خیبر پختونخوا حکومت کا ایک مثبت اقدام

تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کا اعلان کیا ہے


Zaheer Akhter Bedari September 10, 2013
[email protected]

PESHAWAR: تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت اپنے صوبے میں دوہرا نظام تعلیم ختم کردیتی ہے اور اپنے صوبے کے ہر بچے کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقعے فراہم کرتی ہے تو یہ اس کا اتنا بڑا کارنامہ ہوگا کہ نہ صرف پختونخوا میں اسے عوام کی حمایت حاصل ہوگی بلکہ تحریک انصاف کے اس اقدام کی پورے ملک میں نہ صرف تحسین کی جائے گی بلکہ دوسرے صوبوں کے عوام میں یہ احساس بھی پیدا ہوگا کہ ان کے ساتھ 66سال سے دوہرے نظام تعلیم کے ذریعے جو امتیاز برتا جارہا ہے اب اسے ختم ہونا چاہیے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ''ایک نئے پاکستان'' کی جو نوید عوام کو دیتے رہے ہیں، اس کی طرف ہم اسے پہلا قدم قرار دے سکتے ہیں۔ خیبر پختونخوا صدیوں سے جس انتہائی فرسودہ قبائلی نظام میں جکڑا ہوا ہے، اس نے ہی اس مذہبی انتہا پسندی کو جنم دیا ہے جو اپنے صوبے سے نکل کر سارے پاکستان میں ایک خطرناک وبائی مرض کی طرح پھیل رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں مذہبی انتہا پسند گروہ جہاں بے گناہ پختونوں کا خون بہارہے ہیں وہیں انھوں نے آنے والی نسلوں کو جاہل رکھنے کے لیے جو خطرناک مہم شروع کی ہے وہ ہے بچوں کے اسکولوں کو بارود سے تباہ کرنا۔ اس نیک مہم کا انتہائی گھنائونا مقصد یہ ہے کہ اس صوبے کے بچے تعلیم سے محروم رہیں کیوںکہ تعلیم یافتہ نسلوں کو قابو میں رکھنا مذہبی انتہا پسندوں کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔

خیبرپختونخوا کے قبائلی نظام کی مضبوطی کا عالم یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی سابقہ ترقی پسند حکومت کے مارکسٹ رہنما کھلے بندوں یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ ''ہتھیار ہمارا زیور ہے'' یہ ذہنیت قبائلی نظام کے ان رواجوں، روایتوں کی پیدا کردہ ہے جسے ساری دنیا نے متروک کردیاہے۔ لیکن یہ رسمیں، یہ رواج، یہ روایتیں خیبر پختونخوا کے قبائلی کلچر میں اتنی گہری ہیں کہ اے این پی جیسی ترقی پسند جماعت کے رہنما ان روایتوں کو آج بھی سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اے این پی کی حکومت اپنے پانچ سالہ دور میں تعلیم کو مفت اور دوہرے نظام تعلیم کو ختم کرکے خیبر پختونخوا کی نئی نسلوں کے لیے ترقی کے دروازے کھولتی لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اے این پی نے اس بہترین موقعے کو گنوادیا۔

اے این پی حکومت نے نہ صرف تعلیمی ضرورت کو نظر انداز کیا بلکہ ہتھیاروں کو اتنی اہمیت دی کہ صوبے میں صنعتوں کے فروغ کے بجائے ہتھیاروں کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے ہتھیار بنانے کے کارخانے بنانے کے لائسنس دھڑا دھڑ جاری کیے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اے این پی کے رہنما علم کو اپنا زیور قرار دینے کے بجائے ہتھیار کو اپنا زیور کہہ کر فخر کرنے لگے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر قوم کو اپنی روایتیں اپنے رسم بہت عزیز ہوتے ہیں لیکن بالغ نظر قومیں آہستہ آہستہ ان روایتوں، ان رواجوں، ان رسموں کی زنجیروں سے اپنے آپ کو آزاد کرانے کی کوشش کرتی ہیں جو ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی رہتی ہیں۔ آج ہم خیبر پختونخوا میں مذہبی انتہا پسندی کے جس طوفان کا مشاہدہ کررہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔

ہم حیران ہیں کہ مذہبی انتہا پسندی اس قدر اندھی بہری اور گونگی ہوگئی ہے کہ خود پیغمبر اسلام کی اس ہدایت کی نفی کررہی ہے جس میں انھوںنے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ ''اگر علم حاصل کرنے کے لیے چین جانا پڑے تو چین جائو'' اس فرمان کا مقصد یہ تھا کہ علم قوموں کی زندگی میں اس قدر اہم ہوتاہے کہ اس کے حصول کے لیے چین جیسے دور دراز ملک تک جانے کی سفری صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں تو انھیں برداشت کرنا چاہیے۔ لیکن یہ کس قدر حیرت اور شرم کی بات ہے کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے دعویدار گروہ خود اپنے صوبے میں پیغمبر اسلام کے فرمان کی نفی کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کو بموں سے اڑارہے ہیں، تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند لڑکیوں پر گولیاں چلارہے ہیں اور کھلے بندوں یہ اعلان کررہے ہیں کہ اسکول جانے والی لڑکیوں کو نشانہ بنایاجائے گا۔

