مودی ثالثی ایشو پر خاموش کیوں

بھارت مسئلہ کشمیر پر بامقصد مکالمہ کرے، اب صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والی ڈپلومیسی سے کام نہیں چلے گا۔


Editorial July 26, 2019
بھارت مسئلہ کشمیر پر بامقصد مکالمہ کرے، اب صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والی ڈپلومیسی سے کام نہیں چلے گا۔ فوٹو: فائل

EDINBURGH, UK: امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مشیربرائے معاشی امور لیری کڈلو نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے بیان کا معروضی پہلو دنیا اور بھارت کے سامنے رکھ دیا ہے،جس پر بھارت نے حسب معمول بلبلانا شروع کردیا ہے۔

ٹرمپ کے مشیر کا کہنا تھا کہ کشمیر ثالثی پر صدر ٹرمپ نے جو کہنا تھا کہہ دیا، جب کہ دوسری طرف بھارتی لوک سبھا میں دوسرے روز بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی، اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ ثالثی سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کی وضاحت بھارتی وزیراعظم مودی خود لوک سبھا میں آکر پیش کریں۔

میڈیا کے مطابق صحافی نے صدر ٹرمپ کے مشیر اقتصادی امور لیری کڈلو سے کشمیر پر ثالثی سے متعلق امریکی صدر کے بیان کے بارے میں استفسار کیا تو انھوں نے بھارتیوں کے سامنے اصل بات کھول کر رکھ دی۔

امریکی صدر کے مشیر سے پوچھاگیاکہ بھارت ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی تردیدکر رہا ہے کہ نریندر مودی نے کشمیر پر ثالثی کے لیے ان سے کہا ہے، کیا یہ بات صدر ٹرمپ نے خود گھڑی ہے؟۔ امریکی مشیر لیری کڈلو نے واضح الفاظ میںکہاکہ امریکی صدر خود سے کوئی بات نہیںگھڑتے، میں اس سوال کو ہی انتہائی نامناسب سمجھتا ہوں، ٹرمپ نے جوکہنا تھا وہ کہہ دیا ہے۔

بھارت کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی ممکنہ پیشکش موجودہ صورتحال میں چھچھوندر بن گئی ہے جس کا بے جے پی حکومت کے لیے اگلنا یا نگلنا محال ہے ۔ حیرت ہے کہ شملہ معاہدہ اور لاہور ڈیکلریشن کا دانشورانہ مقامی حلقوں میں شور مچا ہوا ہے مگر وزیراعظم مودی بوجوہ خاموش ہیں، وہ ایوان میں یا میڈیا کو آکر بتاتے کیوں نہیں کہ انھوں نے صدر ٹرمپ سے راز والی ایسی کوئی بات نہیں کی، ٹرمپ غلط بیانی کر رہے ہیں۔

یوں صدر ٹرمپ نے خود سے بلاشبہ کوئی چیز نہیں گھڑی بلکہ ان کا حوالہ مودی کی اپنی ذات ہے، وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہیں اسے مودی سے بڑھ کر کوئی اور کون بتا سکتاہے تاہم یہی بات اگر بھارت کو ناگوار گذری ہے تو اس میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کیا قصور۔ بھارت ادراک کرے کہ تاریخ سفاک ہے ، وہ خود کو دہراتی ہے، کشمیریوں کے حق خودارادیت اور ہزاروں کشمیریوں کی شہادتوں اور حریت پسندی کی والہانہ جدوجہد کو دوطرفہ مسئلہ کہہ کر ٹالنے کا اب وقت نہیں رہا۔

یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران بتایا تھاکہ دو ہفتے قبل انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے ثالث بننے کی درخواست کی اور کہاکہ کیا آپ ثالث بنیں گے، میں نے پوچھا کس چیز پر؟ تو مودی نے کہاکہ آپ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کریں۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پرانڈین میڈیا اور سیاست میں آگ لگی ہوئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ اجلاس میں ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی صدرکے مسئلہ کشمیر سے متعلق بیان پرخود وضاحت پیش کریں۔

بھارت کے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے بدھ کوکہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پرثالثی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بھارتی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ جاپان میں امریکی صدر ٹرمپ اوربھارتی وزیراعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر پرثالثی کے معاملے پرکوئی بات نہیں ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر بھارت کے قومی وقار کا مسئلہ ہے لہذا اس پر کسی بھی کی ثالثی خارج از امکان ہے۔

بھارتی وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی نے امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر پرکسی قسم کی ثالثی کی کوئی درخواست نہیں کی ، اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے وضاحت طلب کیے جانے کے بعد اب بی جے پی رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے بھی بھارتی وزیراعظم سے کہا ہے کی ہے کہ وہ خود قوم کواعتماد میں لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں وزیراعظم مودی کو اس کی تردیدکرنی چاہیے۔کشمیر سے متعلق بیان محکمہ خارجہ نے نہیں خود صدرٹرمپ نے دیا۔1994کی پارلیمانی قرارداد کے بعد کوئی بھی وزیر اعظم مسئلہ کشمیرپر ثالثی کی اجازت نہیں دے سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کی ثالثی کی بات کو عالمی پذیرائی ملنے کا امکان ہے، اسے کشمیری رہنما اور ملکی سیاست دان بھی خوش آیند کہہ رہے ہیں، حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے وزیراعظم عمران خان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں قیام امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما فخر امام کا کہنا ہے کہ ثالثی کی پیش کش ایک بریک تھرو ہے جس سے مسئلہ کشمیر کو عالمی حیثیت ملی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بامقصد مکالمہ کرے، اب صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والی ڈپلومیسی سے کام نہیں چلے گا۔وقت نے بھارت کو کشمیر کی ثالثی پر گھیر لیا ہے۔

مقبول خبریں