چند بہت ہی دلچسپ باتیں

اب اصل موضوع کی بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں چار سو پندرہ افراد ایسے ہیں جو 53 کھرب کے مالک ہیں۔


Abdul Qadir Hassan September 13, 2013
[email protected]

دوسرے عام موضوعات تو چلتے رہیں گے سب سے پہلے کراچی کی اس واردات کو لیتے ہیں جس میں پولیس نے ایم کیو ایم کے ایک سابقہ ایم پی اے کو گرفتار کر لیا۔گرفتار کیا کیا ایم کیو ایم نے لندن سے کراچی تک ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔ محترم و مکرم ندیم ہاشمی صاحب کے بارے میں کسی نے کمال جسارت دکھاتے ہوئے گستاخی کر دی اور اس بے ادبی اور بدتمیزی کی سزا فی الحال کراچی شہر کو اور اس کے بعد ملک کے دوسرے حصوں کو بھی ملے گی۔ لندن میں مقیم ہماری سیاسی قیادت کو ملک کے کتنے حصے مطلوب ہیں اس بارے میں صرف مطالبہ آیا ہے ابھی تک وضاحت نہیں آئی لیکن جتنے بھی ہوں گے ایم کیو ایم کے اس سابق رکن صوبائی اسمبلی کے حق میں گستاخی کی سزا ان تمام مجوزہ صوبوں کو بھی ملے گی۔ تعجب ہے ایم کیو ایم کی مرکزی اور صوبائی قیادت پر کہ اس نے اپنے ایک سابق رکن کو بھی فراموش نہیں کیا۔

سیاسی قیادت ہو تو ایسی ہو۔ کاش کہ میری زبان پنجابی نہ ہوتی اور اگرچہ میرا ذریعہ روزگار اردو زبان ہے لیکن یہ میری مادری زبان نہیں ہے اور اسی خاندانی غلطی سے میں مار کھا گیا ہوں ورنہ میری درخواست کراچی میں ایم کیو ایم کے ہیڈ آفس میں پڑی ہوتی۔ اس کی منظوری کے بعد اگر کل کلاں پنجابی وزیر اعظم مجھ سے کسی بات یعنی کسی تحریر پر ناراض ہو جائیں تو ایم کیو ایم اپنے اس رکن کی مدد کو پہنچے گی اور یوں طویل ترین بیانات اور ان سے زیادہ طویل ٹی وی انٹرویو وغیرہ میں میری مدد کرتی اور مجھے مشہور کر دیتی۔ میں اپنی اسی خاندانی اور نسلی کمزوری یعنی پنجابیت کی وجہ سے کبھی کراچی پر نہیں لکھتا۔ انسان ہے خطا کا پتلا کیا معلوم تحریر میں کوئی غلطی ہو جائے اور سمندر میں کودے بغیر بچاؤ کا کوئی راستہ دکھائی نہ دے۔ اب میں ایم کیو ایم کے ساتھ اس بدتمیزی کرنے والے کی تلاش میں ہوں اور یہ کالم لکھ رہا ہوں جس نے متحدہ کے ندیم ہاشمی کے حضور میں اپنی اوقات سے بڑھ کر گستاخی کر دی اس لیے اس تحریر پر معافی کا امیدوار ہوں۔

اب اصل موضوع کی بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں چار سو پندرہ افراد ایسے ہیں جو 53 کھرب کے مالک ہیں۔ پاکستان کے یہ امراء پاکستان کے کل بجٹ سے زیادہ کے مالک ہیں یعنی ایسے کئی پاکستانی ہیں جو ذاتی طور پر اس ملک کے کل بجٹ سے بھی زیادہ کے مالک ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے یہ انکشاف کیا ہے اور سوئٹزر لینڈ کے ایک ادارے کی تحقیق و تفتیش کا حوالہ دیا ہے۔ پاکستان کے وفاقی بجٹ کا کل حجم 36 کھرب روپے ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سال پاکستانی دولت مندوں کی تعداد میں 33.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو ایشیا میں ایک ریکارڈ اضافہ ہے۔ اس رپورٹ کا حوالہ دینے کا مقصد مایوس اور بد دل پاکستانیوں کا حوصلہ بڑھانا تھا کہ وہ متفکر نہ ہوں ان کے ہاں بعض دولت مند ایسے ہیں جن کا شمار دنیا کے دولت مندوں میں ہوتا ہے اور ظاہر ہے وہ کسی غریب ملک کے باشندے نہیں ہیں۔ اگر کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کا یہ سلسلہ جاری رہا تو آیندہ سال ہمارے دولت مندوں میں مزید اضافہ ہو گا۔

