اترپردیش میں مسلم کش فسادات جاری ہلاکتیں 41 ہوگئیں مسلمان ہجرت پر مجبور

سیکڑوں مسلمان خاندان مدرسوں، مساجد اور رشتے داروں کے گھروں میں پناہ لینے پرمجبور


Net News/News Agencies September 11, 2013
بھارت مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ کرے اور علاقے میں امن وامان قائم کرے ،ترجمان سیکریٹری جنرل او آئی سی فوٹو؛ فائل

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع مظفرنگر میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں مرنے والوں کی تعداد 41ہوگئی ہے، علاقے میں کشیدگی برقرار ہے، کرفیو کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مختلف علاقوں میں کھیتوں سے اب بھی لاشیں برآمد ہورہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بہت سے خاندانوں نے حملے کے خوف اور دہشت کے سبب گنے کے کھیتوں میں پناہ لی ہوئی ہے جبکہ کئی گائوں کے لوگوں کو اپنا گائوں چھوڑ کر دیگر علاقوں میں پناہ لینی پڑی۔ حکام نے کشیدگی کے سبب پڑوسی اضلاع میرٹھ، شاملی اور سہارنپورمیں بھی فورسز کو تعینات کیا ہے جب کہ میرٹھ شہرمیں فوج نے مارچ کیا۔ بی بی سی کے مطابق تشددکی لہر شہری علاقے سے پھیلتی ہوئی دیہی علاقوں تک پہنچ گئی ہے جہاںزبردست کشیدگی کا ماحول ہے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق فسادات کے باعث مسلمانوں نے ہجرت شروع کردی ہے۔ خوفزدہ مسلمان وہاں سے بھاگ کر نزدیکی دیہات کے مدرسوں، مساجد اور رشتے داروں کے گھروں میں پناہ لے رہے ہیں۔



ایک گاؤں جوالا کے پردھان عبدالغفارکا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں 5 ہزار لوگ آچکے ہیں۔ علاقے میں تعینات ایک فوجی نے بتایا کہ ہم نے کم ازکم 10خاندانوں کوبچایاہے جن کے گھرجلائے گئے تھے۔ علاقے کی صورتحال اتنی خوفناک تھی جو ہم نے جنگ کے حالات میں بھی نہیں دیکھی۔ اسلامی تعاون تنظیم اوآئی سی نے اترپردیش میں مسلم کش فسادات پر گہری تشویش کااظہار کیاہے۔ اوآئی سی کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں کم سے کم 28افراد ہلاک اور سیکڑوں خاندان اپنا گھربار چھوڑنے پرمجبور ہوگئے ہیں جنھیں بری طرح تشددکا نشانہ بنایاگیا ہے۔ اوآئی سی نے بھارت پرزور دیاہے کہ وہ مسلم شہریوںکے جان ومال کے تحفظ کے لیے علاقے میں امن وامان قائم کرے۔

مقبول خبریں