ہدایتکار لقمان نے تقسیم ہند سے قبل ’’ہمجولی‘‘ سے کیرئیر شروع کیا

وہ شوکت رضوی کے ہونہار شاگرد تھے، انھیں پنجابی فلم ’’پتن‘‘ سے پہلی کامیابی ملی


Cultural Reporter September 15, 2013
لخت جگر، آدمی، ایاز، فرشتہ بہترین فلمیں تھیں، 1994ء میں وفات پا گئے۔ فوٹو: فائل

لقمان ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی کے ہونہار شاگرد تھے، ان ہی سے تدوین وہدایتکاری کے اسرار ورموز بھی سیکھے اور ان کی کوشش سے انھیں تقسیم ہند سے قبل ایک فلم ''ہمجولی'' کی ہدایتکاری کے لیے منتخب کیا گیا۔

''ہمجولی'' میں ملکہ ترنم نور جہاں اور بی جیراج نے مرکزی کردار ادا کیے جب کہ موسیقی حفیظ خان نے دی تھی۔ اسی فلم سے زینت بیگم بھی متعارف ہوئیں۔ قیام پاکستان کے بعد لقمان بھی پاکستان چلے آئے اور ابتدائی ایام کسمپرسی کے عالم میں گزرے۔ پہلی بار شعاع نور پروڈکشنز تلے بننے والی فلم''شاہدہ'' کی ہدایتکاری کی جو جاندار کہانی، پراثر مکالموں، لاجواب اداکاری کے باوجود صرف ناقص ترین عکاسی کے باعث ناکامی سے دوچار ہو گئی۔ اس کے کیمرہ مین احمد اللہ اجمیری تھے۔ چار سال کی بیکاری کے بعد انھیں ملک شریف کی فلم ''محبوبہ'' کی ہدایتکاری کا موقع ملا جس میں شمی ہیروئین اور سنتوش کمار ہیرو تھے۔

سنتوش کمار کے چھوٹے بھائی عشرت بھی فلم کی کاسٹ میں شامل تھے جو بعدازاں درپن کے نام سے فلمی افق پر درخشندہ ستارہ بن کر مدتوں جگمگاتے رہے۔ ماسٹر عنایت حسین کی موسیقی بڑی دلنواز تھی ۔ ایک نغمہ '' کسی کا نام شامل ہوگیا میری کہانی میں'' بیحد مقبول ہوا تاہم ''محبوبہ'' کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی۔ 1955ء میں کیپٹل فلمز کے شیخ لطیف نے اپنی پنجابی فلم ''پتن'' کی ہدایتکاری کے لیے لقمان کا انتخاب کیا اور ان کا یہ انتخاب بیحد صحیح اور مفید ثابت ہوا۔ ''پتن'' میں مسرت نذیر نے پہلی بار باقاعدہ ہیروئن کا کردار ادا کیا، وہ فلم بینوں کے دلوںکی دھڑکن اور فلمسازوں کے لیے سونے کی کان بن گئیں۔ سنتوش کمار ہیرو جب کہ غلام محمد، ایم اسمعیل، سلطان کھوسٹ، علائو الدین ،آشا پوسلے اور نذر جیسے فنکار شامل تھے۔



بابا عالم سیاہ پوش کے حسین برجستہ اور پراثر مکالمے، طفیل ہوشیاری پوری کے گیت اور پھر دلکش اور عمدہ دھنوں سے بابا چشتی نے سجایا۔ ''پتن'' لقمان کی پہلی کامیاب ترین فلم ثابت ہوئی۔ جب 1956ء میں بھارت کی ایک فلم ''وچن'' کا چربہ بنانے کی دوڑ لگی تو آغا جی اے گل نے اپنی فلم ''لخت جگر'' کے لیے ہدایتکار لقمان ہی کو لیا۔ دوسری طرف راحت فلمز کے قاضی عبدالحمید عابد نے اسی موضوع پر اپنی فلم ''حمیدہ'' کے لیے منشی دل کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔ ایسی صورتحال میں ہمیشہ کامیابی اسی کا مقدر ہوا کرتی ہے جو ''پہل'' کر جائے یعنی جس کی فلم نمائش کے لیے پہلے پیش ہو جائے۔

اس غیر ضروری مقابلے میں ''حمیدہ'' پہلے نمائش ہوکر کامیابی سے ہمکنار ہو گئی جب کہ''لخت جگر'' والے یہ بازی ہار گئے اور یوں ایک عمدہ اور معیاری فلم محض فلمی اور کاروباری مقابلہ بازی کی نذر ہو گئی۔ 1958ء میں ان کی فلم ''آدمی'' نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ لقمان کی فلم ''ایاز'' ''فرشتہ'' بھی ان کی انتہائی عمدہ فلم تھی۔ ''محل اور افسانہ'' بھی ان کی عمدہ فلمیں تھیں جن میں محمد علی ، دیبا ، وحید مراد نے مرکزی کردار نبھائے تھے۔ ان کے علاوہ '' اک پردیسی اک مٹیار'' ، '' پاکیزہ''، '' ہمجولی'' ، '' دنیا نہ مانے'' ،'' پرچھائیں '' اور''وفا'' نامی فلمیں بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ لقمان 23جنوری 1994ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ لقمان سنجیدہ ہونے کے ساتھ شعروادب کا بھی ستھرا مذاق رکھتے تھے۔

مقبول خبریں