مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لے جانے کا فیصلہ

بھارتی جارحیت اور نسل پرستانہ اقدامات کا راستہ روکنے کے لیے عالمی فورمز پر متحرک سفارت کاری کو یقینی بنایا جائے۔


Editorial August 09, 2019
بھارتی جارحیت اور نسل پرستانہ اقدامات کا راستہ روکنے کے لیے عالمی فورمز پر متحرک سفارت کاری کو یقینی بنایا جائے۔ فوٹو: فائل

WASHINGTON: پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام کے بعد سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے بھارت سے سفارتی تعلقات میں کمی لاتے ہوئے انڈین ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دیدیا جب کہ بھارت سے دو طرفہ تجارت معطل، باہمی انتظامات کا جائزہ لینے، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں لے جانے اور عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیرکو بھرپور طریقے سے اجاگرکرنے کا فیصلہ کر لیا۔

14 اگست کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر اور15 اگست کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا جب کہ وزیر اعظم نے لائن آف کنٹرول پر مسلح افواج کو تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر مذمتی قرارداد منظور کی گئی اور کشمیریوں کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔

دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے تمام سفارتی چینلزکو بھارتی ظالمانہ اور نسل پرستانہ رویے، ان کے عزائم اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم نے پاک فوج کو بھی تیار رہنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میںمقبوضہ جموں و کشمیرکی موجودہ صورت حال سمیت ملکی سلامتی کے امور پر غور کیا گیا۔

فیصلہ کے مطابق اب پاکستان کے بھارت میں تعینات نئے ہائی کمشنر بھارت نہیں جائیں گے، پاکستانی ہائی کمشنر معین الحق نے 16 اگست کو دہلی جانا تھا۔ اسلام آباد میں بھی بھارتی ہائی کمیشن کی سفارتی سرگرمیوں کو بھی محدود کرنے سمیت دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوںکو بھی کم ترین سطح پرکر دیا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں ہے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں میں موجود ہے۔ بھارت کے جابرانہ اور غیر قانونی اقدامات کے وسیع تر تناظر میں پاکستان نے اپنے تمام سفارتی، عالمی اور علاقائی اور مقامی آپشنز کھول دیے ہیں، بھارت کے خلاف ایک کثیر جہتی اور غیر معمولی متاثر کن لائحہ عمل کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے غیر ملکی دوستوں، سربراہان حکومت و ریاست اور غیر ملکی اہم شخصیات کو ٹیلی فونک پیغامات پہنچانے اور بھارت پر اثر و نفوذ رکھنے والی بااثر شخصیات کو کشمیر کی سنگین صورت حال سے آگاہ کر دیا ہے، میڈیا کے مطابق وزیر اعظم کو برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بات چیت سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جب کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھارتی اقدامات پر گفتگو کی۔

باور کیا جاتا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اور وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جس میں وزرا، آرمی چیف جنرل باجوہ، ایئر چیف، نیول چیف، ڈی جی آئی ایس آئی نے شرکت کی۔ دنیا کے اہم مراکز میں پاکستان کے پیغامات کی ترسیل پر غور کیا گیا، پاکستان نے مودی کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے خطے کے امن کو لاحق خطرات اور مضمرات سے بچانے کے لیے تمام سفارتی مراکز کو متحرک رکھنے کی ہدایت کی ہے اور ہر حال میں دنیا تک پاکستان کے پرامن موقف اور بھارت کی ظالمانہ اور غیر انسانی کارروائیوں کے خلاف عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے ہر آپشن کو کام میں لانے کا عندیہ دیا ہے۔

میڈیا کے مطابق رواں ہفتے قومی سلامتی کمیٹی کا دوسرا اہم اجلاس بدھ کو یہاں وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوا، جس میں وزیرخارجہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر تعلیم، وزیر انسانی حقوق، وزیر قانون، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ایئرچیف، نیول چیف سمیت ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی ایس پی آر، سیکریٹری امور خارجہ اور دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں سول اور عسکری قیادت نے بھارت کے حوالے سے 5 اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق قومی سلامتی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو معطل کر دیا جائے گا اور سفارتی تعلقات کو محدود کیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ پاک، بھارت تعلقات پر نظر ثانی کی جائے گی اور بھارت کے ساتھ تمام دو طرفہ معاہدات کا از سر نو جائزہ لیا جائی گا۔ حکومت نے مقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت تبدیل کرنے اور وادی میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی سیاسی اور عسکری قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ 14 اگست یوم آزادی کشمیریوں کیساتھ یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جائے گا۔ مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا اور15 اگست کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی جارحیت اور نسل پرستانہ اقدامات کا راستہ روکنے کے لیے عالمی فورمز پر متحرک سفارت کاری کو یقینی بنایا جائے، بھارت ظلم پر آمادہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں مظاہروں کو روکنے کے لیے بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6 افراد شہید جب کہ 100 سے زائد زخمی ہوئے، خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف سری نگر، پلوامہ، بارہ مولا اور شوپیاں میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

بھارت کے خلاف مخالفانہ نعرے لگائے، فورسز کا سڑکوں پر گشت جاری ہے، وادی میں وقفہ وقفہ سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں، وادی میں آج بھی ٹریفک، انٹر نیٹ، موبائل سروس اور کاروبار معطل اور زندگی مفلوج رہی۔ ایک کشمیری صحافی کے مطابق مقبوضہ وادی کی صورتحال بدتر رہی، ادھر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کشمیر میں قتل عام کر رہی ہے، آزادی اظہار رائے اور معلومات کی فراہمی کا حصول مشکل ہو گیا ہے جب کہ صورت حال ایک نئی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

چینی سفیر یاؤ جنگ نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اور پاکستان و بھارت کے درمیان دو طرفہ معاہدے موجود ہیں جن میں اس متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے، چینی سفیر نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں اور بین الاقوامی اقدار کا احترام کیا جانا چاہیے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک قراداد کے ذریعے دنیا کو باور کرایا گیا کہ عالمی برادری بھارت کو یک طرفہ فیصلے سے روکے، اجلاس میں آصف زرداری نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام مشرقی پاکستان جتنا بڑا سانحہ ہے، خواجہ آصف کے مطابق کشمیر پالیسی ناکام ہے، فواد چوہدری نے کہا کہ کشمیر کو فلسطین نہیں بننے دیں گے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ بیجینگ جا رہے ہیں۔

ایک اطلاع کے مطابق امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے امریکا کو مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کرنے پر آگاہ نہیں کیا۔ ائلس ویلز نے کہا کہ اس معاملہ پر ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی، واضح رہے بھارت یہ جھوٹ مائیک پومپیو کے بارے میں بھی پھیلا چکا ہے کہ بھارتی حکومت ان سے بھی اپنے پلان کے بارے میں دو تین بار گفتگو کر چکی ہے۔ آزاد

کشمیر کے صدر سردار مسعود نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مذمتی قرادادیں پیش کی جاچکی ہیں ، بھارت کے مکروہ عزائم ناکام بنانے کے لیے پوری قوم متحد ہے، بھارتی ماہرین اے ایس دولت، اجے ساہنی ڈی ایس ہودا نے کہا ہے کہ مودی کے اقدامات سے عسکریت پسندی بڑھے گی، ہندوتوا کے ایجنڈے کو فروغ دیا جارہا ہے، پاکستان کے ساتھ تنازع کشمیر مزید سنگین ہوتا جائے گا، حالیہ بد امنی بھی بڑھے گی۔ لیکن کوئی تو ہو جو مودی کو اس بڑھتے ہوئے طوفان کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرے۔

مقبول خبریں