آٹے پر بھی سیلزٹیکس

آٹے کی قیمت میں اضافے کے براہ راست اثرات عام آدمی کی زندگی پر پڑتے ہیں۔


Editorial July 11, 2019
آٹے کی قیمت میں اضافے کے براہ راست اثرات عام آدمی کی زندگی پر پڑتے ہیں۔ فوٹو: فائل

آٹا بھی مزید مہنگا ہونے جا رہا ہے۔ایف بی آرکی جانب سے تندوروں پر فروخت ہونے والی 80 کلو آٹے کی بوری کی قیمت میں17 فیصد جنرل سیلزٹیکس عائد ہونے کی صورت میں 600 روپے سے زائد اضافہ متوقع ہے، جب کہ تندور مالکان بھی روٹی ، نان کی قیمت بڑھا دیں گے جب کہ میدہ اور فائن آٹے پر بھی 10 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہوگا۔

ایک ایسا زرعی ملک جہاں گندم نہ صرف وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے بلکہ پڑوسی ملک میں اسمگل بھی ہوجاتی ہے۔ وہاں کے عوام مہنگے داموں آٹا خریدیں اچنبھے کی بات ہے۔ حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو بیس کلو سے زائد پیکنگ آٹے پر جی ایس ٹی کا نفاذ عوام کا معاشی استحصال ہے ،کیونکہ تندور سے روٹی خریدکرکھانے والوں کی اکثریت مزدوروں کی ہوتی ہے اور اگر جی ایس ٹی لاگو ہوجاتا ہے تو لامحالہ تندور مالکان بھی روٹی کی قیمت بڑھا دیں گے۔

حکومت کے وزیرمملکت حماد اظہر نے 20-2019 کے بجٹ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے گھی، آٹا، پھلوں ، سبزیوں اورخام گوشت پرکوئی ٹیکس عائد نہیں کیا اور ٹیکسز صرف برانڈڈ کارن فلور،'درآمدی پھلوں ، سبزیوں اور پرسیسڈگوشت پرلگایا گیا ہے۔ حکومتی وزراء جو بیان دیتے ہیں وہ محض بیان ہی ہوتا ہے اس کا حقیقت سے دورکا بھی تعلق نہیںہوتا ۔آٹا پر بجٹ میں ٹیکس نہیں لگایا گیا تھا تو پھر اب یہ سیلز ٹیکس کیوں؟خیبر پختونخوا میں گھریلو استعمال کے لیے 40 کلو وزن کی پیکنگ میں آٹا فروخت ہوتا ہے، اس آٹے کی قیمت میں بھی 300 روپے سے زائد کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

84 کلو وزن والی میدہ اور فائن بوری کی موجودہ قیمت 3900 روپے سے زائد ہے، 10 فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ کی صورت میں اس کی قیمت میں بھی 400 روپے تک اضافہ متوقع ہے۔خیبر پختونخوا میں گھروں میں ہر ماہ بوریوں کی صورت میں آٹا لایا جاتا ہے، جنرل سیلز ٹیکس کی زد میں خیبر پختونخوا کے عوام بھی آئیں گے۔ ایف بی آر کو جو اختیارات کی کھلی چھوٹ ملی ہے، اس نے ہرطرف اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا ہے، مارکیٹ میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

آٹے کی قیمت میں اضافے کے براہ راست اثرات عام آدمی کی زندگی پر پڑتے ہیں۔ عام آدمی کو روٹی کے لالے پڑے ہیں، یہ کیسی تبدیلی ہے جس نے عوام کا جینا دوبھرکردیا ہے، حکومت کو آٹے کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا فوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ عوام کو کچھ تو ریلیف مل سکے۔

مقبول خبریں