کسی سفاک مسیحا سے پہلے

دیکھیں ان کی یہ کوشش کیا رنگ لاتی ہے۔


Abdul Qadir Hassan September 10, 2013
[email protected]

برطانیہ کے دانشمند حکمران نے ایک جنگ کے موقعے پر کہا کہ جنگ اس قدر نازک اور پیچیدہ معاملہ ہے کہ اسے جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس خوبصورت اور حکیمانہ بات کا انداز مستعار لے کر آج کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے قومی معاملات اور مسائل اس قدر نازک اور پیچیدہ ہیں کہ انھیں سیاستدانوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا کیونکہ پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے ہی تو یہ مسائل پیدا کیے ہیں۔ انھوں نے اس ملک کو خطر ناک مسائل کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔ ہماری 66 سالہ تاریخ اس کی گواہ ہے اور ابھی کوئی دن نہیں جاتا کہ اس کی کوئی نہ کوئی مثال سامنے نہیں آ جاتی اور قوم کو شرمندہ نہیں کر جاتی۔

دارالحکومت اسلام آباد کی پر رونق شاہراہ پر پانچ گھنٹے تک صرف ایک آدمی کا بلاخوف قبضہ اور بھاری پولیس کی کمال بزدلی جس ملک کی انتظامیہ اور حکمرانی ایسی ہو، کیا اس ملک کے حکمرانوں پر ملک کی سلامتی اور بقا کی جنگ چھوڑی جا سکتی ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جو سیاسی جرنیل نہیں لڑ سکتے تو پھر اور کون ہے۔ ہمارے فوجی جرنیلوں نے تو اپنے ہی ملک کو بار بار محاذ جنگ بنا کر اسے گوناگوں مسائل کے طوفان میں غرق کر دیا ہے اور پھر اسے پانی اور سائے سے محروم کسی ریگستان میں پھینک دیا ہے۔ ہمارے تازہ ترین مسائل ایک جرنیل حکمرانوں کے پیدا کردہ ہیں جن کے پھندے میں وہ قوم کی گردن پھنسا گئے ہیں اور قوم سسک رہی ہے اور وہ عیش کر رہے ہیں۔

ان مسائل اور معاملات کو حل کرنے کے لیے گھبرا کر ہم نے ایک اے پی سی منعقد کی، یوں ہمارا جتنا بھی سیاسی دانش کا اثاثہ تھا وہ ہم نے جمع کر دیا، بارہ جماعتوں کے اٹھاسی لیڈر یہی پاکستان ہے اور اسی کی قوت عمل اور حب وطن پر قوم کا انحصار ہے۔ ہمارے قومی مفاد کے محاذ کی جنگ کی یہی سپاہ یہی اس کی قیادت ہے۔ یہ جنگ ہمیں بہر حال انھی پر چھوڑنی ہے کیونکہ ہمارے پاس اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہمارے پاس کوئی ایسا عقلمند اور باہوش لیڈر نہیں جو قوم سے کہہ سکے کہ یہ جنگ کس نے لڑنی ہے چنانچہ جو کچھ میسر ہے قوم نے اسے ہی میدان میں جھونک دینا ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے قومی اتفاق رائے کی ایک مبارک کوشش کی ہے، دیکھیں ان کی یہ کوشش کیا رنگ لاتی ہے۔

اس اے پی سی سے پہلے میاں صاحب کی ایک مجاہدانہ کوشش بلکہ جسارت کو سیاستدانوں نے ہی ناکام بنا دیا ہے۔ انھوں نے ملک کے سب سے خطرناک شہر کراچی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے دو سرکاری افسروں کی تقرری کی کوشش کی کیونکہ مسائل انسانوں نے ہی حل کرنے ہیں لیکن سندھ کی حکومت نے ان دونوں کلیدی افسروں یعنی چیف سیکریٹری اور آئی جی سے ڈر کر انھیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ انتہائی تلخ اور ناقابل یقین حقیقت سامنے آئی کہ سندھ اور کراچی کی حفاظت اور امن کے ذمے دار خود نہ امن چاہتے ہیں نہ اپنے صوبے کی حفاظت۔ انھیں یہی خون آلود سندھ پسند ہے اور یہی دنیا کا سب سے زیادہ خطر ناک شہر کراچی پسند ہے۔

