گلوکارہ زبیدہ خانم کو فلم ’’شہری بابو‘‘ سے شہرت ملی

مرکزی کرداروں میں ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ اسلم پرویز تھے جن کی بحثیت ہیرو پہلی فلم تھی۔


Cultural Reporter September 14, 2013
زبیدہ خانم کا آبائی شہر امرتسر ہے اور قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان بھی ہجرت کرکے لاہور میں سکونت پذیر ہوا۔ فوٹو: فائل

گلوکارہ زبیدہ خانم پچاس کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں فلمی سنگیت کے افق پر نمودار ہوئیں۔

زبیدہ خانم کا آبائی شہر امرتسر ہے اور قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان بھی ہجرت کرکے لاہور میں سکونت پذیر ہوا۔ زبیدہ خانم کا سنگیت کے کسی روایتی گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ۔ زبیدہ خانم کو کی مقبولیت اور شہرت کا نقطہ آغاز ہدایتکار نذیر کی ایک پنجابی فلم ''شہری بابو'' سے ہوا جس میں پہلی بار سنتوش کمار اور سورن لتا نے مرکزی اور رومانوی کرداروں میں پیش ہوئے۔ طفیل ہوشیار پوری کے نغمات کو موسیقار رشید عطرے نے بے حد حسین دلنواز دھنوں سے سجایا تھا اور پھر اس نئی گلوکارہ زبیدہ خانم نے جس عمدگی اور خوش اسلوبی سے انھیں گایا ۔ اس نے ''شہری بابو'' کو تو عظیم الشان کامیابی سے ہمکنار کیا ہی تھا، لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی کامیابی اور درخشاں مستقبل کی راہ بھی ہموار کرلی ۔ہدایتکار ایم اے رشید کی بحثیت ہدایتکار پہلی فلم ''پاٹے خان'' تھی جس میں ٹائیٹل رول ظریف نے انتہائی عمدگی اور کامیابی سے ادا کیا تھا۔

مرکزی کرداروں میں ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ اسلم پرویز تھے جن کی بحثیت ہیرو پہلی فلم تھی۔ ہدایتکار ایم ایس ڈار کی مشہور فلم ''دلا بھٹی'' میں بھی اس نے صبحیہ خانم کی سہیلی کا کردار نبھایا ۔ ہدایتکار لقمان کی پہلی پنجابی فلم ''پتن'' میں ''ساڈا سجرا پیار کوے بار بار ، کیتے ہوئے قرار بھل جائیں ناں'' ،'' چھڈ جاویں نہ چناں باؓں پھڑ کے'' اور ''رب نے کرایا ساڈا پتناں تے میل اوئے'' کے بعد ہدایتکار انور کمال پاشا کی یادگار فلم ''چن ماہی'' میں ایک بار پھر رشید عطرے اور زبیدہ خانم کے سنگم نے خوبصورت ترین نغموں کو جنم دیا'' نی چھیٹے سجناں دی اے '' ، '' بندے چاندی سونے دی نتھ لے کے'' ، ''ساڈے انگ انگ وچ پیار نے پینگاں پائیاں نیں'' مقبول ترین نغمات تھے۔



انور کمال پاشا کی کاسٹیوم فلم ''سرفروش'' میں بھی رشید عطرے ہی کی موسیقی ہی زبیدہ خانم نے اپنی آواز کا جادو جگاتے ہوئے ''تیری الفت میں صنم ہم نے بہت درد سہے''، '' اے چاند ان سے جاکر میرا سلام کہنا'' اور مینا شوری پر فلمایا جانے والا فلم کا سپرہٹ نغمہ''میرا نشانہ دیکھے زمانہ'' زبیدہ خانم کی فنی صلاحیتوں اور عظمتوں کی روشن دلیل بن گیا ۔ رشید عطرے کی ہی موسیقی اور زبیدہ کی دلکش آواز نے اپنے دور کا یہ حسین ترین اور انتہائی مقبول عام نغمہ '' آئے موسم رنگیلے سہانے جیاناہیں مانے' تو چھٹی لے کے آجا بالما'' فلم ''سات لاکھ'' کے اس دلفریب گیت کے علاوہ زبیدہ خانم کا یہ گیت ''گھونگھٹ اٹھالوں کہ گھونگھٹ نکالوں'' بہت مقبول ہوا۔

ہدایتکار لقمان کی ایک نیم تاریخی فلم '' ایاز'' میں محفل میلاد کے موقع پر موسیقار خورشید انور نے ایک نعتیہ کلام ''صلو علیہ وآلہ '' پیش کیا اور زبیدہ خانم نے اسے اپنی دلکش آواز میں امر بنا دیا۔ نسیم بیگم کے آنے کے بعد ملکہ ترنم نورجہاں کے مکمل طور پر پلے بیک کے شعبے سے وابستگی اختیار کرلینے سے زبیدہ خانم نے سبکدوشی کا فیصلہ کرلیا اور پھر ایک معروف کیمرہ مین ریاض بخاری سے شادی کرکے فلمی دنیا سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرلی ۔ ریاض بخاری مشہور عکاس اور ہدایتکار جعفر بخاری کے حقیقی بھائی ہیں ۔ زبیدہ خانم کے ایک بیٹا فیصل بخاری کا شمار فلم اور ٹی وی کے مشہور کیمرہ مین اورڈائریکٹرز میں ہوتا ہے۔

مقبول خبریں