اس خطرناک اور دہشت زدہ ماحول میں اگر تحریک انصاف کی حکومت دوہرے نظام تعلیم کو ختم کرنے کی بات کرتی ہے تو یقیناً اس کی جماعت کو داد دینا چاہیے۔ ویسے تو دوہرا نظام تعلیم اس ملک کی اقتداری اشرافیہ کی وہ سازش ہے جس کا مقصد نچلے طبقات کو سیاست سمیت زندگی کے ہر شعبے میں آگے آنے سے روکنا ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں تعلیم کو عام اور لازمی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ہماری سیاسی ضرورتیں اس قدر اندھی بہری اور گھنائونی ہوگئی ہیں کہ ان نوجوانوں کو جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بڑے اور ترقی یافتہ شہروں میں آرہے ہیں ان کا ذہن حصول تعلیم سے ہٹاکر تعلیمی اداروں پر قبضے کرنے کی طرف لگایا جارہا ہے۔ جس کا نتیجہ شہروں میں نسلی اور لسانی نفرتوں کی شکل میں ہمارے سامنے آرہاہے اور نئی نسلیں کتابوں کے بجائے ہتھیاروں کو اہمیت دے رہی ہیں اور نادانستہ طورپر اس راستے پر چل پڑی ہیں جس راستے پر دہشت گرد چل رہے ہیں۔

پاکستان کی سیاست اور اقتدار پر قابض وڈیری کلاس اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر غریبوں کے بچوں کو تعلیمی سہولتیں فراہم کی گئیں اور ان پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھول دیے گئے تو پھر اقتدار پر ان کا قبضہ خطرے میں پڑجائے گا۔ غریب طبقات کی نئی نسلوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے ان ظالموں نے دوہرے نظام تعلیم کو اس قدر مستحکم کردیا ہے اور معاشی طورپر بچھڑے ہوئے طبقات کے لیے تعلیم کو اس قدر مہنگی کردیا ہے کہ عام آدمی کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہوگیاہے۔ سیاست اور اقتدار کی طرف غریب طبقات کی پیش رفت کو روکنے کے لیے دوہرے نظام تعلیم کے ساتھ ایک ایسا انتخابی نظام بھی رائج کیاگیاہے جس میں حصہ لینے کے لیے کروڑوں روپوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ طبقات اور ملک کی 98فیصد آبادی جو دو وقت کی روٹی سے محروم ہے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کروڑوں کا سرمایہ کہاں سے لاسکتی ہے۔

اگر خیبرپختونخوا کی حکومت یکساں نظام تعلیم رائج کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو لازماً دوسرے صوبوں کے عوام میں بھی یہ خواہش پیدا ہوگی کہ ان کے صوبوں میں بھی یکساں نظام تعلیم رائج ہو اور یہ خواہش ایک توانا تحریک میں بدل سکتی ہے اور کسی ایسی توانا تحریک کو روکنا نہ اشرافیہ کے بس کی بات رہے گی نہ اس کی ریاستی مشینری کے بس کی بات رہے گی۔ جس کے پیچھے اٹھارہ کروڑ عوام کی طاقت ہوگی۔ المیہ یہ ہے کہ دوہرے نظام تعلیم کو برقرار رکھنے کے لیے ہماری اشرافیہ ایسے ایسے بے ہودہ ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے جو نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ قابل مزاحمت بھی ہیں۔ اس حوالے سے سندھ حکومت کے تعلیمی اداروں کی آزادی کو ختم کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے جو اختیارات تعلیمی اداروں کے سربراہوں سے چھین کر اپنے ہاتھوں میں لے لیے ہیں وہ تعلیم پر اشرافیہ کا قبضہ برقرار رکھنے اور اسے مستحکم کرنے کی سازش کا ایک حصہ ہے جس کے خلاف طلبا تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو مزاحمتی تحریک چلانا چاہیے۔ اب تو دوہرے نظام تعلیم کا خاتمہ اور مفت اور لازمی تعلیم کے نظام سے کم عوام کسی بات پر راضی نہیں ہوںگے اور خیبر پختونخوا حکومت کے اقدامات ان کے لیے تحریک کا باعث بنیںگے۔ بشرطیکہ یہ اعلان محض اعلان نہ رہے اس پر سو فیصد عمل کیاجائے۔

مقبول خبریں