آئی ایم ایف کی شرائط پرمعاشی اہداف کا حصول مشکل ہے صدر ایف پی سی سی آئی

آئی ایم ایف کی پالیسیاں ترقی میں رکاوٹ ڈال کر عوام کی زندگی مشکل بناتی ہیں، زبیر ملک


Business Reporter September 12, 2013
بمالی و تجارتی خسارے نے ملک کو کہیں کانہیں چھوڑا، ترقی کیلیے سخت فیصلے کرناہونگے، زبیر ملک فوٹو : فائل

ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے ہوتے ہوئے اہداف حاصل کرنا اورملکی ترقی کو یقینی بنانا حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے،آئی ایم ایف کی پالیسیاں ترقی میں رکاوٹ ڈال کر عوام کی زندگی مشکل بناتی ہیں جبکہ حکومتی پالیسی کاروبار اورسرمایہ کاری کے فروغ کو اولیت دیتی ہیں۔

اس تضاد کی موجودگی میں آئی ایم ایف کو ناراض اور عوام کے معیار زندگی پر سمجھوتہ کیے بغیر سماجی و اقتصادی ترقی اکنامک منیجروں کا امتحان ہے۔ زبیر احمدملک نے کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ کاروباری طبقہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، کاروباری برادری آنے والے وقت میںروپے کی قدر، زرمبادلہ کے ذخائر، محاصل اور برآمدات میں مزید کمی جبکہ بیروزگاری، پیداواری لاگت اور ڈیفالٹ کی شرح میں اضافہ دیکھ رہی ہے۔



150ارب کی گیس لیوی، بجلی کی قیمت میں 30 تا50 فیصد اضافے سے توانائی کی چوری اور صارفین کی جانب سے عدم ادائیگی کی شرح بڑھے گی۔ زبیر احمد ملک کا کہنا تھا کہ ان حالات میں حکومت کی جانب سے معیشت کو سنبھالا دینے کے فیصلے جن میں 5 سال میں شرح نمو کو 6فیصد، مالی خسارے کو 4 فیصداور ٹیکس کا تناسب جی ڈی پی کے 15فیصد تک لانا، سرمایہ کاری کو 20 فیصد تک بڑھانا، 10ہزار میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کرنا، خوراک کی پیداوار اور تعلیم پر اخراجات کو 4 فیصد تک بڑھانا،80 فیصد شرح خواندگی، صحت کے شعبے کو 2 فیصد اضافہ اور 30 لاکھ اسامیاں پیدا کرنا شامل ہیں مشکل ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ مالی اور تجارتی خسارے نے ملک کو کہیں کا نہیں رکھا، ترقی کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ سماجی، سیاسی اور اقتصادی صورتحال بہتر بنائی جا سکے جس کے بعد اقتصادیات کے بنیادی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ملک ہر قسم کے مسائل سے نجات دلا کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل یقینی بنایا جائے۔