خوردنی تیل کی سالانہ درآمد 66 ارب روپے سے تجاوز کرگئی

کاشتکار زیادہ سے زیادہ مقدارمیں تیلدار اجناس کاشت کرکے قیمتی زرمبادلہ بچا سکتے ہیں


APP September 16, 2013
ایسوسی ایشن کے ترجمان نے بتایاکہ حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کو تیل دار اجناس کی بھرپور کاشت کیلیے خاطرخواہ سہولتیں و مراعات فراہم نہیں کی جا رہیں. فوٹو: فائل

پاکستان کراپ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کی درآمد کی سالانہ شرح66 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے لہٰذا کاشتکار زیادہ سے زیادہ مقدارمیں تیلدار اجناس کاشت کرکے وطن عزیز کیلیے قیمتی زرمبادلہ بچا سکتے ہیں۔

تاہم حکومت بھی تیل داراجناس کی بھر پور کاشت کیلیے اقدامات یقینی بنائے تاکہ ملکی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکے۔ ایسوسی ایشن کے ترجمان نے اتوار کے روز ایک ملاقات کے دوران اے پی پی کو بتایاکہ حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کو تیل دار اجناس کی بھرپور کاشت کیلیے خاطرخواہ سہولتیں و مراعات فراہم نہیں کی جا رہیں جس سے مجبوراً ایڈیبل آئل امپور ٹ کرناپڑ رہاہے جس پر انتہائی قیمتی زرمبادلہ خرچ ہو رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر قسم کی زرعی اراضی اور بہترین موسموں سے نوازا ہے مگر اس سے استفادہ میں مسلسل کوتاہی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔



انہوں نے کہا کہ اگرچہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان کی ذرخیز زمین خوردنی تیل کے حصول کیلیے اجناس پیدا کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے لیکن متعلقہ اداروں کی جانب سے تیل در اجناس کی فصلوں کی کاشت کیلیے نہ تو ماضی میں کوئی اقدام کیے گئے اور نہ ہی حال میں اس جانب ٹھوس بنیادوں پر کوئی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جبکہ مستقبل میں بھی اس معاملے کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان آئل سیڈ ڈیولپمنٹ بورڈ نے بعض مقامات پر سیڈ پروسیسنگ یونٹس قائم کیے تھے لیکن ان کے بھی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہو سکے اورجن مقاصد کیلیے یہ یونٹس قائم کیے گئے تھے، ان مقاصد کی تکمیل ممکن نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گوجرانوالہ، رحیم یار خاں، بہاولپور، لودھراں، کہروڑ پکا، وہاڑی، شجاع آباد وغیرہ کے علاقے تیلدار اجناس کی کاشت کیلیے انتہائی موزوں ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں بھی مذکورہ اجناس کی کاشت کامیابی سے کی جاسکتی ہے۔