جنرل کیانی کا مثبت بیان
ہم چاہتے ہیں کہ بلوچ اعلیٰ عہدوں پر کام کریں، صرف مزدور نہ بنیں
ہم چاہتے ہیں کہ بلوچ اعلیٰ عہدوں پر کام کریں، صرف مزدور نہ بنیں۔ 20 ہزار بلوچ فوج میں بھرتی کیے، ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور سبی میں ترقیاتی کام ہمارے منصوبے کا ثبوت ہیں۔ ان خیالات کا اظہار فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بگٹی قبیلے کے علاقے سوئی ملٹری کیڈٹ کالج میں یومِ دفاع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے اس موقعے پر کہا کہ فوج بلوچستان میں کہیں آپریشن نہیں کررہی، پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری (F.C )اور لیوی اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ اس موقعے پر بلوچستان کے قوم پرست وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوکریاں بلوچ عوام کا حق ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کے عوام واپس آجائیں، ہم ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ بلوچستان پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔
بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ فوجی آپریشن ہوئے ہیں اور نئی صدی میں بلوچستان کے حالات بدترین دور میں داخل ہوچکے ہیں اور اب تک صورتحال بہتر ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ بلوچستان کی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان کی صدیوں سے ایک علیحدہ حیثیت تھی اور جب بھی بیرونی حملہ آوروں نے بلوچستان کو فتح کرنے کی کوشش کی تو بلوچ عوام نے زبردست مزاحمت کی۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں قائد اعظم ریاست قلات کی خودمختاری کے حامی تھے۔ انھوں نے ریاست کے حقوق کا ایک وکیل کی حیثیت سے دفاع کیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے وقت کوئٹہ برطانوی حکومت کے زیرِ اثر تھا۔ افغانستان سے متصل قبائلی علاقے خودمختار حیثیت کے حامل تھے۔ بلوچستان میں قلات، مکران، لسبیلہ وغیرہ کی ریاستیں موجود تھیں جو اپنے اندرونی معاملات میں آزادانہ فیصلے کرتی تھیں۔
بلوچستان کی سب سے بڑی ریاست قلات کی اسمبلی نے مکمل خودمختاری کی قرارداد منظور کی تھی۔ پاکستان کے قیام کے بعد منظرنامہ تبدیل ہوگیا۔ خان قلات کے بھائی شہزادہ عبدالکریم نے مرکز کی بالادستی کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ پناہ لینے کے لیے افغانستان چلے گئے اور جواب میں پہلا فوجی آپریشن ہوگیا۔ بلوچستان میں دوسرا فوجی آپریشن اس وقت شروع ہواجب 1958 میں صدر اسکندر مرزا کی حمایت سے خان قلات نے ریاست کی خودمختاری کا اعلان کیا۔ اس آپریشن کے دوران خان قلات کو نظربند کیا گیا۔ اہم قومی رہنما میر غوث بخش بزنجو، نواب اکبر بگٹی، سردار عطاء اﷲ مینگل اور سردار خیر بخش مری سمیت سیکڑوں افراد گرفتار ہوئے۔ بلوچوں نے فوج کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔ کنگ آف جھالاوان سردار نوروز خان نے پہاڑوں پر پناہ لی۔ فوجی حکام نے بعض سرداروں کے ذریعے سردار نوروز خان سے رابطہ کیا اور فوجی افسران نے قرآن مجید پر حلف اٹھا کر یقین دلایا کہ سردار نوروز خان پہاڑوں سے اتر آئیں گے تو ان کا احترام کیا جائے گا مگر سردار نوروز خان ، ان کے بیٹے اور بھتیجوں کو حیدرآباد جیل میں پھانسی دیدی گئی اور سردار نوروز کچھ عرصے بعد حیدرآباد جیل میں انتقال کرگئے۔
پھر پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں بلوچستان کی پہلی منتخب حکومت کو برطرف کیا گیا۔ نیشنل عوامی پارٹی کی اس حکومت کے وزیر اعلیٰ سردار عطا ء اﷲ مینگل اور گورنر میرغوث بخش بزنجو تھے۔ نیپ کی قیادت کو گرفتار کر کے حیدرآباد سازش کیس کا مقدمہ چلایا گیا۔ میر غوث بخش بزنجو، عطاء اﷲ مینگل اور خیر بخش مری کے علاوہ ولی خان، ارباب سکندر خلیل، حبیب جالب، ملک معراج محمد خان، علی بخش تالپور اور صدیق بلوچ سمیت بہت سے لوگوں کو اس مقدمے میں ملوث کیا گیا۔ آپریشن میں عطاء اﷲ مینگل کے صاحبزادے اسد مینگل لاپتہ ہوگئے۔ سرکاری طور پر آج تک ان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ اس آپریشن میں 10 ہزار سے زائد بلوچ ہلاک ہوئے۔ فوج کے 5افراد کی ہلاکت کی خبریں غیر ملکی اخبارات میں شایع ہوئیں۔ پھر چوتھا آپریشن اس صدی کے آغاز میں شروع ہوا۔ اس آپریشن میں نواب اکبر بگٹی جاں بحق ہوئے۔
