ورلڈ فیشن بائے بائے فلاحی پراجیکٹس پرکام کرونگا محمودبھٹی

ہسپتال، میڈیکل اورنرسنگ کالج کے ساتھ فیشن سکول بھی بناؤنگا: انٹرنیشنل فیشن ڈیزائنر کا ’ایکسپریس‘کوخصوصی انٹرویو


Qaiser Iftikhar September 17, 2013
فوٹو : فائل

دیارغیر میں وطن عزیزکا نام روشن کرنے والوں کی فہرست بڑی طویل ہے لیکن ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی کامیابیاں نوجوانوں کے لیے مشعل راہ بن چکی ہیں۔

انہی میں سے ایک نام پاکستانی نژاد فرانسیسی ڈریس ڈیزائنرمحمود بھٹی کابھی ہے۔ جنہوں نے فیشن کا گھر مانے جانیوالے ملک فرانس میں اپنی خدادادصلاحیتوں کے بل پرڈریس ڈیزائننگ کے شعبے میں ایسی منفرد پہچان بنائی ہے کہ آج ان کا نام دنیا کے مشہورترین فیشن ڈیزائنرمیں شامل ہے۔ محمود بھٹی نے نا صرف بیرون ممالک میں شناخت بنائی بلکہ پاکستان میں فیشن انڈسٹری کی بنیاد رکھنے میں بھی انہوں نے اہم کردارادا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے آج پاکستان فیشن انڈسٹری ترقی کی منزل پرگامزن ہے۔ دوسری جانب ان کافلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ وطن عزیزسے ہزاروں میل دوربسنے والے محمود بھٹی کادل ہروقت پاکستان کیلئے دھڑکتا ہے اوروہ پاک وطن کی ترقی کیلئے ہروقت کوشاں رہتے ہیں۔ جب بھی ملک میں کوئی قدرتی آفت آتی ہے تومحمود بھٹی دل کھول کراپنے پاکستانی بہن بھائیوں کی سپورٹ کرتے ہیں۔



حال ہی میں محمود بھٹی پاکستان کے مختصردورے پرلاہورپہنچے توانہوں نے ''ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویودیتے ہوئے اپنی کامیاب زندگی اورمستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے دلچسپ گفتگوکی، جوقارئین کی نذرہے۔

محمود بھٹی نے کہا کہ تاریخی عمارتیں کسی بھی ملک کی پہچان ہوتی ہیں، اس حوالے سے ہمارا ملک بھی تاریخی عمارتوں اورورثہ سے مالا مال ہے لیکن مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد اورشالامارباغ سمیت دیگرتاریخی عمارتوں کی خوبصورتی ماند پڑچکی ہے۔ میں ان تاریخی عمارتوں کو ان کی اصل شکل میں واپس لانے کیلئے کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میں نے ان عمارتوںکی حالت کوبہترکرنے کیلئے کچھ آئیڈیاز تیارکئے ہیں اگران پرعملدرآمد کرلیا جائے تومیں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ ہماری تمام تاریخی عمارتیں محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی اصل شکل میں واپس آسکتی ہیں۔ دوروزقبل وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کے دوران تاریخی شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، شالامارباغ سمیت دیگر تاریخی عمارتوں کوان کی اصل شکل میں واپس لانے کی تجویزدی ہے، جس کوسراہتے ہوئے انہوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ان پراجیکٹس کو مکمل کرنے کیلئے مجھے ایک قابل ٹیم کی ضرورت ہے جو میرے آئیڈیاز کے مطابق کام کرے گی۔

مجھے حکومت سے اس مد میں کوئی پیسہ یا عہدہ نہیں چاہئے۔ میں پاکستان کیلئے کام کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ میں ہسپتال، میڈیکل کالج، نرسنگ سکول کے ساتھ ساتھ ایک بین الاقوامی معیارکا فیشن سکول بھی لاہورمیں بنانے کے منصوبوں پرجلد کام شروع کرنا چاہتاہوں۔ اس سلسلہ میں کاغذی کارروائی کوحتمی شکل دی جارہی ہے۔ دسمبرمیں پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے فیشن شو منعقد کرنے جا رہا ہوں ، جس میں فرانس کے معروف ڈیزائنر، ہیئر سٹائلسٹ، میک اپ آرٹسٹ اورماڈلزحصہ لیں گے جبکہ غیرملکی میڈیا بھی ان شوزکی کوریج کیلئے پاکستان آئے گا۔ میں رواں برس کے آخرمیں ورلڈ فیشن انڈسٹری کوخیرباد کہہ کرکچھ دوسرے پراجیکٹس پرکام شروع کروں گا۔

