کلبھوشن کیس میں پاکستان کی فتح

عالمی عدالت انصاف میں دنیا کے سامنے آنے والا فیصلہ بھارت کی سفارتی شکست کی صورت میں برآمد ہوا۔


Editorial July 19, 2019
عالمی عدالت انصاف میں دنیا کے سامنے آنے والا فیصلہ بھارت کی سفارتی شکست کی صورت میں برآمد ہوا۔ (فوٹو : فائل)

عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کا تاریخی فیصلہ سنا دیا۔ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کو بھارتی شہری تسلیم کرتے ہوئے اس کی بریت اور بھارت حوالگی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت سے سنائی گئی سزا ختم نہیں ہو گی، وہ پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا تاہم پاکستان اسے قونصلر رسائی فراہم کرے۔

عالمی عدالت انصاف نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی ذمے داری نبھاتے ہوئے کلبھوشن یادیو کو سنائی گئی سزائے موت پر نظرثانی اور دوبارہ غور کے لیے اپنی منشا کے مطابق راستہ اپنائے اور اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے کہ حتمی فیصلہ ہونے تک یادیو کی سزا پر عملدرآمد نہ ہو ۔ بدھ کو عالمی عدالت انصاف کے صدر جج عبدالقوی احمد یوسف نے نیدر لینڈز کے شہر دی ہیگ میں پاکستانی وقت کے مطابق شام چھ بجے پیس پیلس میں فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

بلاشبہ عالمی عدالت انصاف میں دنیا کے سامنے آنے والا فیصلہ بھارت کی سفارتی شکست کی صورت میں برآمد ہوا، اس کی نہ صرف انصاف کے عالمی حلقوں میں رسوائی ہوئی بلکہ قوموں کی برادری میں اس کے دہشت گردی کے گمراہ کن پاکستان مخالف پروپیگنڈہ، بہتان طرازی، شرانگیز یاوہ گوئی، مذموم مہم جوئی اور تشہیری جعلسازیوں کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔

قانونی ماہرین اور سیاسی مفکرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عدالت انصاف کا فیصلہ پاکستان کے لیے نفسیاتی اعتبار سے کم نقصان کا حامل جب کہ بھارت کے لیے اس کے مضمرات ہولناکی سے عبارت ہیں۔ بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کے کیس کی سماعت کے بعد صومالی جج عبدالقوی احمد یوسف نے بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے واضح کیاکہ عدالت اس معاملے پر غور نہیں کر سکتی کیونکہ اس حوالے سے عدالت کا دائرہ کار محدود ہے۔

عدالت نے کہا حکومت پاکستان کلبھوشن یادیوکی سزا پر موثر نظرثانی اور دوبارہ غور کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے اور اگر ضروری ہو تو اس ضمن میں قانون سازی بھی کی جائے۔ عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کے پاس حسین مبارک پٹیل کے نام سے موجود پاسپورٹ کو اصلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوران سماعت بھارت یہ واضح کرنے میں ناکام رہا کہ کلبھوشن یادیو کے پاس 2 پاسپورٹ کیوں اور کیسے تھے۔

جج نے کہاکہ بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی مانگی ہے جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کو دہشت گردی اور جاسوسی کے لیے پاکستان بھیجا اس لیے اس کو قونصلر رسائی کا حق حاصل نہیں۔ جج نے کہاکہ ویانا کنونشن جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا اس لیے پاکستان کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی فراہم کرے۔

کلبھوشن کی بریت کے لیے بھارتی درخواست کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مقدمہ کی بھارتی بنیاد کمزور ہوئی، کلبھوشن کی سزا ختم ہونے کی بھارتی میڈیا اور سیاسی حلقوں کی پھیلائی افواہ سازی دم توڑ گئی، پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ویانا کنونشن جاسوسوں پر لاگو نہیں ہوتا، اس لیے کلبھوشن یادیو قونصلر رسائی کا مستحق نہیں، بھارت مقدمہ میں حقوق سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب ہوا۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کا ویانا کنونشن کو جواز بنا کر قونصلر رسائی کا مطالبہ غلط ہے، بھارتی درخواست قابل سماعت قرار نہیں ہونی چاہیے تھی۔ وہ اس رائے پر سختی سے قائم رہے کہ دہشت گرد کارروائیوں کا اعتراف نظر انداز اور ریاستوں کو نظر ثانی کے لیے ڈکٹیٹ کر کے خطرناک مثالیں قائم کی گئیں۔

