ہمارا ایک دوست جو اصل میں دشمن ہے
ایک شخص جو اکثر فون کر کے خود کو ہمارا دوست بتاتا ہے لیکن جو مشورے وہ ہمیں دیتا رہتا ہے۔
ایک شخص جو اکثر فون کر کے خود کو ہمارا دوست بتاتا ہے لیکن جو مشورے وہ ہمیں دیتا رہتا ہے، اس سے پکا پکا اس کے دشمن ہونے کا پتہ چلتا ہے، بلکہ ہمیں تو یہ بھی شبہ ہوتا ہے کہ شاید ہمارے دشمن جو ہمیں زہر سے نہیں مار سکے ہیں، اب چندہ کر کے یہ ''گڑ کی ڈلی'' ہمارے مارنے کے کام پر لگائی ہے، یا کوئی شہد کا چھتا ہو کیونکہ اس کے مشوروں میں اگر ''ہنی'' نہیں تو ہنی مون ضرور پایا جاتا ہے کیونکہ وہ ہماری شادی کسی جواں جہاں لڑکی سے کر اکے ایک ہی مہینے میں کام تمام کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔ مشوروں کی جو مکھیاں وہ ہماری طرف اڑاتا رہتا ہے، اس سے بھی غرض یہی معلوم ہوتا ہے کہ ڈنک مار مار کر ہمیں ایک مہینے میں سجا دے، ظاہر ہے کہ سوجن ہر حال میں اچھی نہیں ہوتی، چاہئے شہد کی مکھیوں کی ہو یا چپلوں کی وجہ سے ہو۔ وہ ہمیں ترغیب دیتا رہتا ہے کہ وہ کسی نوجوان لڑکی سے ہماری شادی کرانا چاہتا ہے جو ہماری خدمت کرے، آرام کا خیال رکھے اور اپنی نغمہ بار جلترنگ آواز سے ہمارا خون بڑھاتی رہے ۔۔۔۔ لیکن یہ تو دوسری بات ہے اس سے پہلے وہ بتاتا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہماری بڑھیا یقیناً زندہ ہے لیکن وہ خود مردہ بدست زندہ یعنی مدد کی محتاج ہو گی
ایسے تیراک بھی دیکھے ہیں مظفر ہم نے
غرق ہونے کے لیے بھی جو سہارا چاہیں
اس کی یہ پہلی بات تو سچ ہے کیونکہ ہماری بڑھیا واقعی وہ گاڑی بن چکی ہے جس کا سوائے ہارن کے کوئی بھی پرزہ کام کا نہیں رہا ہے، پھر وہ جب چل پڑے تو اکیس سازوں کی آرکسٹرا بجنا شروع ہو جائے،
ہوئی جن سے توقع خستگی کی دادا پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستہ تیغ ستم نکلے
لیکن اس کی دوسری بات پکے وٹے غلط ہے، سب سے پہلے تو کوئی جوان جہاں لڑکی اتنی احمق کیسے ہو سکتی ہے جو کسی گرتی ہوئی دیوار کے سائے میں پناہ لے، تو جو سبز باغ خدمت وغیرہ کے یہ دشمن دکھاتا ہے وہ کبھی سر سبز نہیں ہوں گے، کیونکہ جو صفات اس نے بتائی ہیں وہ کسی ایسی عورت میں تو ہو ہی نہیں سکتیں جو عورت بھی ہو اور پوری بھی ہو، اور پھر ہماری عمر میں تو آ بیل مجھے مار والا معاملہ ہے،
دہن شیر میں جا بیھٹیے لیکن اے دل
نہ کھڑے ہو جئے ''زوجان'' دل آزار کے پاس
