پاک فوج کے جوانوں کی شہادت

دہشت گردوں کا خاتمہ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے


Editorial July 29, 2019
دہشت گردوں کا خاتمہ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ فوٹو: فائل

شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر اور بلوچستان میں دہشت گردی کے دو مختلف واقعات میں پاک فوج اور ایف سی کے ایک افسر سمیت دس جوان شہید ہو گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر پاک فوج کی گشت پر مامور پارٹی پر سرحد پار سے دہشت گردوں کی فائرنگ سے چھ جوان شہید ہوئے۔ دوسری جانب ایف سی بلوچستان کے ہوشاب اور تربت کے درمیانی علاقے میں کومبنگ آپریشن میں مصروف ایف سی کے جوانوں پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک کیپٹن سمیت چار جوان شہید ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر چھ جوانوں اور بلوچستان میں ایک افسر سمیت چار جوانوں کی شہادتیں امن کے لیے ہماری قربانیوں کی عکاس ہیں، ہم نے کوشش کر کے قبائلی علاقوں میں سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنایا، اب سرحد کو محفوظ اور مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کر دی گئی ہے، دشمن قوتیں بلوچستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں ، انشاء اﷲ وہ اپنی کوشش میں ناکام ہوں گی۔

صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطن عزیز کے لیے جان قربان کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے شہداء کے بلندی درجات اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔صدرمملکت نے کہا کہ شر پسند عناصر پاکستان کی ترقی اور استحکام کے مخالف ہیں، وطن کے دفاع میں مسلح افواج کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی، وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا ملک کے دفاع کے لیے جانوںکا نذرانہ پیش کرنے والوںکو سلام پیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ شہداء کے لواحقین کے غم میں برابرکے شریک ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہاکہ ملک کا دفاع اورحفاظت ہرقیمت پریقنیی بنائیںگے، شکست خوردہ عناصر کی مذموم کوششیں ہمیشہ کی طرح ناکام رہیںگی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے شہید ہونے والے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے خاندانوں کو سلام پیش کرتا ہوں، یہ حملے دشمن قوتوںکے دم توڑتے عزائم کی علامت ہیں، ہم اپنے مادر وطن کا دفاع ہرقیمت پر یقینی بنائیںگے اور اپنی جانیںقربان کرکے مادر وطن کا دفاع کریں گے۔پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھاکہ پاکستان استحکام سے پائیدار امن کی جانب بڑھ رہا ہے، ایسے میں یہ مایوس دشمن قوتوںکی دم توڑتی کوششیں ہیں، شکست خوردہ عناصرکی مذموم کوششیں ہمیشہ کی طرح ناکام رہیںگی۔ پاکستان امن واستحکام کی طرف گامزن ہے، اب عالمی برادری علاقائی امن کے لیے اپناکردارادا کرے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاک افواج، دیگر سیکیورٹی ادارے اور پاکستانی عوام کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں' سرحدوں کی حفاظت پر مامور پاک فوج کے جوانوں پر افغانستان کے علاقے سے دہشت گردوں کی فائرنگ کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل بھی ایسے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں' پاکستان نے متعدد بار افغان حکومت سے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی اور سرحدوں کا دفاع یقینی بنانے کا مطالبہ کیا لیکن افغان حکومت ایسا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے' اگر اس نے سرحدوں پر سیکیورٹی کا انتظام موثر بنایا ہوتا تو دہشت گردوں کی جانب سے پاک فوج کے جوانوں پر فائرنگ سے ہونے والے جانی نقصان کا افسوسناک واقعہ رونما نہ ہوتا، افغان حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنے علاقے میں دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں سے روکے۔افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردوں کا حملہ آور اس امر کا ثبوت ہے کہ افغانستان کے سیکیورٹی ادارے یاتو وہاں تعینات ہی نہیں ہیں یا پھر وہ دہشت گردوں کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ افغانستان کی حکومت کو اس پہلو پر غور کرنا چاہیے اور اپنی ناکامی کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔

