بڑے شہروں میں جائیدادوں کے سرکاری نرخ میں اضافہ

ایف بی آر کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی شکایت پر کان دھرنے چاہییں اور ان کا حل نکالنا چاہیے۔


Editorial July 25, 2019
ایف بی آر کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی شکایت پر کان دھرنے چاہییں اور ان کا حل نکالنا چاہیے۔ فوٹو : فائل

وفاقی حکومت نے ملک بھر کے20 بڑے شہروں میں جائیدادوں کے سرکاری نرخ میں مزید 30 فیصد اوسطاً اضافہ کر دیا ہے، اس اقدام کے نتیجے میں 40 ارب روپے کا اضافی ریونیو ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ملک اس وقت معاشی عدم استحکام کا شکار ہے اور گورنمنٹ کو ٹیکسزکی مد میں اضافہ درکار ہے تا کہ وہ ملک کے معاملات چلا سکے، لیکن کچھ ایسے حقائق بھی ہیں جنھیں ایف بی آر کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ جائیداد کی ویلیو پر جو ٹیکس کی شرح وہ لگا رہے ہیں کیا وہ درست ہے؟ کراچی کے بعض علاقوں میں پراپرٹی ویلیوایشن ریٹس میں 75 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے، شہر قائد تو لاکھوں رہائشی اپارٹمنٹس کا وسیع جنگل ہے۔

چھ ماہ میں مجموعی طور پر ویلیو ایشن ریٹس میں 50 فیصد اوسطاً اضافہ ہوا ہے۔ نئے سرکاری ریٹس کا مقصد زمین اور اپارٹمنٹس کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے وفاقی ٹیکس محاصل میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، اس اقدام سے ٹیکس وصولی میں اضافہ ہو گا، تاہم پراپرٹی ڈیلرز اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس حکومت کے اس اقدام سے مطمئن نظر نہیں آتے، ایسا نہ ہو کوئی تنازع کھڑا ہو جائے، ان کے بقول ٹیکسز کی نئی شرح سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مزید سرمایہ کاری رک گئی ہے، جس کے باعث معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایف بی آر کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی شکایت پر کان دھرنے چاہییں اور ان کا حل نکالنا چاہیے۔

دوسری جانب اس حقیقت کو بھی مد نظر رکھیں کہ ایک عام آدمی نے کن مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بیس یا پچیس برس پہلے جو مکان چند لاکھ روپے میں بنایا تھا، اگراس کی قیمت اب کروڑوں میں ہو گئی ہے تو حقیقی ریٹس کی پالیسی کے تحت ٹیکسز کی شرح ایک ایسا اضافی بوجھ ہو گا جو کہ عام آدمی کو برداشت کرنا ناممکن ہو گا۔ ان سطور میں ایف بی آر سے یہی اپیل کی جا سکتی ہے کہ جائیدادوں کے سرکاری نرخ مقرر کرتے وقت عام آدمی کی مشکلات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ عام آدمی تو ایمانداری سے ٹیکسز ادا کر کے امور حکومت میں اپنا حصہ پہلے ہی ڈال رہا ہے۔

مقبول خبریں