بینکوں کو غیرملکی کرنسی کی خریدوفروخت کی اجازت نہیں دی اسٹیٹ بینک

فارن ایکس چینج پالیسی میں ترمیم نہیں کی گئی، فارن ایکس چینج مینوئل پر نظر ثانی کررہے ہیں


Business Reporter July 23, 2019
فارن ایکس چینج پالیسی میں ترمیم نہیں کی گئی، فارن ایکس چینج مینوئل پر نظر ثانی کررہے ہیں فوٹو:ٖفائل

اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ فارن ایکس چینج مینوئل میں ترمیم کرکے بینکوں کو غیرملکی کرنسی کی خریدوفروخت کی اجازت نہیں دی گئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق فارن ایکس چینج ریگولیشنز ایکٹ پر موثر انداز میں عمل درآمد کے لیے وقتاً فوقتاً سرکلر اور نوٹیفکیشن جاری کیے جاتے ہیں جو فارن ایکس چینج مینوئل کا حصہ بنتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک فارن ایکس چینج مینوئل پر نظر ثانی کررہا ہے اور مینوئل کے ایک تا5، 7 اور 20 نمبر کے ابواب پر نظرثانی کا عمل پہلے مرحلے میں 29نومبر 2018کو مکمل کرلیا گیا جس کے بعد دوسرے مرحلے میں ابواب8،9 اور 11 پر نظرثانی کی گئی اور اس سے متعلق فارن ایکس چینج سرکلر 16جون 2019کو جاری کیا گیا موخر الذکر سرکلر میں باب 11 بھی شامل ہے جو زرمبادلہ کے مجاز ڈیلرز (بینکوں) کے ذریعے فارن کرنسی نوٹ اور سکوں کی لین دین سے متعلق ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان میں فارن ایکس چینج کا لین دین فارن ایکس چینج ریگولیشنز ایکٹ 1947کے تحت جاری رہے گا اور فارن ایکس چینج پالیسی میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں