بلدیہ سے ناگا ساکی تک۔۔۔

لاکھوں کروڑوں انسان سیکڑوں مزدوروں کو آہستہ آہستہ آگ کی خوراک بنتے دیکھتے رہے


Zaheer Akhter Bedari September 12, 2013
[email protected]

ٹھیک ایک سال پہلے 11 ستمبر کا وہ دن، وہ ہولناک دن ذہن کے پردوں پر کل کے واقعے کی طرح موجود ہے۔ ٹی وی چینلوں پر ایک بریکنگ نیوز آئی بلدیہ کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں آگ لگ گئی۔ سیکڑوں مزدور آگ کے شعلوں میں پھنس گئے۔

تھوڑی دیر بعد جب ٹی وی کے کیمرہ مین وہاں پہنچے تو انسانوں نے انسانوں کو آگ میں جلنے کا ایک خونی اور ہولناک منظر دیکھا۔ فیکٹری کی دوسری اور تیسری منزل پر چاروں طرف سے آگ کے شعلوں میں جھلستے ہوئے لوگ اس بھیانک موت سے بچنے کے لیے ادھر سے ادھر بھاگ رہے ہیں باہر نکلنے کا ہر راستہ مسدود ہے، فیکٹری کے مین گیٹ بند کروا کر اسے تالے لگا دیے ہیں، اسے ڈر ہے کہ مزدور کہیں اس کے گارمنٹ لے کر نہ بھاگ جائیں۔ ٹی وی اسکرین پر زندگی سے مایوس انسان تیسری منزل سے ہاتھ پھیلا پھیلا کر مدد کے لیے چلا رہے تھے فیکٹری سے باہر جمع ہجوم ان کے لیے اس لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا کہ اندر جانے کا کوئی راستہ نہ تھا اور جہنمی شعلے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔ بے شمار مزدور دم گھٹ کر بے ہوش ہو رہے تھے اور آگ کے بے رحم شعلے ان جیتے جاگتے ہنستے بولتے مزدوروں کو جلا کر کوئلہ بنا رہے تھے۔

فائر ٹینڈر ان جلتے بھنتے انسانوں کو آگ سے بچانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ موت زندگی کو تہس نہس کر رہی تھی، ٹی وی اسکرین پر یہ ہولا دینے والے مناظر دیکھ کر فیکٹری میں پھنس جانے والوں کے عزیز گھروں سے فیکٹری کی طرف بھاگے جا رہے تھے اور جب فیکٹری کے قریب پہنچ کر آگ میں گھرے لوگوں کی چیخیں سنتے تو ان کے دل دہل جاتے تھے، لیکن وہ کسی کی مدد کرنے کے قابل اس لیے نہ تھے کہ آگ کے شعلے جہنم کے شعلوں میں بدل گئے تھے یہ جہنم اس سرمایہ دارانہ نظام نے تخلیق کیا تھا جس کے نزدیک انسانی زندگی سرمائے کے سامنے کوئی قیمت نہیں رکھتی۔ میں بھی اس دل دہلا دینے والے منظر کو ٹی وی پر دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ سرمائے نے اشرف المخلوقات کا لقب پانے والے انسان کو کس طرح حیوان سے بدتر بنا دیا ہے۔

لاکھوں کروڑوں انسان سیکڑوں مزدوروں کو آہستہ آہستہ آگ کی خوراک بنتے دیکھتے رہے اور ہاتھ ملنے اور آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہ کر سکے۔ مرنے والوں کے ماں باپ، بھائی بہن سرمایہ دارانہ نظام کے اس خونی کھیل کو آنکھوں میں آنسو لیے دیکھتے رہے اور کچھ نہ کر سکے۔جب اس خوفناک آگ میں 259 مزدور جل کر راکھ ہو رہے تھے اس وقت اس فیکٹری کے مالک شاہد بھائلہ، ارشد بھائلہ اور ان کا جنرل منیجر منصور اپنے تیار اور خام مال کو آگ سے بچانے میں مصروف تھے۔ ان ظالموں نے فائر بریگیڈ کو اطلاع دینے کی زحمت تک گوارا نہ کی، پڑوس کے پلاٹ کے مالک محمد حنیف نے فائر بریگیڈ کو اطلاع دی، فیکٹری کی یہ آگ کس قدر پھیلی ہوئی تھی اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ فائر بریگیڈ کی کوششوں کے باوجود دو روز تک یہ آگ بھڑکتی رہی۔

