الیکشن میں ایک نئی سرمایہ کاری
کیا ہم کمزور منتشر اور دھماکوں سے ڈرے سہمے پاکستانی یہ الیکشن برداشت کر جائیں گے ؟
مجھے آپ کا تو کچھ پتہ نہیں لیکن میں جو ایک کمزور دل والا ہوں وطن عزیز کے حالات سے ڈرا ہوا ہوں اور یہ ڈر آنے والے الیکشن کا ہے۔ ہمارے جیسے کمزور ملک میں یہ سیاسی ایکسرسائز کیسے چلے گی اس کا ڈر مجھے کھائے جا رہا ہے۔ جب سے میں نے اخباروں میں یہ پڑھا ہے کہ کہیں سے اربوں روپے صحافت میں بھی ڈال دیے گئے ہیں تو جہاں میرا یہ شبہ کمزور پڑ گیا ہے کہ شاید الیکشن نہ ہوں کیونکہ جس پارٹی کی طرف سے یہ ناقابل یقین حد تک زیادہ رقم بھیجی گئی ہے بلکہ لٹائی گئی ہے وہ اتنی بھولی نہیں کہ گھر کو آگ لگا کر تماشہ بن جائے اس لیے اب میں ان پاکستانیوں کی صف میں شامل ہو گیا ہوں جو الیکشنی ہیں یعنی ووٹ دینے لینے میں مصروف ہو گئے ہیں۔
یہی الیکشنی خبریں مجھے خوفزدہ بھی کر رہی ہیں کہ کیا ہم کمزور منتشر اور دھماکوں سے ڈرے سہمے پاکستانی یہ الیکشن برداشت کر جائیں گے کیونکہ الیکشن کوئی معمولی سا واقعہ نہیں ہوتا گائوں سے لے کر شہروں تک ایک ہنگامہ برپا ہوتا ہے' کھانا پینا خوب ہوتا ہے' ڈیرے آباد ہوتے ہیں' ڈھول ڈھمکے گونجتے ہیں' صلح صفائیاں ہوتی ہیں اور کئی نئی دشمنیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ ہمارے جیسے معاشروں میں جو ہوتا ہے وہ سب الیکشن میں ضرور ہوتا ہے اور اس بار چونکہ الیکشن شاید زیادہ نفع بخش ہو گا اس لیے اس میں سرمایہ کاری بہت کی جا رہی ہے اور وہ بھی اس شعبے پر جس پر اس کی زندگی میں پہلی بار ایسی بے تحاشا بہار آئی ہے۔
ورنہ سچ بات تو یہ ہے کہ اخباری نمایندوں کو ایک خاص صف میں جگہ دی جاتی تھی جس کا نام مختصر سہی لیکن رہنے دیں۔ ہزاروں نہیں لاکھوں میں جو لہر بہر سنی جا رہی ہے گو اس کی ایک چھینٹ بھی ہم تک نہیں پہنچی اور اس محرومی پر نالاں ہیں لیکن اکبر کے امیرالشعراء اور ایک رتن فیضی کا ایک شعر یاد آ گیا ہے
ہمہ آہوانِ صحرا سر نہادہ بر کف
باُمید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد
صحرا کے ہرنوں نے اپنے سر کاٹ کر ہتھیلیوں پر رکھ لیے ہیں اس امید پر کہ ایک دن تم شکار کے لیے اس طرف بھی آ نکلو گے۔ چنانچہ ہمارا سر بھی ہماری ہتھیلی پر تڑپ رہا ہے لیکن اس مرگ انبوہ میں کون مرے۔ مرنے کا بھی ایک سلیقہ چاہیے اور جب صحافت میں سیاست کا مقابلہ شروع ہو تو ایسے میں ہم لوگوں نے سیاست کو کسی صحیح یا غلط راستے پر لگانے کی کوشش ضرور کی ہے مگر کسی ایسی گندی چپقلش کا حصہ نہیں بنے جس میں کوئی اصول نظریہ نہیں صرف روپیہ ہو۔ بطور ایک کارکن اور مزدور صحافی کے میں بہت خوش ہوں کہ میرے کئی ساتھی عمر بھر کی فاقہ کشی سے نجات پائیں گے اور ان کے بال بچے بھی انسانوں کے بچوں میں شمار ہوں گے۔
