زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے

پاکستان کے حقیقی شہریوں کو گلہ ہے تو اپنے لیڈروں سے جنہوں نے ہمیں اس پاکستان کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا


Abdul Qadir Hassan September 20, 2013
[email protected]

ماضی کے ایک مشہور فلمساز تھے سہراب مودی، پارسی تھے اور تاریخی فلمیں بنانے کا شوق رکھتے تھے۔ ان کی آواز بڑی پاٹ دار تھی اور اپنی ہر فلم کا آغاز اپنی آواز میں کسی شعر سے کرتے تھے مثلاً

مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے

وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

مودی کی ایک فلم جو مجھے یاد آ رہی ہے وہ سکندر اعظم ہے۔ اس کی ہیروئن اپنے وقت کی حسین ترین اداکارہ نسیم بانو تھیں جسے پری چہرہ نسیم کے خطاب سے یاد کیا جاتا تھا۔ یہ وہی نسیم بانو تھیں جو ایک روایت کے مطابق رئیس اعظم مسیح الملک حکیم اجمل خان کے صاحبزادے حکیم جمیل خان سے خصوصی تعلق رکھتی تھیں۔ حکیم صاحب خوبصورت بھی تھے اور دولت مند بھی، نسیم بانو کا بڑا نام تھا اور اس کے حسن کا بڑا چرچا تھا بہر کیف دونوں کا تعلق پیدا ہوا اور مدتوں تک باقی رہا۔ نسیم مر کھپ گئیں یا کیا ہوا حکیم صاحب پاکستان آ گئے۔ ان کے صاحبزادے مرحوم حکیم جمال سویدا بتاتے تھے کہ انھوں نے دلی کی شریف منزل میں اس شہر کے چند کرمفرمائوں کو دعوت دی اور ان کے سامنے ہجرت کا مسئلہ رکھا تو سب کی رائے تھی کہ آپ چلے جائیں۔ اب یہ ملک آپ کے لیے نہیں رہا۔ بات نسیم بانو سے شروع ہوئی اور نہ جانے کہاں نکل گئی۔ بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ کوئی پرانی یاد تازہ ہو جائے تو نئی نسل کے لیے لکھ دی جائے۔

آج کے حالات کے حوالے سے مجھے فلم سکندر میں نسیم بانو کا گایا ہوا ایک گانا یاد آیا۔ اس زمانے میں اداکار گانا خود گاتے تھے کسی اور کے گانے پر اداکاری نہیں کرتے تھے۔ یہ گانا تھا

زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے

بج رہا ہے اور بے آواز ہے

ہمارے ہاں گزشتہ 66 برس سے ایک ساز بج رہا ہے اس کی کوئی آواز تو ہو گی مگر وہ ہمیں سنائی نہیں دیتی۔ گم ہو جاتی ہے۔ ہم اسی زندگی بخش آواز کی تلاش میں ہیں اور اداکاری کیے جا رہے ہیں۔ بیک گرائونڈ میں جو بھی گا رہا ہے اس کی سُر ہمارے ساتھ نہیں ملتی۔ ہمیں نہ جانے کیا کچھ کہہ کر ایک نئے ملک کا شہری بنا دیا گیا تھا دلی کے نامور اطبّاء کا خاندان بھی دلی چھوڑ کر ہمارے ہاں آ گیا۔ حکیم جمال سویدا صاحب سے میری نیاز مندی تھی۔ ان کی زبان سے کبھی کوئی گلہ نہ سنا وہ بے حد خوش رہے اور اپنی اولاد کو اپنے دوا خانوں کے کاروبار میں لگا دیا۔ میں نے دیکھا ہے کہ پاکستان میں ہجرت کر کے آنے والوں کو تو اس ملک سے بہت کم گلے شکوے ہیں اگر شکوؤں کی بھر مار ہے تو یہاں کے پہلے سے آباد میرے جیسے پاکستانیوں کو ہے۔

ہجرت کر کے آنے والے تو نہ جانے کیا کچھ چھوڑ کر آئے اپنے بزرگوں کی قبریں ہی فراموش نہیں کی جا سکتیں لیکن ہم یہاں سب کچھ پہلے کی طرح رکھتے ہیں اور اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ پاکستان کے حقیقی شہریوں کو گلہ ہے تو اپنے لیڈروں سے جنہوں نے ہمیں اس پاکستان کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا جس کا خواب برصغیر کے مسلمانوں نے دیکھا تھا۔ نہ عدل نہ انصاف نہ برابر کی زندگی اور نہ قانون کی حکمرانی۔ ہمارے ہاں کئی ایک شاہی قسم کے خانوادے پیدا ہو گئے ہیں چونکہ وہ شاہی روایات اور آداب سے نا آشنا ہیں اس لیے بونگیاں مارتے رہتے ہیں مگر ان شہزادوں کو ٹوکے کون اور کس کی مجال کہ کوئی گستاخی کرے۔ آخری اطلاعات کے مطابق ان میں سے اکثر نے اپنے فون نمبر بھی تبدیل کر لیے ہیں تا کہ جن عوام کو ان کے نمبر معلوم تھے وہ دور دفع رہیں کیونکہ اب وہ نمبروں کی طرح خود بھی بدل چکے ہیں۔

پاکستان دنیا کے کسی خطے یا ہندوستان کے کسی الگ ٹکڑے کا نام نہیں جس کو بھارتی لیڈر اپنے ساتھ ملانے اور کسی اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھتے ہیں بلکہ یہ ملک ایک فکر ایک نظرئیے اور چند انسانی تقاضوں کا نام ہے جن کی تکمیل انسانی خواہشات کا حصہ ہیں۔ پاکستان دشمن بھارتیوں نے مشرقی پاکستان کو پاکستان سے جدا کر دیا کیونکہ ہماری سیاسی قیادت کی نیت اور عمل دونوں ناکام ہو گئے تھے لیکن اس جدائی سے انھیں ایک کمزور پاکستان تو ضرور مل گیا مگر ایک دوسرا بنگال نہیں ملا۔ مشرقی پاکستان والوں کی زبان رہن سہن اور سر زمین بنگالی دریائوں کی تھی اور انھیں قدرتی طور پر مغربی بنگال کا حصہ بن جانا تھا جس کا بھرپور خیر مقدم کیا جاتا لیکن وہ سب سے پہلے مسلمان تھے اور یہی وہ اصل بات ہے جو باقی ماندہ پاکستان اور اب بنگلہ دیش کو اپنی جگہ قائم رکھے ہوئے ہے۔

بنگلہ دیش کا قیام یعنی مسلمانوں کی ایک ریاست کا قیام اس بات کا ایک تاریخی ثبوت ہے کہ ہندوستان کی سرزمین پر ایک پاکستان ایک زندہ ابدی اور نہ ختم ہونے والی حقیقت ہے۔ یہ درست کہ اس ملک کے قیام پر جو ترانہ بلند ہوا وہ جلد ہی کھو گیا، بے آواز ہو گیا لیکن یہ آواز پھر کبھی بلند ہو گی اور ضرور ہو گی جب پاکستان سے ہماری کرپٹ قیادت کا تسلط ختم ہو گا۔ ہماری زندگی کا ساز زندہ رہے گا اور ہمیں سنائی بھی دے گا 'بج رہا ہے اور بے آواز ہے' کی کیفیت باقی نہیں رہے گی۔

مقبول خبریں