اس بدقسمت سانحے کی کسمپرسی کا عالم یہ ہے کہ کسی نے اس کی ذمے داری قبول نہ کی۔ اس قیامت خیز سانحے کی ایف آئی آر تو درج ہوئی لیکن تین چار ماہ تک تحقیقات ہونے کے باجود یہ کیس ایک سال سے پینڈنگ میں پڑا ہے۔ پولیس نے قتل کی دفعات ہٹا کر صرف قتل بالسبب کی دفعہ برقرار رکھی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک ملزمان پر فرد جرم تک عاید نہیں ہو سکی یہ کارکردگی اس قتل عام کی ہے جس میں 259 بے گناہ مزدور جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اس قتل عام کی برسی کے موقع پر مزدور تنظیموں کی طرف سے اجتجاجی مظاہرے کیے گئے اسی سلسلے میں پائلر کی طرف سے آرٹس کونسل میں ایک تعزیتی پروگرام منعقد کیا گیا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس فیکٹری کے قاتل مالکان اپنے 259 مزدوروں کے قتل کی سزا سے اب تک بچے ہوئے ہیں یہ ہے سرمایہ دارانہ نظام کے قانون اور انصاف کا وہ المیہ جس کا مشاہدہ ہم قدم قدم پر کر سکتے ہیں۔ ایک امریکن شہری ریمنڈ ڈیوس لاہور کی بھری پڑی سڑک پر دو بے گناہ انسانوں کو قتل کر دیتا ہے اور دنیا میں قانون اور انصاف کی برتری کا سب سے بڑا علمبردار امریکا پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈال کر دیت کے قانون کا بہانہ بنا کر اس قاتل امریکی کو چھڑا لے جاتا ہے۔

ایک پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی فوجیوں پر محض مبینہ حملے کے جرم میں 86 سال کی سزا دی جاتی ہے۔ پاکستان کے ایک وڈیرے کی اولاد سر عام شاہ زیب نامی ایک نوجوان کو محض اس جرم میں گولیوں سے بھون دیتی ہے کہ اس نے ان بدمعاشوں کو اپنی بہن کو چھیڑنے سے روکا تھا۔ یہ قاتل بھی دیت کے قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے باعزت بری ہو جاتے ہیں اگرچہ کہ ان کی رہائی ابھی تک عمل میں نہ آ سکی۔

لیکن جو بات دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ وڈیرہ شاہی کی یہ قاتل اولاد مقدمے کے دوران اس طرح خوش نظر آتی ہے جیسے اس نے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ ہمارے ملک میں قانون اور انصاف کی برتری کے جو راگ الاپے جاتے ہیں ان کی حقیقت کا اندازہ بلدیہ میں واقع علی انٹرپرائزز گارمنٹ فیکٹری میں مالکان اور متعلقہ محکموں کی غفلت اور لاپرواہی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 259 مزدوروں، ریمنڈ ڈیوس اور ایک وڈیرے کی اولاد کی دیت کے قانون کے تحت رہائی کے فیصلے سے کیا جا سکتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی آگ میں غریب مزدور اور عام بے گناہ شہری کس طرح جل جاتے ہیں اور قانون اور انصاف کس طرح اندھا بہرا اور گونگا بنا رہتا ہے اس کا مشاہدہ ہم بلدیہ کی گارمنٹ فیکٹری میں زندہ جل جانے والے 259 مزدوروں سے لے کر ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں زندہ جل جانے والے لاکھوں بے گناہ جاپانیوں کی المناک موت سے کر سکتے ہیں۔

