ہماری یہ حالت زار کیوں ہے

پاکستان میں خود کش حملے کرنے کا آغاز اسلام آباد میں مسجد حفصہ کی طالبات کی بے رحمانہ خونریزی سے ہوا.


Abdul Qadir Hassan September 18, 2013
[email protected]

قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے میرے دوست ہمیں درست معلومات دے رہے ہیں۔ان کے پاس دیکھی بھالی معلومات ہیں صرف سنی سنائی باتیں نہیں ہیں۔ میں ان کے کالم ضرور پڑھتا ہوں اور ان کی پسند و نا پسند کو ایک طرف کر کے اصل بات کو تلاش کرکے اسے ذہن میں رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اب تو نہ جانے طالبان کے کتنے گروہ ہیں اور ان میں سے کتنے اصلی اور کتنے کاروباری ہیں جن کا پاکستان کے اندر ڈاکے زنی کا کاروبار چل رہا ہے۔ قبائل کا نظریاتی گروہ افغانستان سے سوویت یونین کی شکست کے بعد سامنے آیا۔ جن افغانوں نے روس کے خلاف اس کے نظریات کی مخالفت میں جنگ کی تھی وہ افغانستان میں اپنی حکومت بنا کر نئی مہم میں شروع ہو گئے۔ انھوں نے ملا عمر کو اپنا امیر المومنین بھی منتخب کر لیا جو کسی بھی دوسرے عام افغان کی طرح زندگی بسر کرتا تھا اور پہچانا نہیں جاتا تھا کہ ان کا سربراہ کون ہے یعنی وہ قرون اولیٰ کے حکمرانوں کے انداز میں زندگی بسر کرتا تھا۔ اب بھی صحیح مخلص اور موثر مجاہدین کی قیادت اور طاقت اس کے پاس ہی ہے لیکن ہم نہ جانے کس سے رابطے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری ان پالیسیوں کی وجہ سے قوم کی جان پر بنی ہوئی ہے۔

پاکستان میں خود کش حملے کرنے کا آغاز اسلام آباد میں مسجد حفصہ کی طالبات کی بے رحمانہ خونریزی سے ہوا۔ یہ طالبات سوات اور دوسرے قبائلی علاقے سے تھیں۔ انھی دنوں ان کے وارثوں کے بارے میں یہ رپورٹ عام ہوئی کہ وہ اپنی روایت کے مطابق اپنے خون کا بدلہ لیں گے۔ جنرل پرویز مشرف نے اس قدر سفاکانہ انداز میں یہ آپریشن کیا تھا کہ یہاں سے واپس جانے والے کمانڈوز انگلیوں سے فتح کے نشان بنا رہے تھے۔ میں ان کمانڈوز کا یہ انداز دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس وقت ان کے پیچھے میدان جنگ میں قرآن کے خون آلود صفحات اور ان کو پڑھنے والیوں کی میتیں پڑی ہوئی تھیں۔ میں اس وقت قریب کے ہوٹل سے یہ منظر دیکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ رپورٹر نصراللہ ملک سے سن بھی رہا تھا۔ اگر میں مفادات اور دنیاداری کی غلاظتوں میں لتھڑا ہوا نہ ہوتا تو ان بچیوں کے خونی وارثوں سے پہلے ان کا بدلہ لینا شروع کر دیتا۔ بہر حال خود کش حملے اس سانحے کے بعد شروع ہوئے۔ پاکستانیوں کو پہلی بار پتہ چلا کہ ان کا بازوئے شمشیرزن ان کے کسی فعل کے خلاف بھی اٹھ سکتا ہے۔ کمسن معصوم بچیوں کا سانحہ ہی اتنا بڑا تھا کہ ان کی دادرسی کے لیے ان کے عزیزوں میں اس وقت حرکت نہ ہوتی تو پھر کب ہوتی۔ میں نہ کوئی صوفی ہوں نہ کوئی خدا رسیدہ مسلمان لیکن میرا دل کہتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو اس کی سزا ملتی رہے گی۔