فیشن انڈسٹری میں ، میں نے 32 برس گزارے اور کامیابی کی بلندیوں تک پہنچا۔ اس موقع پرجب بھی میرا تعارف کروایا جاتا تو پاکستان کا نام پہلے آتا تھا ۔ جس کو سن کرسرفخرسے بلند ہوجاتا تھا۔ فیشن کے گھرپیرس میںجوکامیابیاں ملیں وہ خواب جیسی ہیں۔ کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے اتنی شہرت، دولت اورمقام ملے گا۔ میں نے اپنی جوانی فرانس اور یورپ میں گزاری اوروہاں کام کرتے ہوئے بہت محنت کی۔ میرے نزدیک وقت کی بہت اہمیت ہے اورمیں نے ہمیشہ وقت کی قدرکی ہے اور یہی میری کامیابی کا راز بھی رہا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ فرانس ہی نہیں دنیا بھرکی تمام بڑی فیشن انڈسٹریوں میں کام کی وجہ سے مجھے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

میرے فیشن انڈسٹری کوخیرباد کہنے کے فیصلہ پر لوگ حیرت زدہ ہیں، مگرمیں اب کچھ اور کرنا چاہتا ہوں۔ میں پاکستان میں بسنے والے نوجوانوں کیلئے بہت کچھ کرنے کاارادہ رکھتاہوں۔ میڈیکل کالج، نرسنگ کالج، فیشن سکول سمیت دیگر پراجیکٹس سے نوجوانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ تعلیم اورصحت کے شعبوں پردنیا بھر میںخاص توجہ دی جاتی ہے مگرہمارے ہاں ان شعبوں کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہے۔ میں یہ تمام پراجیکٹس سیاست میں آنے کیلئے نہیں کررہا اورنہ ہی اس کے پیچھے کوئی خاص مقصد ہے۔ میرے پاس پہلے ہی نام، شہرت اوردولت ہے، اس لئے ان پراجیکٹس کوصرف اورصرف ملکی ترقی کیلئے شروع کرنے جارہاہوں۔

جہاں تک ہسپتال بنانے کا تعلق ہے تو جب میں صرف 13برس کی عمرمیں لاہورکے میوہسپتال میں علاج کیلئے ایک ماہ تک داخل رہا تو اس کے حالات دیکھ کربہت افسوس ہورہا تھا۔ چھتوں سے پانی ٹپک رہا تھا، جگہ جگہ گندگی اور صفائی کے انتظامات انہتائی ناقص تھے۔ اس وقت میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ جب بھی میرے پاس دولت آئی توایک ایسا ہسپتال بناؤں گا جہاں پرلوگوںکو بہترعلاج کے ساتھ ساتھ صاف ستھرا ماحول ملے گا۔ میں نے ایک ایسا ہی ہسپتال لاہورمیں بنایا اوراب بقیہ پراجیکٹس پربھی جلد کام شروع کردیا جائے گا۔



ایک سوال کے جواب میں محمود بھٹی نے کہا کہ مجھے سیاست میں آنے کا شوق نہیں ہے اورنہ ہی مجھے کوئی وزارت چاہئے۔ حالانکہ میرے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے اچھے مراسم ہیں جن سے ملاقات بھی ہوتی ہے مگرمیں نے کبھی سیاست کی طرف آنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ البتہ میں بہت سے غیرملکیوںکو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیارکررہا ہوں۔ لیکن سب لوگ یہاں آنے سے خوفزدہ ہیں۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات ہیں۔ اسی لئے فرانس میں پاکستان کا امیج بہت خراب ہوچکا ہے۔ لوگ یہاں آنے سے گھبراتے ہیں بلکہ صاف انکار کر دیتے ہیں۔ دسمبر میں فرانس سے پاکستان آنے والے گروپ کومیں اپنی گارنٹی پر یہاں لاؤنگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری کوبھی بھارتی فلم انڈسٹری کی طرح ترقی کرنی چاہئے۔ جہاں تک میری بات ہے تومیں فلمسازی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ میں فلم بنانے میں پیسہ لگانے کی بجائے لوگوں کی فلاح کیلئے پیسہ خرچ کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔

محمودبھٹی نے فلمسٹار ریشم کے ساتھ شادی کرنے یامحبت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایاکہ ریشم کوکافی سالوں سے جانتاہوں اوروہ صرف میری اچھی دوست ہیں، ان کے ساتھ شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ لوگ بلاوجہ ان کے ساتھ میری شادی کی افواہیں پھیلاتے رہتے ہیں۔ ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ محمود بھٹی مختصردورے کے دوران لاہور کے بعد کراچی اورپھر اسلام آباد میں اہم شخصیات سے ملاقات کریں گے اورپھرفرانس روانہ ہوجائیں گے۔