کوئی سچ پوچھے تو میری خواہش اب یہ رہ گئی ہے کہ میری برادری امراء میں نہ سہی خوش حال طبقوں میں ضرور شمار ہو۔ یہ درست ہے کہ کچھ غلط لوگ بھی ہماری برادری میں در آئے ہیں لیکن ایسا تو ہر جگہ ہوتا ہے یہاں بھی سہی' یہ بات اپنی جگہ کہ ان لوگوں کی ہماری برادری میں عزت نہیں ہوتی کیونکہ ہم سب ایک دوسرے کو خوب جانتے ہیں لیکن بہتی گنگا میں ڈبکی لینا ہر ایک کا حق ہے۔ اگر کسی نے اس شہر لاہور کی تپتی دوپہروں میں سائیکل پر دوڑتے ہوئے رپورٹنگ کی ہے تو اسے اس شہر میں اب گاڑی میں گھوم پھر کر کام کرنے کا حق ہے اور میں جب اپنے کسی ساتھی کو اس حال میں دیکھتا ہوں تو دعا کرتا ہوں کہ وہ سلامت رہے اپنی تمام مراعات کے ساتھ۔
ایک آمر اور مشہور جنگجو ہٹلر نے کہا تھا کہ موت کے وقت جو رقم تمہارے بینک میں ہو گی وہ تمہاری ضرورت سے زیادہ محنت کی نشانی ہو گی' ویسے تمہیں اس فالتو محنت کی ضرورت نہیں تھی۔ ہٹلر کی یہ بات صوفیوں والی بات ہے جو زیادہ مال و دولت کو آزار سمجھتے ہیں بلکہ وہ تو دولت کو سرے سے ہی ایک بوجھ سمجھتے ہیں لیکن عام انسانوں میں یہ رویہ نہیں چلتا۔ ایک صوفی کو پیاس لگی تو وہ تالاب پر پہنچا اپنے تھیلے میں سے گلاس نکالا اور پانی لینے کے لیے اسے تالاب میں ڈالا تو اس کے برابر میں ایک چرواہے نے بھی تالاب کے پانی کو ہاتھ سے صاف کیا اور پتے وغیرہ ایک طرف کر کے دونوں ہتھیلیوں میں پانی بھر کر پینے لگا۔
یہ دیکھ کر اس صوفی نے بھی پانی والا پیالہ دور پھینک دیا اور اپنے اوپر سے ایک بوجھ اتار دیا۔ میں نے خوش قسمتی سے صحافت میں بھی ایسے درویش دیکھے ہیں جن کے گھر میں آسائش تو دور کی بات ہے دو وقت کی روٹی بھی غنیمت تھی۔ ان لوگوں نے ہمیں بتایا کہ بچو صحافت پیغمبروں کا پیشہ ہے آمدنی کا ذریعہ نہیں بس دو وقت کی روٹی ہے۔
یہ وہ لوگ تھے جو صحافت کے امام تھے اور خوش نصیب ہیں کہ ان کی اقتداء اور قیادت میں یہ پیشہ شروع کیا تھا اس کا ہمارے جیسے عام صحافی کو ایک فائدہ یہ ہوا کہ کم تنخواہ میں بھی گزر بسر ہوتی رہی اور روئے پیٹے نہیں۔ اسی سکون قلب نے سر اونچا رکھا اور کسی فہرست میں نام نہیں آیا اگرچہ اپنی اس ناداری پر شرمندگی بھی ہوئی کہ ہم کیا ہیں کہ کسی بھی فہرست میں نام نہیں۔ نہ تین میں نہ تیرہ میں۔