کراچی اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی23200کی حد بحال

کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 26.69 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر24 کروڑ28 لاکھ48 ہزار 680 حصص کے سودے ہوئے


Business Reporter September 16, 2013
44 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں بھی27 ارب49 کروڑ62 لاکھ41 ہزار790 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ فوٹو: فائل

نئی مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود میں اضافے کے بینکنگ سیکٹر پر مثبت اثرات کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو اتارچڑھاؤ کے بعد تیزی کا رحجان غالب رہا جس سے انڈیکس کی23200 کی حد بحال ہوگئی۔

44 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں بھی27 ارب49 کروڑ62 لاکھ41 ہزار790 روپے کا اضافہ ہوگیا، کاروبار کا آغاز مندی سے ہوا جو ایک موقع پر83.62 پوائنٹس کی کمی تک جا پہنچی تھی لیکن بعد ازاں یوبی ایل، نیشنل بینک اور ایم سی بی بینک میں خریداری کی نمایاں لہر کے سبب مندی کے اثرات زائل ہوگئے اور مارکیٹ تیزی کی جانب گامزن ہوئی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر49 لاکھ 84 ہزار36 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔



جبکہ مقامی کمپنیوں کی جانب سے6 لاکھ82 ہزار286 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے2 لاکھ 65 ہزار731 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے40 لاکھ36 ہزار18 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے مارکیٹ کا گراف بلندی کی جانب گامزن ہوا۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا ہے کہ آئندہ کاروباری سیشنز کے دوران مارکیٹ میں اتارچڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ بیشتر شعبے شرح سود میں اضافے کے حق میں نہیں ہیں۔

تیزی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس74.64 پوائنٹس کے اضافے سے 23242.68 اور کے ایس ای30 انڈیکس66.55 پوائنٹس کے اضافے سے 17956.93 ہوگیا جبکہ اس کے برعکس کے ایم آئی30 انڈیکس418.94 پوائنٹس کی کمی سے39545.97 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 26.69 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر24 کروڑ28 لاکھ48 ہزار 680 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار332 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں145 کے بھاؤ میں اضافہ 166 کے داموں میں کمی اور21 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں سیمینس پاکستان کے بھاؤ45.32 روپے بڑھ کر 956.76 روپے اور آئسلینڈ ٹیکسٹائل کے بھاؤ32.64 روپے بڑھ کر 832.64 روپے ہوگئے جبکہ سینوفی ایونٹیز کے بھاؤ27.20 روپے کم ہو کر 516.80 روپے اور ٹریٹ کارپوریشن کے بھاؤ12.28 روپے کم ہوکر233.51 روپے ہوگئے