میڈیا نے اسی سیاق و سباق میں واضح کیا کہ کلبھوشن سے پہلے بھی کئی بھارتی جاسوسوں کو سزائیں ملیں، سربجیت نے تخریب کاری اور بم دھماکے کیے، کشمیر سنگھ 35 سال جیل کاٹ کر واپس بھارت چلا گیا ۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے اس فیصلہ کے ہاتھوں وہ ہزیمت اٹھائی جس کا تصور بھارتی سیاسی راہداریوں کے تصور میں بھی نہیں تھا، بھارت تواتر سے پاکستان کو خطے میں دہشت گردی کا ایپی سینٹر قرار دیتا رہا، اس نے مقبوضہ کشمیر کی غیر انسانی صورت حال میں شرمناک کردار ادا کرتے ہوئے وادی کو خون کے سمند میں ڈبو دیا، مگر اس کا عالمی میڈیا ٹرائل یہی کہتا تھا کہ دنیا پاکستان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا سدباب کرے، تاہم سو سنار کی ایک لوہار کی کے مصداق عالمی عدالت انصاف نے ایک ہی ضرب سے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا، اس کے تجاہل عارفانہ، پاکستان کے داخلی معاملات میں چھیڑ خانی اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں کے ساتھ ساتھ مجرمانہ ریشہ دوانیاں بھی بے نقاب ہوئیں۔

عالمی عدالت انصاف نے عدالت کے دائر ہ اختیار کے حوالے سے پاکستانی موقف سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ بھارتی اپیل کی سماعت عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار میں ہے۔ عدالت نے بھارت کی اپیل کے قابلِ سماعت ہونے پر تینوں پاکستانی اعتراضات مسترد کر دیے اور کہا ویانا کنونشن اس کیس پر لاگو ہوتا ہے، ویانا کنونشن جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا، آرٹیکل 36 میں جاسوسی کے الزام کی بنیاد پر قونصلر رسائی روکنے کی اجازت نہیں۔

یاد رہے کہ کلبھوشن یادیو کا کیس دو سال سے زائد عرصہ عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت رہا۔ پاکستان نے بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کو جاسوسی کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کو بڑی فتح مل گئی جب کہ بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔ بھارت کی جانب سے منفی سفارتکاری اور ججوں کے خیالات اور عوامی رائے کو تبدیل کرنے کے لیے تمام بھارتی لابیز بری طرح ناکام ہوئی ہیں۔ عالمی عدالت انصاف کے پندرہ رکنی بینچ میں پاکستان کا ایک ایڈہاک جج اور بھارت کا ایک مستقل جج بھی شامل تھا۔ فیصلہ سننے کے لیے پاکستان کی جانب سے اٹارنی جنرل انور منصور خان، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل اور دیگر بھی موجود تھے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت ہمارے ملٹری کورٹس ٹرائل کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دلوانے میں ناکام رہا، بھارت کی ریاستی دہشت گردی ثابت ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کلبھوش کیس کی ذمے داری خاور قریشی کو سونپ دی۔ اللہ نے عوام اور عدالتی نظام کو سرخرو کر دیا۔ ادھر بھارت میں الٹی گنگا چل پڑی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کو صائب قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف سربلند ہوا، ہم اپنے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ان کی وزیر خارجہ سشما سوراج، وزیر داخلہ اور دیگر رفقا نے دعوی کیا کہ بھارتی کی جیت ہوئی ہے، بھارتی سیاستدانوں نے فیصلہ کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کلبھوشن کو بلاتا خیر بھارت کے حوالہ کرے، اسے قونصلر رسائی دے۔ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ بھارت کے لیے بڑی کامیابی ہے، انھوں نے یادیو فیملی کو تسلی دینے کی بات بھی کی۔

بھارت کے پاکستان مخالف تجزیہ کار ارجن سبرامینیم نے لکھا کہ آئی سی جے کی کامیاب قانون جنگ کے نتیجہ میں بھارت اب مشکل صورتحال میں نئی اپرروچ سے کام لے گا۔ ان کے بقول بھارت کو عدالتی فیصلے سے کئی خوش خبریاں ملی ہیں۔ واضح رہے بھارتی اپیل پر عالمی عدالت انصاف نے فیصلے میں لکھا کہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی نہ دے کر پاکستا نے ویانا کنوشن کی خلاف ورزی کی، جاسوسی کے الزامات کے باوجود قونصلر رسائی کے حق سے اسے محروم نہیں رکھا جا سکتا، عدالت نے سزا پر نظرثانی کا بھی کہا۔

بھارتی قانونی ماہرین اسی تناظر میں اپنی ساری رسوائی اور ہزیمت کو سیکولرازم کی انوکھی فتح قرار دینے کے پرانے ہتھکنڈوں سے دل بہلاتے رہیں گے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ کلبھوشن پاکستان میں ہی رہے گا، یہ ہماری فتح ہے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے قوم کو مبارک بار دی۔

پاکستان کے ممتاز سیاستدان مشاہد حسین سید نے اسے ملا جلا فیصلہ کہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کلبھوشن ساگا اگلے چند مہینوں اور برسوں میں خطے کی سیاسی صورت گری میں کیا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان کو بہر حال متحرک سفارت کاری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

مقبول خبریں