این ای ڈی یونیورسٹی 50 کروڑ قرض کی ذمے داری ڈائریکٹر فنانس پر ڈال دی گئی

بھاری قرضے لینے میں شامل 2 ڈپٹی ڈائریکٹرز فنانس عبدالوہاب اورسرور امتیاز کو بچالیا گیا


Safdar Rizvi September 16, 2013
2 بڑے قرضے لینے میں شامل پی وی سی ون ڈاکٹر مظفر بھی تحقیقات میں شامل نہیں۔ فوٹو: فائل

CHICAGO, US: این ای ڈی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی کے50 کروڑ روپے سے زائد کے قرضوں کی ذمے داری فرد واحد ڈائریکٹر فنانس پرڈالتے ہوئے ان کے خلاف تحقیقات کاآغاز کردیا جبکہ قرضوں کے حصول کے ذمے دار دیگر افسران کو تحقیقات سے بچالیا گیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے 3 رکنی کمیٹی قائم کرکے کمیٹی کا کنوینر رکن سینڈیکیٹ ایوا اردشیر کاؤس جی کو مقررکیا ہے جبکہ دیگر اراکین میں انجینئرمبارک رضا واسطی اور کاشف احمد شامل ہیں، کمیٹی 50 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے لیے جانے کے معاملے پر یونیورسٹی کے معطل ڈائریکٹر فنانس سے تحقیقات کرے گی۔



این ای ڈی یونیورسٹی اس وقت نجی بینکوں کے 50 کروڑروپے سے زائد کے قرضوں تلے دبی ہوئی ہے تاہم ان قرضوں کے حصول کاذمے دار صرف ڈائریکٹر فنانس شرجیل احمد کو قرار دیا جارہا ہے جبکہ 2 ڈپٹی ڈائریکٹرز فنانس عبدالوہاب اورسرور امتیاز کو معاملے سے الگ کردیا گیا ہے، ایک ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس عبدالوہاب کوقائم مقام ڈائریکٹر فنانس کا چارج بھی دے دیا گیا ہے، نجی بینک سے لیے گئے قرضوں کے معاملے میں متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹرز فنانس بھی شامل رہے ہیں، مزید براں موجودہ پی وی سی ون ڈاکٹر مظفر محمود کی مدت ملازمت اس برس کے آخر میں پوری ہورہی ہے انھیں بھی تحقیقات میں شامل نہیں کیا گیا یونیورسٹی کی جانب سے لیے گئے 2 بڑے قرضے ڈاکٹر مظفر محمود کی منظوری ہی سے لیے گئے تھے۔

مقبول خبریں