مون سون بارشوں کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کی ضرورت

کراچی کے ندی، نالے توگندگی سے بھرے ہوئے ہیں، ان کی صفائی کا بھی کوئی بندوست نہیں کیا گیا ہے۔


Editorial July 18, 2019
کراچی کے ندی، نالے توگندگی سے بھرے ہوئے ہیں، ان کی صفائی کا بھی کوئی بندوست نہیں کیا گیا ہے۔ فوٹو:ٹوئٹر

مون سون بارشوں کا سلسلہ آیندہ چند روز تک جاری رہے گا، لیکن پہلے ہی اسپیل میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں جو تباہی و بربادی ہوئی ہے،اس نے دل دہلا دیا ہے، یہ سب کچھ متعلقہ محکموں کے علم میں تھا، لیکن کوئی پلاننگ نہ تھی۔ 17گھنٹے کی مسلسل بارش کے باعث لاہور میں بھاری جانی ومالی نقصان ہوا، دیواریں، چھتیں گرنے اورٹریفک حادثات میں 100سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

یہ پاکستان کے جدید ترین شہر لاہورکا حشر ہوا ہے،سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں اور اسپتالوں کی چھتیں ٹپکنے لگیں۔ سیکڑوں فیڈرز ٹرپ ہونے سے شہر تاریکی میں ڈوبا رہا ۔ نشیبی علاقے تو جھیل کا منظر پیش کرنے لگے اور ان سے پانی نکالنے کا عمل انتہائی سست روی کا شکار رہا۔

لوگ بے یارومددگار رہے، نہ مقامی انتظامیہ نہ صوبائی حکومت کسی کا وجود کہیں نظر آیا، ایک قیامت تھی جو اہل لاہور پرگزری، نہ جانے آگے کیا ہوگا؟دوسری جانب خیبرپختونخوا میں تین مقامات پر درمیانے اور تین مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے،کلاچی شہراورملحقہ آبادی میں پہاڑوں پر شدید بارشوں کے بعد سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے۔

کراچی کے ندی، نالے توگندگی سے بھرے ہوئے ہیں، ان کی صفائی کا بھی کوئی بندوست نہیں کیا گیا ہے اگر کراچی میں بھی مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تو سمجھ لیں، سارا شہر ڈوب جائے گا۔ مون سون کی پہلی بارش نے نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی کا پول بھی کھول دیا ہے۔

یہ ادارہ قدرتی آفات سے نبرد آزما ہونے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن نہ تو اس کے پاس مطلوبہ تعداد میں مشینری ہے اور نہ ہی پلاننگ نام کی کسی شے کا وجود ہے۔ مطلوبہ فنڈز بھی حکومت فراہم نہ کرے، تو ایسے ادارے بنانے اور پھر انھیں قائم کرنے کا کیا فائدہ ہے۔ عوام کی مشکلات اور مسائل کا احساس کرنا اوران کے حل کے لیے کام کرنے کی ذمے داری حکومت کی ہے، حکومت پر فرض ہے کہ وہ قدرتی آفات سے بچاؤکے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔

مقبول خبریں