بے جا سختی اور ڈانٹ ڈپٹ بچوں كو نفسياتی مريض بنا سكتی ہے امریکی ماہرین

سختی کرنے سے بچوں كی نہ صرف خود اعتمادی ميں كمی واقع ہوتی ہے بلكہ اس سے بچے كی شخصيت بھی تباہ ہوجاتی ہے، ماہرین


APP September 17, 2013
سختی کرنے سے بچوں كی نہ صرف خود اعتمادی ميں كمی واقع ہوتی ہے بلكہ اس سے بچے كی شخصيت بھی تباہ ہوجاتی ہے، ماہرین

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ بے جا سختی اور ڈانٹ ڈپٹ بچوں كو نفسياتی مريض بنا سكتی ہے۔

امريكی ماہرين كے مطابق جن كم عمر بچوں كو والدين بے جا ڈانٹتے اور ان پر سختی كرتے ہيں ايسے بچے ڈپریشن جیسے نفسياتی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں، بچوں پر بے جا ڈانٹ ڈپٹ كرنا اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا بچوں كو مارنا، اس لئے والدین کو بچوں پر سختی کرنے سے اجتناب كرنا چاہيئے، ايسے بچے جارحانہ رويے كے بھی مالک بن جاتے ہيں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سختی کرنے سے بچوں كی نہ صرف خود اعتمادی ميں كمی واقع ہوتی ہے بلكہ اس سے بچے كی شخصيت بھی تباہ ہوجاتی ہے اور وہ معاشرے كا كبھی اہم ركن نہيں بن سكتا ہے، والدين كو چاہئے كہ بچوں پر بے جا سختی كرنے سے گريز كريں ان سے دوستانہ رويہ استوار كريں تاكہ وہ والدين سے ہر مسئلے پر بات كر سكيں، بچوں کے ساتھ مثبت رویہ رکھنے سے ان كی خود اعتمادی اور ذہنی استعداد بڑھتی ہے اور معاشرے كے مفيد فرد ثابت ہوتے ہیں۔