گوجرانوالہ سے گرفتار 2 طلبا سانحہ چلاس کے ملزمان کے ساتھی نکلے

مرکزی ملزمان کو فون پر فوج اور پولیس افسران کی نقل و حرکت کی اطلاع دیتے تھے


News Agencies September 17, 2013
مرکزی ملزمان کو فون پر فوج اور پولیس افسران کی نقل و حرکت کی اطلاع دیتے تھے. فوٹو: فائل

سانحہ چلاس میں سیکیورٹی افسران قتل کیس کے سلسلے میں گوجرانوالہ مدرسے سے حراست میں لیے گئے 21 طلبہ میں سے 2طلبہ ملزمان کے ساتھی نکلے۔

، دونوں ملزمان سانحہ چلاس کے مرکزی ملزمان کو فون پر سکیورٹی افسران ، کرنل کیپٹن اور ایس ایس پی کی نقل و حرکت کی اطلاع دیتے تھے ۔ حساس اداروں نے دونوں ملزمان کو تحویل میں لے کر باقی 19 طلبہ کو رہا کردیا ۔ پیر کو سکیورٹی حکام کے مطابق گزشتہ روز گوجرانوالہ میں سابق ایم این اے قاضی حمید اللہ کے مدرسہ جامعہ مظاہر العلوم پر چھاپہ مار کر چلاس اور چترال کے علاقے سے تعلق رکھنے والے 21 طلبہ کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں سے 2 طلبہ سانحہ چلاس میں میں ملوث مرکزی ملزم کے ساتھی تھے ۔



دونوں طلبہ دلبر خان بن لشکر اور عطاء الرحمن بن رضوان اللہ فوجی اور پولیس افسران کی نقل و حرکت پر بھرپور نظر رکھے ہوئے تھے جس کی اطلاع فون پر سانحہ چلاس کے مرکزی ملزم کو دیتے تھے ۔ یاد رہے کہ 15 اگست کو چلاس میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے کرنل ، کیپٹن اور ایس ایس پی شہید ہوئے تھے ۔