دہشت گردوں کا خاتمہ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے' افغان حکومت کو یہ حقیقت نہیں بھولنا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد موجود ہیں اس کی اپنی سلامتی کو بھی خطرات لاحق رہیں گے۔ پاکستان سرحدوں پر جو باڑ لگا رہا ہے ، وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اگر افغانستان کی فورسز سرحدوں پر الرٹ ہوں تو کوئی دہشت گرد افغانستان کی جانب سے حملہ آور نہیں ہوسکتا۔پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا سلسلہ جاری رکھے اور اس مشن کو ہر صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے لیے مسلسل کوشش کررہا ہے بلکہ پاکستان افغان طالبان کو بھی افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لانے کی جدوجہد کررہا ہے ، اس لیے افغان حکومت کو بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

گزشتہ دنوں افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا' اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے اور دہشت گردی کے ناسور کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن امن کا گولی سے جواب تشویشناک ہے۔ شمالی وزیرستان اور تربت میں پاک فوج کے جوانوں پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے اور بزدلانہ فعل ہے' امن دشمن عناصر اپنی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمارے جوانوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے' پاک فوج ، امن اور سلامتی کے دشمنوں کے خلاف ہمہ وقت برسرپیکار ہے' پاک فوج نے پاکستان سے دہشت گردوں کا صفایا کردیا ہے۔ قوم اپنا آج اس کے کل کے لیے قربان کرنے والے ہیروز کو سلام پیش کرتی ہے۔ دوسری جانب تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس انتہائی افسوسناک واقعہ کے بعد پاکستان کو افغان سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا جس میں افغان حکومت سے احتجاج کرتے ہوئے سرحدوں کا سیکیورٹی نظام مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہو۔

قوم یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ وہ گولی جو ہمارے جوانوں پر چلتی ہے وہ دہشت گردوں کے سینے میں کیوں نہیں اتاری جاتی' کیا شہادتیں صرف ہمارا ہی مقدر ہیں، اگر ایسا واقعہ بھارت یا امریکا کے ساتھ رونما ہوا ہوتا تو اب تک اس کا انتہائی سخت جواب دیا جا چکا ہوتا تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ سرحدوں پر دہشت گردوں کی آمدورفت اور حملوں کو روکنے کے لیے سیٹلائٹ نظام اور جاسوسی آلات کی تنصیب ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ دہشت گردوں کے حملوں سے پیشتر ہی ان کی آمد کا پتہ چل سکے اور بروقت حفاظتی انتظامات کیے جا سکیں۔پاک افغان سرحد کو پیدل اور بذریعہ کار کراس کے لیے بند کردیا جانا چاہیے اور صرف تجارتی ٹرانسپورٹ کو ہی بائی روڈ سرحد کراس کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

پاکستان میں دہشت گردی اور جرائم کی بنیادی وجہ پاک افغان سرحد اور ایران کے ساتھ سرحد پر سخت حفاظتی انتظامات کا نہ ہونا ہے ۔بلوچستان میں دہشت گرد ایک عرصے سے سرگرم ہیں' آئے دن وہ سیکیورٹی اداروں اور حساس تنصیبات پر حملے کرتے رہتے ہیں، اب تک اپنائے گئے تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود دہشت گردوں کے حملوں کو روکا نہیں جا سکا' جو اس امر کا اغماز ہے کہ خطے میں قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جدید سیٹلائٹ نظام اور جاسوسی کے آلات دہشت گردوں کے حملوں کو روکنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ دہشت گردوں کا وجود اور ان کی کارروائیاں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ چند غیرملکی قوتیں ان کی پشت پناہی اور انھیں مالی اور دفاعی معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ دہشت گردی کی ان بزدلانہ کارروائیوں سے ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہمارے سیکیورٹی اداروں کا غیرمتزلزل عزم اور بلند حوصلے دشمنوں کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

مقبول خبریں