نواب اکبر بگٹی نے 1947 میں پاکستان کے قیام اور بلوچستان کے انضمام کی حمایت کی تھی۔ پاکستان کی سالمیت پر یقین رکھنے والے سردار اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد نوجوانوں میں علیحدگی کے رجحانات کو تقویت ملی۔ بی ایس او کے رہنما ڈاکٹر اﷲ نذر کو کراچی میں ان کے ساتھیوں سمیت خفیہ عسکری ایجنسیوں نے گرفتار کیا اور کئی ہفتے اپنے سیف ہاؤس میں نازی دور کے ہتھکنڈوں کو ان نوجوانوں پر آزما یا۔ ڈاکٹر اﷲ نذر اور ان کے ساتھیوں کو کئی ماہ کی نظربندی کے بعد رہا کیا گیا۔ وہ حالات سے اتنے بددل ہوگئے کہ پہاڑوں پر چلے گئے۔ پرویز مشرف حکومت نے پاکستان میں سیاست کی حمایت کرنے والے مینگل خاندانوں کو ایک دفعہ پھر تشدد کا نشانہ بنایا۔ سردار اختر مینگل کو ایک سال سے زیادہ عرصہ کراچی سینٹرل جیل میں گزارنا پڑا۔ پھر بلوچ قوم پرستوں کے اچانک لاپتہ ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔ دوسری طرف پنجاب اور دوسرے صوبوں سے آ کر آباد ہونے والے اساتذہ، ڈاکٹروں، صحافیوں، پولیس ، تاجروںاور سرکاری افسران کو قتل کیا جانے لگا۔یہ شدید مگر افسوس ناک رد عمل تھا جس کے خلاف اسکول کے اساتذہ سے لے کر یونیورسٹی کے اساتذہ تک بلوچستان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ یوں تعلیمی نظام مفلوج ہوا۔
اس کے ساتھ ہی مذہبی انتہاپسندوں نے ہزارہ برادری کی نسل کشی شروع کردی۔ صوبے میں پیپلز پارٹی کے سردار اسلم رئیسانی کی حکومت تھی۔ وہ اس معاملے پر توجہ نہیں دے سکے۔ اس کے کچھ عرصے بعد مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی نے متعدد بار کہا کہ ان کی حکومت کی عملداری صرف کوئٹہ تک محدود ہے، باقی صوبے پر فرنٹیئر کانسٹیبلری حکومت کررہی ہے۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری نے علیحدگی پسند گروہوں کے خلاف آپریشن کیے۔ پورے صوبے میں سخت حفاظتی اقدامات کے اعلان ہوئے مگر ان ڈویژن میں ایف سی کے علاوہ کوسٹ گارڈ نے بھی عوام کو ہراساں کرنا شروع کردیا۔ یوں بلوچوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان خلیج گہری ہوتی چلی گئی۔ بلوچ علیحدگی پسندوں اور مذہبی انتہاپسندوں میں کہیں نہ کہیں مفاہمت ہے۔ جب لاپتہ افراد کا معاملہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کے ایجنڈا میں شامل ہوا تو سپریم کورٹ نے بھی اس صورتحال کا نوٹس لیا۔ بلوچستان بے امنی کیس کی سماعت کے دوران یہ ثابت ہوا کہ بلوچ قوم پرستوں کے اغواء اور مسخ شدہ لاشوں کے معاملے میں ایجنسیاں بھی ملوث ہیں مگر حالات بہتر نہیں ہوئے۔
مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بلوچستان کی صورتحال پر سنجیدہ فیصلہ کیا۔ مسلم لیگ ن کو نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر مالک کی حمایت ملی۔ یوں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا سیاسی کارکن وزیر اعلیٰ بنا۔ دوسرے قوم پرست رہنما سردار اختر مینگل اپنے تحفظات کے باوجود پارلیمانی سیاست پر تیار ہوگئے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اعلان کیا کہ تمام ایجنسیاں اور قانون سازی کرنے والے ادارے وزیر اعلیٰ کے زیر کمان ہونگے مگر عملی طور پر حالات بہتر نہیں ہوئے۔ کوئٹہ میں پولیس لائن پر حملہ ہوا۔ سردار مینگل کی قیام گاہ پر دستی بم پھینکے گئے اور کراچی میں دو ماہ کے دوران 24 بلوچ قوم پرستوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ خضدار میں دو بلوچ قوم پرست پروفیسروں پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ ایک پروفیسر حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے الزام لگایا کہ مقتدرہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے قائم ہونے والے مسلح گروہ ان وارداتوں کے ذمے دار ہیں۔ اس صورتحال میں عوام کو تبدیلی کی کوئی رمق نظر نہیں آرہی۔
جنرل کیانی کا حالیہ بیان مثبت تبدیلی ہے۔ انھیں آپریشن پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ ڈاکٹر مالک نے فوجی آپریشن کے دوران بد دل ہونے والے بگٹی قبیلے کے افراد سے واپسی کی اپیل کی ہے۔ ڈاکٹر مالک نے اس ضمن میں مذاکرات پر زور دیا، انھوں نے سیاسی جماعتوں اور فوج سے تعاون کی اپیل کی ہے۔اگر اسٹیبلشمنٹ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک کے ساتھ مکمل تعاون کرے ،تمام گمشدہ افراد اپنے گھروں کو پہنچ جائیں اور سیاسی کارکنوں کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے تو 65 برسوں میں پیدا ہونے والا اعتماد کا بحران کم ہونا شروع ہوجائے گا۔