سوئٹزر لینڈ کے جس ادارے نے یہ رپورٹ مرتب کی ہے اس کے پاس ان بے تحاشا دولت مندوں کے نام بھی ہوں گے لیکن بعض سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے اس ادارے نے نام نہیں دیے یا اخبار والے ان دولت مندوں سے ڈر گئے ہیں۔ اخبار والے بے شک ڈرتے رہیں لیکن کس پاکستانی کو اپنے ان ارب پتیوں کا علم نہیں ہے مگر ان کا نام کون لے۔ ایک بار میں ایک بڑی کمپنی کے خلاف خبر لگوا رہا تھا تو میرا ایک دوست آ گیا، اس نے مجھ سے کاغذ چھین لیا اور کہا کہ اس پر جب مقدمہ بنے گا تو اس کا فیصلہ بے شک تمہارے حق میں ہی ہو لیکن تب تک تم اس مقدمے میں ختم ہو جاؤ گے اور میرا یہ دوست سچ کہہ رہا تھا۔ فی الوقت میں اپنے بھوکے ننگے پاکستانیوں کو مبارک دیتا ہوں کہ ان بے تحاشا دولت والوں کا کچھ گر پڑا تو شاید آپ میں سے بھی کسی کو مل جائے۔ اگر ان دولت مندوں کی دولت ملک سے باہر نہیں ہے تو وہ ملک کے اندر اسے کسی کاروبار میں لگائیں گے اور نہ جانے کتنے پاکستانیوں کو نوکریاں ملیں گی لیکن کچھ دن ہوئے مجھے یہ معلوم کرنے پر سخت دھچکا لگا کہ ہمارے ایک کھرب پتی اب ملک میں کوئی کاروبار نہیں کرتے دوسرے کام کرتے ہیں۔

پاکستان کے سب سے زیادہ معزز اور محترم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک مقدمے میں ریمارکس دیے ہیں کہ اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ لوگ بھوک سے تنگ آ کر اپنی بچیوں کو دریاؤں میں زندہ پھینک رہے ہیں۔ غریبوں کے پاؤں میں جوتی نہیں اور وہ ہاتھ میں کشکول لیے پھر رہے ہیں جب کہ خزانے میں بے شمار پیسہ ہے' صرف اسے درست طریقے سے خرچ نہیں کیا جا رہا۔ عدالتوں کا کام بظاہر مقدموں کے فیصلے سنانا ہے اور سزا یا جزا دینا ہے لیکن ہمارے جج صاحبان جو ہمارے ہی ملک کے باشندے ہیں اور ہمارے آپ کے درمیان رہتے ہیں ہماری حالت سے کیسے لاتعلق اور بے خبر رہ سکتے ہیں چنانچہ جب بھی کسی عدالتی کارروائی میں کوئی گنجائش نکلتی ہے تو وہ عوام کی حالت زار کو بیچ میں لے آتے ہیں۔

جج صاحبان اگرچہ کسی کے نمایندے نہیں ہوتے لیکن پاکستانی تو ہوتے ہیں اپنے پاکستانیوں کی حالت دیکھ کر چپ کیسے رہیں چنانچہ وہ تو اپنے بھائیوں کے ننگے پاؤں سے بے خبر رہ سکتے ہیں اور نہ ان کے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے کشکول سے صرفِ نظر کر سکتے ہیں۔ ہمارے سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس جواد ایس خواجہ تو ہمارے ہاں وادیٔ سون کے پہاڑوں میں گم مزاروں پر حاضری دیتے ہیں۔ یہ ایک الگ قصہ ہے جو قدرے حیرت انگیز بھی ہے۔ ہمارے پہاڑوں میں عجیب واقعات ہوتے ہیں۔ عمران خان کی سابقہ بیوی ہمارے ہاں ایک پہاڑ کے اوپر پرانی غیر آباد بستی کو دیکھنے کی ضد کرنے لگی چنانچہ ایک چرواہا اس کی مدد کو آیا۔ اس بے خبر چرواہے نے جب کبھی ٹی وی پر شاید اخبار میں جمائمہ کی تصویر دیکھی تو حیرت زدہ ہو کر کہنے لگا اوے اسے تو میں اٹھا کر تلاجھے لے گیا تھا۔ تلاجھا اس پہاڑی کی چوٹی کا نام ہے۔ تو میں سپریم کورٹ کے حوالے سے کہہ رہا تھا کہ غریبوں کی جوتیوں کا ہی خیال کرو۔ یہ کروڑوں کے نمائشی منصوبے کس کام کے۔ ''پیٹ نہ پیاّں روٹیاں تے ساریاں گلاں کھوٹیاں۔''

مقبول خبریں