بہت مشکل ہے اپنے ’’من‘‘ کو پڑھنا

بابا یحییٰ خان تو کہتے ہیں کہ ہر انسان کے اندر کسی نہ کسی جانور کی خصوصیات پائی جاتی ہیں


قمر مختار July 30, 2019
بڑا مشکل ہے اپنے من کو پڑھنا اور سچ بھی کہنا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا۔ عرش، عدن (یہ ایک جنت ہے)، قلم اور آدمؑ۔ بلکہ آدمؑ کے بارے میں تو فرمایا کہ ''اسے میں نے اپنے ''دونوں'' ہاتھوں سے بنایا ہے۔ اور پھر اس میں اپنی روح پھونکی''۔ کہتے ہیں کہ تخلیق آدم کےلیے اللہ تعالٰی نے جنت کی مٹی کے علاوہ وہ سب کچھ بھی استعمال کیا جو اس کی تمام مخلوقات کا خاصہ اور خلاصہ تھا۔ اور اسے اشرف المخلوقات کا اعزاز بخشا۔ یوں انسان اپنے اندر پوری کائنات سموئے ہوئے ہے۔ اور یہ باہرسے بھی احسن تقویم ہے۔ حتیٰ کہ یہ واحد تخلیق ہے کہ جس کے اندر اس کا خالق خود بھی سمایا ہوا ہے۔

رب دلوں میں رہتا ہے۔ یہ الگ بات کہ بندہ رب کو اپنے دل کتنی جگہ دیتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو تو اس بات پتہ ہی نہیں کہ ان کے دل میں رب بھی رہتا ہے۔ ورنہ وہ تو رب سے بھی اس رہائش گاہ کا ضرور کرایہ طلب کرتے۔ اور حکومتوں کو اگر پتہ چل جائے کہ کسی کے دل کوئی اور رہ رہا ہے تو وہ بھی ضرور اس پر کرایہ داری ٹیکس لگائیں۔ ہمیں تو بس اس بات کا پتہ ہے کہ دل رب کا گھر ہے اسے خالی نہیں رہنا چاہیے۔ مکین اپنے مکان میں ہو تو اچھا ہے۔ اور دماغ کو بھی کہا جاتا ہے کہ خالی دماغ شیطان کا گھر۔ لہٰذا دماغ کو مصروف رکھنا بھی ضروری ہے۔

جیسا کہ ہر انسان میں کئی جہان آباد ہیں۔ بابا یحییٰ خان تو کہتے ہیں کہ ہر انسان کے اندر کسی نہ کسی جانور کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ خود ہر وقت کالے رنگ کا لباس پہن کر رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے اندر کے انسان میں ''کاگا'' کی خصوصیات زیادہ پائی جاتی ہیں۔ ہمارے پنجاب میں منڈیر پر کاگا کے بولنے کو مہمان کی آمد کا اعلان سمجھا جاتا تھا۔ جیسے ہی کوا بنیرے پر بیٹھ کر کائیں کائیں کرتا، گھر والے مہمان کے استقبال کی تیاریاں شروع کر دیتے، جبکہ اب کاگا بولے تو گھر کو باہر سے تالا لگا کر بندوبست کرتے ہیں یا موبائل پر ہی بتا دیتے ہیں کہ میں تو تین دن سے کراچی آیا ہوا ہوں۔

بانو میری دوست ہے، ہم ایک ہی دن ایک ہی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ایک ہی ٹاٹ پر بیٹھ کر ایک ہی اسکول میں پڑھے اور بعد میں ایک ہی یونیورسٹی میں بھی اکٹھے ہی پڑھتے رہے۔ بانو نے ایک سرکاری ادارے میں نوکری کرلی۔ بانو نے بتایا کہ اس کے ادارے نے خواتین افسران کی ''شخصیت سازی'' کےلیے ایک ٹریننگ کا انتظام کیا۔ بانو بھی شامل تھی۔ ٹریننگ کے آغاز میں ہی خاتون ٹرینر نے کہا کہ آپ لوگ پانچ منٹ تک آنکھیں بند کرکے سوچیں کہ آپ کی شخصیت کس جانور سے مماثلت رکھتی ہے۔ اب سب نے باری باری بتانا شروع کیا '' گائے''، ''مورنی''، ''چڑیا''، ''بلبل''۔ پانچویں نمبر ایک لحیم شحیم خاتون ابھی تک آنکھیں موندے بیٹھی تھیں۔ ساتھ والی نے ہلایا تو جیسے کسی خواب سے آنکھ کھلی ہو۔ جلدی سے دونوں بازو پھیلا کر ہاتھ لہرا کر بولیں ''تتلی، تتلی''۔ بس پھر کیا تھا، کلاس روم قہقہوں سے گونج اٹھا۔

یہ تو تھیں خواتین، جنھوں نے بھانت بھانت کی بولیاں بولیں، جبکہ مرد حضرات تو ایک عرصے تک اپنے آپ کو صرف شیر ہی کہتے رہے۔ ہاں جب سیاسی خریدو فروخت کا دور آیا تو ادھر سے ادھر جانے والوں کو ''گھوڑے'' اور ''لوٹے'' کہا جانے لگا۔

ہم نے بہت اشتیاق سے پوچھا ''بانو! تونے کیا کہا تھا؟''

''پہلے تم پانچ منٹ آنکھیں بند کرکے دیکھو اور بتاؤ۔'' بانو نے الٹا ہمیں حکم دیا۔

آنکھیں بند کیں تو معلوم ہوا کہ ہمارے من میں تو پورا جنگل آباد ہے۔ پتہ چلا کہ جب کوئی کمزور سامنے ہو تو ہم شیر ہوتے ہیں۔ جب مقابل کوئی طاقتور ہو تو ہم گیدڑ ہوتے ہیں۔ جب کسی چالاک سے واسطہ پڑے تو ہم نرے الو ثابت ہوتے ہیں۔ کوئی معصوم سامنے ہو تو لومڑی بھی ہم سے پناہ مانگے۔

ہم نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ ''ہاں جی! بتاؤ اب؟'' بانو نے پوچھا۔

''کیا بتاؤں؟ بڑا مشکل ہے اپنے من کو پڑھنا اور سچ بھی کہنا''۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