ہمارا یہ دوست یا دشمن جو بھی ہے اسے ہم جب بتاتے ہیں کہ ہم بوڑھے ہیں تو وہ طعنوں پر اتر آتا ہے، جانتا ہے کہ بوڑھا ہو یا جوان کم از کم طعنے برداشت نہیں کر سکتا۔ تم بوڑھے کہاں ہو، صرف بال سفید ہوئے ہیں اور سفیدی بڑھاپے کی نشانی نہیں ہے ورنہ نئی عمارت کی نئی دیواریں بھی تو سفید ہوتی ہیں، سفید رنگ کے براق گھوڑے بھی ہوتے ہیں تو کیا وہ بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح وہ ہمیں چنے کی جھاڑ پر چڑھاتا رہتا ہے، بے چارے اس گیدڑ کی طرح جس کی آنکھیں لال نہیں ہوئی تھیں اور ظالموں نے کہا کہ لال ہیں۔ ایک گیدڑ اور شیر کے درمیان ساجھے داری ہو گئی۔ شیر نے اس شرط پر ساجھے داری کی کہ پانچ شکار میں کروں گا لیکن پھر ایک شکار تم بھی کرو گے۔ دونوں شکار کے لیے نکل گئے۔ اسے شیر نے سمجھا دیا کہ شکار نظر آتے ہی تم میری آنکھوں کی طرف دیکھا کرو اور جب میری آنکھیں لال ہو جائیں تو کہنا کہ اب جھپٹ پڑو ۔۔۔ اسی طرح پانچ دن شیر نے شکار کیا اور گیدڑ نے خوب جی بھر کر بھانجے کے شکار پر دانت تیز کیے۔
چھٹے دن شیر نے کہا، آج تمہاری باری ہے چلو ۔۔۔ جنگل میں گئے تو وہاں ایک مست سانڈ چر رہا تھا۔ شیر نے ماموں سے کہا کہ تیار ہو جاؤ ۔ بے چارا گیدڑ آنکھیں لال کیا کرتا، اس کی آنکھیں مزید پیلی ہو رہی تھیں کیونکہ وہ سانڈ کو بھی دیکھ رہا تھا اور اس کے نوکدار سینگوں کو بھی۔ شیر نے کئی بار پوچھا، ماموں آنکھیں لال کرو، لیکن آنکھیں لال کہاں ہو رہی تھیں۔ آخر شیر نے تنگ آ کر کہا، ماموں تمہاری آنکھیں لال ہونے لگی ہیں، ہاں اب لال ہو چکی ہیں، جھپٹ ۔ گیدڑ مجبوراً جھپٹا تو بیل نے اسے دیکھ لیا، قریب آتے ہی بیل نے اسے سینگوں پر اٹھا لیا۔ سینگوں میں پرویا ہوا گیدڑ رو رو کر کہہ رہا تھا، لوگوں کی آنکھیں لال نہیں ہوتیں اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ لال ہیں، یہ جو ہمارا دوست ہے جسے دوستوں یا دشمنوں نے غالباً چندہ کر کے ہمیں ٹھکانے کا ٹاسک دیا ہے، یہ بھی ہمیں مسلسل یقین دلا رہا ہے کہ تمہاری آنکھیں تو لال انگارہ بنی ہوئی ہیں ۔۔۔ لیکن ہم نہ گیدڑ ہیں نہ اندھے، سامنے بیل کو بھی دیکھ سکتے ہیں اور اس کے نوکدار سینگ بھی دکھائی دے رہے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم ایک مرتبہ آنکھوں کی لالی کا خمیازہ بھگت چکے ہیں،
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنھیں ''بیاہ'' کے ارماں ہونگے
ابھی کل ہی کی بات ہے بولا، میں نے انتہائی خدمت گزار لڑکی ڈھونڈ لی ہے، تم ہاں کر دو تو چھٹ منگنی پٹ بیاہ بلکہ منگنی کو بائی پاس کر کے سیدھے سیدھے نکاح پڑھوا لیں گے، اب اس احمق کو کون سمجھائے کہ ڈریکولا کے دانت پہلے دکھائی نہیں دیتے اور سیدھا سادہ بندہ نظر آتا ہے لیکن موقع واردات پر پہنچتے ہی یہ لمبے لمبے دانت نکال لیتا ہے جس لڑکی کو تو سیدھی سادی بتا رہا ہے اگر وہ اندر سے جلیبی نکلی اور گانے لگی،
