خواتین کے حقوق کا تحفظ اور ریاست کی ذمے داری

جہاں غربت اور پسماندگی زیادہ ہے وہاں عورتوں پر تشدد اور ان کے خلاف جرائم کی وارداتیں بھی زیادہ ہیں۔


Editorial July 13, 2019
جہاں غربت اور پسماندگی زیادہ ہے وہاں عورتوں پر تشدد اور ان کے خلاف جرائم کی وارداتیں بھی زیادہ ہیں۔ فوٹو: فائل

خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور تشدد کی وارداتیں تشویشناک ہیں۔ اگرچہ اس وقت عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کے بارے میں بہت سی تنظیمیں موثرکردار ادا کر رہی ہیں جن کے سبب آگاہی کی اس مہم میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے عوام میں شعور پیدا ہوا اور حکومتوں پر دباؤ بڑھا جس کے باعث وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بہت سے قوانین بنانے پر مجبور ہو گئیں۔

اب معاملات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ خواتین پر جہاں بھی مظالم ہوں' اس کے خلاف اس قدر شدومد سے آواز اٹھائی جاتی ہے کہ ظلم کرنے والے کے خلاف قانون حرکت میں آنے پر مجبور ہو جاتا اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین کے حوالے سے شعور میں نمایاں اضافہ ہونے سے ریاستی سطح پر خواتین کے حقوق کا بھرپور تحفظ کیا جانے لگا ہے۔

سیاسی سطح پر بھی خواتین کی ایک بڑی تعداد کافی متحرک ہو چکی ہے۔ صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں بھی خواتین کی نمایاں تعداد نظر آتی ہے مگر اس سب کے باوجود خواتین پر مظالم کے واقعات کا رونما ہونا افسوسناک امر ہے۔ گھریلو سطح پرلڑائی جھگڑے' خاندانی دشمنی یا کسی بھی وجہ تنازع کے سبب خواتین کے خلاف کارروائیاں معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک مقدمہ میں تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ خاتون پر تیزاب گردی کا مجرم کسی رو رعایت کا مستحق نہیں' اس کیس میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا خواہ متاثرہ خاتون مجرم کو معاف کر دے لیکن قانون اسے معاف نہیں کرے گا' تیزاب گردی سے جلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے جس کی سزا عمر قید ہے' اپنی سنگینی کے اعتبار سے یہ ریاست کے خلاف جرم ہے لہذا اس کی کوئی معافی نہیں۔قابل افسوس امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی بھی وجہ تنازع پر عورت کو آسان ہدف سمجھتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

ترقی کے اس دور میںعورت جہاں زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ نمایاں کردار ادا کر رہی ہے وہاں ہمارے ہاں پسماندہ اور دیہی علاقوں میں عورت آج بھی ظلم کا نشانہ بنائی جاتی ہے'کہیں کاروکاری کے نام پرظلم ڈھایا اور کہیں مردوں کے جرائم پر انھیں تحفظ دینے کے لیے پنچایتی فیصلے میں عورت کو ونی کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔ عورت کی تعلیم کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں ۔ جہاں غربت اور پسماندگی زیادہ ہے وہاں عورتوں پر تشدد اور ان کے خلاف جرائم کی وارداتیں بھی زیادہ ہیں۔

عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے جہاں قوانین پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے وہاں غربت اور پسماندگی کا خاتمہ کر کے تعلیم اور روزگار کے مواقعے بھی عام کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

مقبول خبریں