زرداری صاحب کی خواہش

پارٹی کارکنوں نے اس نظریے کی توثیق کی۔ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔


Dr Tauseef Ahmed Khan September 13, 2013
[email protected]

ہم نواز شریف کا ساتھ دیں گے، اگرچہ 11 مئی کے انتخابات میں ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا مگر جمہوری نظام کے استحکام کے لیے انتخابی نتائج کو قبول کیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں ایوان صدر سے رخصت کے بعد لاہور بلاول ہاؤس میں اپنی جماعت کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ جملے ادا کیے۔ صدر زرداری اب لاہور کو اپنا مستقل ہیڈکوارٹر بنانا چاہتے ہیں تاکہ پیپلز پارٹی کی ساکھ کو پنجاب میں بحال کیا جائے۔ سابق صدر زرداری کا لاہور میں مستقل قیام اور پیپلز پارٹی کو منظم کرنے کا فیصلہ سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ پیپلز پارٹی کا قیام 1967 میں لاہور میں عمل میں آیا۔ پیپلز پارٹی کے سابق جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مبشر حسن کی قیام گاہ پر پیپلز پارٹی کا پہلا کنونشن منعقد ہوا۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے اس کنونشن میں پیپلز پارٹی کے بنیادی نظریے کو پیش کیا۔

پارٹی کارکنوں نے اس نظریے کی توثیق کی۔ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ پیپلز پارٹی کی بنیادی اساسی دستاویز میں جمہوریت اور سوشلزم کو بنیاد قرار دیا گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب جنرل ایوب خان کی آمریت آب و تاب پر تھی۔ دائیں بازو کی جماعتیں مثلاً جماعت اسلامی اور مسلم لیگ مضبوط سیاسی جماعتیں سمجھی جاتی تھیں۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعت کا ایک حصہ مولانا بھاشانی کی قیادت میں اور دوسرا ولی خان کی قیادت میں متحرک تھا۔ پنجاب میں طلبا اور مزدور تنظیمیں اور کسان سبھائیں خاصی مضبوط تھیں۔ بہت سے کالجوں میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور بائیں بازو کی دوسری طلبا تنظیموں کے حامی طلبا یونینوں پر چھائے ہوئے تھے۔ اگرچہ پنجاب یونیورسٹی کی طلبا یونین اسلامی جمعیت طلبہ کے قبضے میں تھی مگر راولپنڈی میں پولی ٹیکنیک کے طلبا نے جب پولیس تشدد کے ایک واقعے کے خلاف احتجاج شروع کیا تو یہ احتجاج ایوب خان حکومت کے خلاف تحریک میں تبدیل ہوا۔

پیپلز پارٹی کے بانی رکن معراج محمد خان کا کہنا ہے کہ پولی ٹیکنیک کے طلبا کا احتجاج ایک منظم منصوبے کے تحت شروع ہوا تھا اور پارٹی قیادت کی ہدایت پر اس احتجاج کو تحریک کی شکل دی گئی۔ پھر پنجاب بھر میں ٹریڈ یونین تنظیمیں انتہائی فعال تھیں۔ مزدور اپنے حقوق کے لیے پرعزم تھے۔ نیب اور اس کی ملحقہ تنظیموں کی کوششوں سے کسانوں میں بیداری کی مہم شروع ہوچکی تھی۔ کسان زرعی اصلاحات کے خواہاں تھے، اس کا اظہار بعد میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہونے والی عظیم الشان کانفرنس میں ہوا۔ بھٹو صاحب کشمیر کی آزادی اور معاہدہ تاشقند کو مسترد کرنے کے نعرے کے ساتھ ایوب حکومت سے علیحدہ ہوئے تھے۔ انھوں نے پیپلز پارٹی کے قیام کے ساتھ نچلی سطح تک کے کارکنوں سے رابطے رکھے ہوئے تھے۔

1970 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان سمیت دوسرے علاقوں سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ پیپلز پارٹی کو اندرون سندھ بھی کامیابی حاصل ہوئی تھی مگر پنجاب میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کی وجوہات میں بھٹو صاحب کی کرشماتی شخصیت کے ساتھ بائیں بازو کی طلبا اور مزدور تنظیموں اور کسان تنظیموں کا متحرک ہونا بھی تھا۔ پیپلز پارٹی نے 1971 میں اقتدار میں آنے کے بعد تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بنیادی اصلاحات کیں۔ پہلی دفعہ زرعی اصلاحات ہوئیں، مزدوروں کے حقوق کے لیے جامع قانون سازی کی گئی۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں انسانی حقوق کی پامالی ہوئی، مزودر تنظیموں کے خلاف اقدامات ہوئے مگر ان شعبوں میں بنیادی اصلاحات کی بنا پر پیپلز پارٹی کی جڑیں عوام میں موجود رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ طلبا اور مزدوروں نے بھی مزاحمتی تحریک کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ پھانسیوں، کوڑوں اور جیلوںمیں بدترین تشدد کے باوجود پیپلز پارٹی کی جڑیں عوام میں موجود رہیں۔

جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں لاہور کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ جنرل جیلانی نے لاہور کو باغات کے شہر میں تبدیل کیا۔ پنجاب کے تاجروں اور صنعتکاروں کو جو مراعات ملیں اس کے نتیجے میں ایک نیا طبقہ پیدا ہوا، میاں نواز شریف اس طبقے کی آواز بنے۔ یہ طبقہ فوجی آمریت کا دلدار تھا مگر وفاقی اور صوبائی حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود 1986 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا لاہور میں تاریخی استقبال ہوا۔ 1988 کے انتخابات میں تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پیپلز پارٹی کو لاہور سمیت مختلف شہروں میں انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی، مگر بے نظیر بھٹو کے اقتدار میں آنے کے بعد ان سے تمام توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف تھے۔ پنجاب میں مسلم لیگ نے ایک منصوبے کے تحت برادری ازم کو ابھارا۔ بے نظیر بھٹو حکومت 18 ماہ اقتدار میں رہنے کے بعد برطرف کردی گئی۔ 1992 کے انتخابات کے وقت بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور محترمہ نصرت بھٹو کی میڈیا پر کردار کشی کی مہم چلی۔ انتخابات ایک خاص منصوبے کے تحت منعقد ہوئے۔

مسلم لیگ اکثریت سے اقتدار میں آئی۔ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں مسلم لیگی حکومت کے خلاف سیاسی جدوجہد منظم کی مگر اب پیپلز پارٹی کا کلچر تبدیل ہونا شروع ہوا۔ لغاری، گیلانی اور قریشی خاندان اہمیت اختیار کرگئے۔ 1993 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی۔ اس دفعہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حمایت سے میاں منظور وٹو وزیراعلیٰ بنے۔ یہ پیپلز پارٹی کے لیے پنجاب میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کا بہترین موقع تھا مگر یہ پورا دور میاں منظور وٹو اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان کشیدگی اور سازشوں میں گزرا۔ بعد ازاں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے دولت کمانے کے نت نئے طریقے اختیار کیے۔ پیپلز پارٹی نے غریب طبقات کو نظر انداز کردیا۔ پرانے کارکن مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب گئے۔ یہی وجہ تھی کہ 1997 میں پیپلز پارٹی کی حکومت برطرف ہوئی تو پنجاب میں معمولی سا بھی ردعمل نہیں ہوا۔ زرداری صاحب جیل چلے گئے۔

بی بی نے سیاسی جلاوطنی اختیار کرلی۔ پنجاب میں میاں شہباز شریف کی حکومت نے متوسط طبقے اور امراء کی منشاء کے مطابق ریکارڈ ترقیاتی کام کیے۔ ان کی حکومت نے قومی صنعتوں کی نجکاری کی، ہزاروں کارکنوں کو گولڈن شیک ہینڈ اور رائٹ سائزنگ کے نام پر ملازمتوں سے برطرف کیا گیا۔ سرکاری تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ تعلیم مارکیٹ میں فروخت ہونے لگی۔ صاحب ثروت افراد نجی اسپتالوں میں علاج کی جدید سہولتوں سے استفادہ کرنے کے اہل پائے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے غریب طبقات، مزدوروں، کسانوں اور طلبا کے مسائل اہم نہیں رہے۔ میاں نواز شریف اور پھر پرویز مشرف حکومتوں کی پالیسیوں کے خلاف پیپلز پارٹی میں جدوجہد کا تصور ختم ہوا۔ اس طرح پارٹی کی جڑیں محدود ہوگئیں۔ یہی وجہ تھی کہ 2008 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باوجود پیپلز پارٹی پنجاب میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔

زرداری صاحب نے اپنے دور میں جمہوریت کے استحکام اور 1973 کے آئین کی بحالی کے لیے اہم خدمات انجام دیں، مگر انھوں نے پیپلز پارٹی کو سیاسی انداز میں چلانے کے بجائے ایک کمپنی کے طور پر چلایا۔ وہ جوڑ توڑ کی سیاست، عالمی حالات اور میاں نواز شریف کی بصیرت کی بنا پر اقتدار کے 5 سال مکمل کر پائے مگر پیپلز پارٹی کا بحیثیت سیاسی جماعت کردار محدود ہوگیا، جس کا نتیجہ 2013 کے انتخابات میں نظر آیا۔ ان انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت نے انتخابی مہم پر توجہ نہیں دی۔ بہرحال زرداری صاحب کی پیپلز پارٹی کو دوبارہ منظم کرنے کی خواہش غریب طبقات کے لیے امید کی کرن ہے۔ مگر اب پھر پارٹی میں سیاسی کلچر کو پروان چڑھانا ہوگا اور غریب طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کو اولین ترجیح قرار دینا ہوگا۔