میں ہوں جلیبی بائی
سیدھا کر لوں گی تم کو
اسی لیے ہوں آئی
اور وہ یہ تو جانتا نہیں ہے کہ ہمارے گھر میں جو بڑھیا بظاہر نہایت ہی بے ضرر اور اللہ لوک دکھائی دیتی ہے، اس کا ویسے تو سب کچھ سٹھیا ہوا ہے لیکن اس خستہ حال نیام میں بھی وہ شمشیر برہنہ موجود ہے جو کسی سوتن کا نام سن کر ہی شیش ناگ کی طرح نکل کر لہرانے لگتی ہے، کچھ دنوں پہلے ہم نے ایک بالکل ہی بے ضرر اور محض اس کے فائدہ کی خاطر ایک تجویز پیش کی تھی کہ ہم تم دونوں اب ڈیٹ ایکسپائر ہو چکے ہیں کیوں نہ دونوں مل کر شراکت کی بنیاد پر ایک اچھی سی نوجوان لڑکی سے شادی کریں، ہم لکھ کر دینے کو تیار ہیں کہ معاملہ قطعی ففٹی ففٹی کا ہو گا۔ باقاعدہ سٹاپ واچ لگا کر حساب کریں گے، جتنی دیر ہمارے پیر دبائے گی، اتنی دیر تک تمہارے پیر بھی دبائے گی بلکہ چار پانچ منٹ اضافی وقت بھی تمہیں دے سکتے ہیں اور ہم تو دن بھر باہر رہیں گے چنانچہ سارا دن تمہاری اکیلے کی خدمت کرتی رہے گی، ہم تو بس کبھی کبھی اس سے کوئی چھوٹی موٹی خدمت لیں گے،
یارب اندر کنف سایہ آں سرو بلند
گر من سوختہ یک دم بنشینم چہ شود
ایک شش کی آواز ہوئی اور خستہ نیام سے شمشیر نکل آئی۔ ہاں ہاں میں جانتی ہوں، پیر دبانے کا تو صرف بہانہ ہے، میرا گلا دبانے کے لیے لا رہے ہو، اس جوان مرگی، سر کھائی، قبر دبی مدد کو... بتاؤ کون ہے تمہاری نظرمیں، ابھی جا کر اس کی چٹیا پکڑ کر راستوں میں نہیں گھسیٹا تو عورت مت کہنا۔ کون ہے، کہاں ہے ذرا بتانا تو سہی اس کلموہی، کلنکنی صورت مردار کا نام... ہم اسے سمجھایا کیے کہ بھاگواں ایسی کوئی نہیں ہم تو صرف تجویز پیش کر رہے ہیں تھے، وہ بھی تمہاری بھلائی کے لیے، ڈھونڈنا تو تمہیں ہے۔ ڈھونڈتی ہے میری جوتی۔ خبردار جو آئندہ ایسی بات کی ورنہ اسی وقت میکے چلی جاؤں گی ۔ بے چاری کو جوش میں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اس کا میکہ کب کا قبرستان آباد کر چکا ہے، پھر اچانک ایک دل خوش کن خیال آیا کہیں یہ وہاں جانے کی بات تو نہیں کر رہی ہے، مزید تصدیق کے لیے پوچھا۔ کون سے میکے؟ وہ بھی شاید سمجھ گئی تھی، اس لیے جھٹ بولی، خوش مت ہونا، میں کہیں بھی جانے والی نہیں، دل میں کھلنے والی کلی ایک دم مرجھا گئی۔ حسرت ان کلیوں پر ہے ۔ صرف تجویز پیش کرنے کا جب ایسا نتیجہ ہو۔ اب آپ ہی بتایئے کہ وہ شخص ہمارا دوست ہے یا دشمن۔