طالبان افغانستان میں جنگ بندی پر متفق

مذاکرات کے نتیجے میں طالبان نے عام شہریوں کے خلاف تشدد کی کارروائیاں بند کرنے کی بھی یقین دہانی کرا دی ہے۔


Editorial July 11, 2019
مذاکرات کے نتیجے میں طالبان نے عام شہریوں کے خلاف تشدد کی کارروائیاں بند کرنے کی بھی یقین دہانی کرا دی ہے۔ فوٹو : فائل

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور افغانستان کے نمایندوں کے درمیان منعقد کی گئی 2روزہ آل افغان کانفرنس میں قیام امن اور18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر اتفاق ہو گیا۔ طالبان کے نمایندوں اور بااثر افغان رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان امن کے لیے ایک نہایت اہم روڈ میپ پر اتفاق ہو گیا ہے۔

امریکی نمایندہ برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد نے کہا کہ وہ یکم ستمبر تک افغانستان میں قیام امن کے حتمی معاہدے کے لیے پر امید ہیں جس کے بعد امریکا اور نیٹو کی افواج کو انخلا کی اجازت دی جائے گی۔

زلمے خلیل زاد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان نمایندوں اور طالبان وفود کی2 روزہ کانفرنس کے بعد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے آٹھویں مرحلے کا آغاز کریں گے۔ آل افغان کانفرنس میں طالبان، افغان حکومت کے نمایندوں، خواتین اور دیگر نامور شخصیات نے شرکت کی، جس کا مقصد افغان معاشرے میں اتفاق رائے اور ہم آہنگی قائم کرنا تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد افغانستان میں اسلامی قانونی نظام نافذ ہو گا، اسلامی اقدار کے تحت خواتین کے حقوق کی حفاظت کی جائے گی اور تمام قومیتوں کے لیے مساوات کو یقینی بنایا جائے گا۔

طالبان کی جانب سے جنگ بندی پر متفق ہونا یقیناً خوش آیند ہے ،اگر اس پر اپنے معنی ومفہوم کے مطابق عمل کیا جاتا ہے تو پھر وہ دن دور نہیں جب افغانستان میں امن کے نئے دور کا آغاز ہو جائے گا۔ یہ معلوم ہوا ہے کہ معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے آیندہ مذاکرات کے لیے کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ افغانستان میں نافذ کیے جانے والا اسلامی نظام کیسا ہو گا اور اس کی خصوصیات اور جزئیات کیا ہوں گی، اور آئینی اصلاحات کیسے لائی جائیں گی اور طالبان سے وابستہ مقامی جنگجوؤں کا کیا مستقبل ہو گا۔

فریقین کو اسلامی اقدار کے تحت خواتین کے حقوق کی تعریف اور ایک نگران انتظامیہ کے قیام اور انتخابات کے انعقاد کے وقت سے متعلق بھی بات چیت کرنی ہو گی۔ جن باتوں پر اتفاق رائے کا دعویٰ کیا گیا ہے ان میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان نے سرکاری اداروں اور عوامی مقامات جیسا کہ اسپتالوں، اسکولوں اور ہائیڈرو الیکٹرک ڈیمز پر حملہ نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔یہ ایسے مقامات ہیں جہاں کسی قسم کی کارروائی سے جانی اور مالی نقصان بہت زیادہ ہوتا اور خوف و ہراس پھیلتا ہے۔

زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ 2 روزہ کانفرنس میں جنگ بندی پر بات چیت کی جائے گی لیکن مشترکہ اعلامیے میں جنگ بندی کے بارے میں ایسا کچھ شامل نہیں ہے۔ زلمے خلیل زاد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان نمایندوں اور طالبان وفود کی2 روزہ کانفرنس کے بعد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے آٹھویں مرحلے کا آغاز کریں گے ۔ جرمنی اور قطر کی جانب سے منعقد کی گئی، کانفرنس میں شرکا نے افغان حکومت کے باقاعدہ نمایندوں کے بجائے عام افغانیوں کے طور پر طالبان کے ساتھ شرکت کی ہے۔

امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں انسداد دہشت گردی کی ضمانت کی تصدیق کے بعد امریکا اور نیٹو کی افواج کا انخلا عمل میں آنے کا امکان ہو گا، بین الافغان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے طریقے اور ایک حتمی جنگ بندی سے متعلق معاہدے پر توجہ مرکوز کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا امریکا کے خصوصی نمایندہ زلمے خلیل زاد اس اتفاق رائے کے بعد دوحہ سے بیجنگ اور واشنگٹن کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ چینی اور امریکی حکام کے ساتھ صلاح مشورہ کریں گے اور طالبان کے ساتھ اگلے مذاکرات کے دور کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ صورت حال اس قدر نازک ہے کہ اس کے نتیجے میں اٹھارہ سال سے جاری جنگ کے خاتمہ کا امکان پیدا ہو رہا ہے۔ مذاکرات کے نتیجے میں طالبان نے عام شہریوں کے خلاف تشدد کی کارروائیاں بند کرنے کی بھی یقین دہانی کرا دی ہے۔ زلمے خلیل زاد نے دوحہ قطر میں طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور انھوں نے بعد ازاں ٹویٹ میں مشترکہ اعلامیے کی فوٹو کاپی بھیجی۔

انھوں نے مزید کہا کہ آخری چھ دن بہت کامیاب اور مثبت رہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے امن معاہدے کے چار پہلوؤں میں بہت کامیابی حاصل کی ہے۔ ان پہلوؤں میں انسداد دہشت گردی اور بیرونی افواج کے انخلا کے علاوہ جامع جنگ بندی شامل ہیں۔ زلمے خلیل زاد نے یقین دہانی کرائی کہ امریکا افغان امن معاہدے کی مکمل پاسداری کرے گا اور دیکھے گا کہ اس میں کہیں کوئی رخنہ اندازی نہ ہو۔

مقبول خبریں