتیں۔

چلیں کوئی بات نہیں، دیر سے سہی، لیکن ہم نے درست راستے پرسفر تو شروع کردیا ہے۔

مقبول خبریں