عام لوگ منڈی کی معیشت کے ان مظالم کو علیحدہ کر کے دیکھتے ہیں اور انھیں مقامی قانون اور انصاف کے اندھے پن کا نام دیتے ہیں لیکن بات ایسی نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ اس ظالمانہ استحصالی نظام کے ڈانڈے منڈی کی اس معیشت سے جا ملتے ہیں جہاں قانون، انصاف، ضمیر سمیت ہر چیز بیچی اور خریدی جاتی ہے۔ لیکن اس خرید و فروخت کے فریق بھی اہل سرمایہ ہی ہوتے ہیں کیونکہ غریب تو ہمیشہ اور ہر جگہ بیچا ہی جاتا ہے اس لیے کہ اس کے پاس قوت خرید ہوتی ہی نہیں۔

قانون اور انصاف کے بین الاقوامی چیمپئن امریکا کو شام میں کیمیاوی ہتھیار نظر آ رہے ہیں اسے عراق میں بھی تباہ کن ہتھیاروں کے ذخیرے نظر آ رہے تھے اور ان ذخیروں کی تباہ کاریوں سے دنیا کے عوام کو بچانے کے لیے اس نے عراق پر حملہ کر دیا اور عراق میں 8 لاکھ کے لگ بھگ بے گناہ عراقی عوام اس انصاف کی نذر ہو گئے بعد میں خود اس کی خفیہ ایجنسیوں نے اعتراف کیا کہ عراق پر لگائے جانے والے الزامات سرے سے غلط تھے۔ اب شام پر بھی اسی طرح کے الزامات کے ساتھ حملے کی تیاری جاری ہے اور اگر یہ حملہ ہوا تو اس کی آگ کہاں تک پھیلے گی اور اس آگ میں کتنے لوگ بھسم ہوں گے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

دنیا بھر میں ہر سال ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں ایٹم بموں کی آگ میں جلنے والے لاکھوں انسانوں کی یاد میں موم بتیاں اور چراغ جلائے جاتے ہیں، ہمارے شہر کراچی میں بھی ایک سال پہلے بلدیہ کی گارمنٹ فیکٹری کی آگ میں جل جانے والے 259 مزدوروں کی یاد میں مظاہرے ہوئے، آرٹس کونسل میں المیہ ثقافتی شو منعقد ہوئے بس اللہ اللہ۔ اگلے سال دوسری برسی منائی جائے گی۔ 1945ء میں جاپان میں آج سے 68 سال پہلے ہونے والے ایٹمی قتل عام کی ہم اب تک 68 برسیاں منا چکے ہیں اس دوران سامراجی ملکوں نے عراق اور افغانستان میں 20 لاکھ کے لگ بھگ بے گناہ انسانوں کا خون بہایا لیکن دنیا کے پاس اس قتل عام کی برسی منانے کا وقت غالباً اس لیے نہیں کہ دونوں ملکوں میں اس قتل عام کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

پر امن برسیاں منانے، چراغ اور موم بتیاں جلانے اور شہداء کی یادگاروں پر پھولوں کے گلدستے رکھنے سے سامراجی مظالم نہ کم ہو سکتے ہیں نہ سرمایہ دارانہ نظام کو روکا جا سکتا ہے۔ اس حقیقت سے برسیاں منانے والے اکابرین اچھی طرح واقف ہیں اگر بلدیہ کی گارمنٹ فیکٹری کے 259 مزدوروں، ہیرو شیما اور ناگا ساکی، عراق اور افغانستان کے سانحات کو روکنا ہے تو ان کی برسیاں منانے کے بجائے سامراجی ملکوں اور ان کے استحصالی ظالمانہ نظام اس کے رکھیل قانون اور انصاف کے خلاف لاکھوں کروڑوں عوام کو سڑکوں پر لانا ہو گا اور دنیا کے مختلف ملکوں میں سڑکوں پر آنے والے لوگوں کو مرکزیت دے کر انھیں اس نظام کے خلاف جنگ کے لیے تیار کرنا ہو گا ورنہ ہم صدیوں، ہزاروں سال تک صرف برسیاں مناتے اور ماتم کرتے ہی رہ جائیں گے نتیجہ کچھ نہ نکلے گا۔

مقبول خبریں