اتنا بڑا ظلم بے نتیجہ نہیں جا سکتا۔ میں نے ایک جاں بلب بچی کو دیکھا جو خون میں لتھڑی ہوئی تھی اس نے مرنے سے پہلے مجھے ایک بار دیکھا اور نہ جانے کیا سمجھا کہ میں کون ہوں۔ میں چونکہ وردی میں نہیں تھا اس لیے اللہ نے مجھے اس کی بد دعا سے بچا لیا ورنہ میری زندگی نہ جانے کس عذاب سے گزرتی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ ڈرو اس سے جس کا دنیا میں خدا کے سوا کوئی نہ ہو ۔اس وقت ان بچیوں کا بھی اس دنیا میں کوئی نہیں تھا لیکن انھوں نے اپنے کسی نادیدہ قاتل کو اپنی بددعا میں یاد ضرور کیا ہو گا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت کی ایک مسجد و مدرسہ میں یہ جو کچھ ہوا کیا یہ شہر اب ایک 'بد دعایا' ہوا شہر نہیں ہے۔ اللہ اس بے گناہ شہر کو بچائے جس کی سرزمین کے کسی ٹکڑے کو استعمال کیا گیا۔ پاکستان کے خلاف اس کے اپنے پاکستانیوں کا یہ پہلا غصہ تھا ہمارے اوپر دہشت گردی کی تاریخ یہیں سے شروع ہوتی ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس میں کوئی مالی مفاد، کسی دوسرے ملک کی ایجنسی یا کوئی ایسا دنیاوی مقصد نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف کسی کی بیٹی اور کسی کی بہن تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ''غیر پاکستانی'' فوجی حکمران کا اپنوں پر یہ حملہ اس قوم کی قسمت اور اعمالنامے میں لکھ دیا گیا ہے۔

ہمارے خلاف دہشت گردی کی دوسری وجہ ہمارا امریکی جنگ میں شریک ہونا ہے۔ ملا عمر کی شوریٰ کا یہ فیصلہ تھا کہ امریکی ان کے دشمن ہیں اور جب انھوں نے اپنے پڑوسی مسلمان ملک کو امریکیوں کے دست و بازو بنتے دیکھا تو وہ اسے برداشت نہ کر سکے۔ پاکستان کے خلاف یہ دوسرا کارنامہ بھی جنرل پرویز مشرف کا ہی تھا جس نے مشہور و معروف امریکی ٹیلی فون پر 'بلا تامل' ہاں' کہہ دی جس کی آواز کابل اور واشنگٹن دونوں مقامات پر بیک وقت پہنچ گئی۔ ہم اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ افغان بھائیوں کے سامنے اپنی پوزیشن کی وضاحت کر سکتے۔ ہمارے ازلی و ابدی دشمن بھارت نے جب یہ دیکھا تو وہ نعرے لگاتا تالیاں بجاتا اس جنگ میں دامے درمے اور سخنے کود گیا یوں حملہ آور تنہا نہیں رہے لیکن ہماری بزدلی کی یہ حالت تھی کہ ہم نے بھارت کا نام تک نہ لیا۔ ایسے بزدل پر کس دشمن کا غصہ اترتا ہے۔ آپ اس پس منظر کو پھیلا کر دیکھ لیجیے کہ ہماری فوج کے جرنیل تک شہید ہو رہے ہیں اور پوری قوم دہشت زدہ ہے لیکن یہ سب ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے کسی کا کوئی قصور نہیں ہے۔

قارئین کرام ایک گزارش: میرے کالم پر میری تصویر کے ساتھ ایک ای میل ایڈریس شایع ہوتا ہے میں وہ بوجوہ ختم کر رہا ہوں میرے گھر کا موجودہ پتہ 13-2 این بلاک ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) لاہور ہے۔ ٹیلی فون نمبر0300-8476221 ہے لیکن یہ فون دوپہر دو بجے کے بعد کھلا ہوتا ہے۔ آپ مہربانی فرما کر یہ معلومات اگر مناسب سمجھیں تو نوٹ کرلیں۔

مقبول خبریں