سندھ اور کراچی کی اصلاح میں ناکامی کا یہ حادثہ جو وزیر اعظم کی ذات پر سے گزرا ہے وہ ہمت کر کے اس سے بددل نہیں ہوئے اور سیاستدانوں پر مشتمل ایک کانفرنس منعقد کر لی، یوں ایک بار ناکامی کا زخم کھانے کے باوجود وہ پھر اپنی سیاسی برادری کو پکارنے پر مجبور ہو گئے گویا

دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے

پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے

وطن عزیز میں اصلاح احوال کے لیے دو ہی گروہ ہیں، سیاستدان اور فوج۔ قومی المیہ یہ ہے کہ ہم دونوں کو آزما چکے ہیں۔ 66 برس سے سیاستدانوں کو آزما رہے ہیں کیونکہ اس دوران جب فوج بھی آئی تو یہی سیاستدان اس کے دست و بازو بن گئے۔ مکتب سیاست میں بار بار فیل ہونے والے یہ سیاستدان بلکہ نام نہاد سیاستدان ایسے ہیں کہ ملک میں پہلا مارشل لا لگا تو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ایوب خان کے اصل عوامی حمایتی یہی سیاستدان بن گئے۔ جب ایوب خان کی کنونشن لیگ بنی تو اس میں اس وقت قائداعظم کی مسلم لیگ کے مرکزی مجلس عاملہ کے جتنے ارکان زندہ تھے، وہ بھی ایوب خان کی اس پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔ کل تک کے فوجی حکمران کے ساتھ بھی یہ موجود تھے اور آنے والے کل کے فوجی حکمرانوں کے ساتھ بھی ہوں گے۔ عرض یہ تھی کہ قوم اپنے سیاستدانوں اور بیرکوں میں عوام سے دور رہنے والے فوجیوں دونوں سے مایوس ہو چکی ہے۔

انگریز تو اب واپس نہیں آتے، وہ ایک عقلمند قوم ہے۔ امریکا آتا ہے لیکن وہ ہمیں سنبھالنے کے لیے نہیں ہمیں کھانے کے لیے۔ اب جائیں تو جائیں کہاں۔ خدا کرے آپ اپنے سیاستدانوں سے بے خبر رہیں کیونکہ ان کے جس قدر قریب ہوں گے اسی قدر مایوس ہی نہیں مشتعل بھی ہوں گے۔ یہ سیاستدان ایسے بے رحم لوگ ہیں کہ انھیں اپنے مفلوک الحال اور ایک وقت کی روٹی کو بھی ترستے ہوئے ووٹر یاد نہیں آئے۔ وہ وقت گئے جب سیاسی دنیا میں کرپشن کا کوئی تصور نہیں تھا اور لیڈر اپنی زمینیں اور اثاثے بیچ کر سیاست کرتے تھے۔ میں نے لندن میں اپنے سفیر میاں ممتاز دولتانہ کو ایک دن کچھ پریشان دیکھا تو ان کے ایک قابل اعتماد ملازم سے پوچھا کہ خیریت تو ہے پتہ چلا کہ جو زمین بیچی تھی ابھی تک اس کی رقم موصول نہیں ہوئی اور بیگم صاحبہ نے دکانوں سے ادھار لے لیا ہے۔

کسی بھی پرانے سیاستدان کا ذکر کریں تو وہ اپنے آڑھتی کا مقروض ہو گا یا زمین بیچ رہا ہو گا۔ اس طویل قصے کو چھوڑیں آج تو لیڈر ووٹ بھی لیتا ہے اور ووٹروں کو کسی نہ کسی بہانے لوٹتا بھی ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے انھی ساتھیوں کو مل بیٹھنے کا موقع دیا کہ وہ کوئی راہ نکالیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے یا پھر ہمارا سفاک مسیحا کب نمودار ہوتا ہے۔ آئیے سب مل کر اس کا انتظار کریں۔ ''اور انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہیں'' لیکن کیا خوب ہو کہ اس کی آمد سے پہلے ہی کوئی پر امن صورت نکل آئے۔

مقبول خبریں