جسٹس مشیر عالم کا انداز نظر
نئی صدی میں وکلاء کی تحریک پاکستان کی سیاسی تاریخ کی اہم ترین تحریک ہے
وکلاء عدلیہ تحریک کے صلے میں انعام کے طلبگار ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس، جسٹس مشیر عالم نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کرنے والے وکلاء اپنی مرضی کے ججوں کا تقرر چاہتے تھے مگر وہ ان وکلاء کی خواہش کی تکمیل نہیں کر سکے جس کے لیے وہ معذرت خواہ ہیں۔ جسٹس مشیر عالم اب سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج مقرر ہوئے ہیں، انھوں نے اپنے خطا ب میں کہا کہ ججوں کے تقرر میں میرٹ کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس مشیر عالم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے اقدامات کے نتیجے میں بوگس مقدمات اور عدالتی جعلسازی کے معاملات میں کمی ہوئی ہے۔ نئی صدی میں وکلاء کی تحریک پاکستان کی سیاسی تاریخ کی اہم ترین تحریک ہے، اس تحریک کے ملک کی سیاست پر دور رس نتائج نکلے ہیں۔
6 مارچ 2007ء کو چیف جسٹس افتخار چوہدری کو آرمی ہائوس راولپنڈی میں طلب کیا گیا، ملک کے صدر اور چیف آف اسٹاف جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بعض فیصلوں پر تنقید کی اور ہدایت کی کہ جسٹس افتخار چوہدری فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔ سول و فوجی افسران نے افتخار چوہدری کا گھیرائو کیا اور انھیں مستعفی ہونے کے لیے کہا۔ جسٹس افتخار چوہدری کو سخت حفاظتی پہرے میں ججز کالونی میں ان کی قیام گاہ میں منتقل کیا گیا اور ان کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی گئی۔ جسٹس افتخار چوہدری نے مستعفی ہونے سے انکار کیا اور ان کی نظر بندی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔ پورے ملک میں وکلاء نے مظاہرے شروع کر دیے۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کی ایماء پر بیرسٹر اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں جسٹس افتخار چوہدری کی نظر بندی کے خلاف رٹ داخل کی۔ عدالت نے جسٹس افتخار چوہدری کو طلب کیا، دوسرے دن جب جسٹس افتخار چوہدری عدالت میں پیش ہونے کے لیے گھر سے نکلے تو بعض پولیس افسروں نے انھیں زدوکوب کیا۔ یہ منظر نجی ٹیلی وژن چینلز کے ذریعے دنیا بھر میں دیکھا گیا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر ملک کی قیادت میں وکلاء کی کمیٹی قائم ہوئی اور پورے ملک میں وکلاء نے مظاہر ے شروع کر دیے۔ ملک کی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، عوامی نیشنل پارٹی و دیگر نے وکلاء کی حمایت شروع کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کے احاطے سے نکالے جانے والے وکلاء کے جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، پولیس والوں کے پتھرائو سے پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ زخمی ہو گئے، پھر چھوٹے بڑے شہروں میں وکلاء کے جلوس نکلنے لگے۔ جسٹس افتخار چوہدری کو ملک کی مختلف بار ایسوسی ایشنز نے خطاب کی دعوت دی۔ اسلام آباد سے ایک طرف پشاور، دوسری طرف لاہور، ملتان تک جسٹس افتخار چوہدری کے طویل جلوس نکلے۔ ان جلوسوں نے 20، 20 گھنٹے سفر کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔
رپورٹوں کے مطابق جسٹس افتخار چوہدری کا پہلا والہانہ استقبال حیدرآباد اور سکھر میں ہوا، جس کے بعد ملک کے دوسرے شہروں میں وکلاء کی سرگرمیاں تیز ہوئیں۔ ٹی وی چینلز نے ان جلوسوں کی براہ راست کوریج کی، جب 3 نومبر کو جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی اور جسٹس افتخار چوہدری کو ان کے عہدے سے معزول کر کے گھر میں نظر بند کیا تو سپریم کورٹ اور چاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا۔ اس کے بعد ان ججوں اور وکلاء تحریک کو منظم کرنے والے کئی سو وکیلوں کو گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں بھیج دیا گیا۔ وکلاء کی اس تحریک میں ایک خونریز واقعہ 12 مئی 2007ء کو کراچی میں ہوا، جب جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد پر راتوں رات شہر بھر میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ اس روز کراچی شہر میں پر تشدد واقعات میں کئی قیمتیں جانیں ضایع ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے پہلے جسٹس افتخار چوہدری کی رہائی کے مطالبے کی حمایت کی۔
2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے آنے کے بعد صدر زرداری نے جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی سے انکار کیا اور نتیجے میں بھوربن معاہدے کی ناکامی سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی راہیں علیحدہ علیحدہ ہو گئی۔ بیرسٹر اعتزاز احسن، منیر ملک، عاصمہ جہانگیر، رشید رضوی، علی احمد کرد، اختر حسین کی قیادت میں وکلاء نے اپنی جدوجہد جاری رکھی، اس جدوجہد میں اسلام آباد میں ہزاروں وکلاء جمع ہوئے اور مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی قیادت میں تحریک کا آخری مرحلہ شروع ہوا۔ جب یہ جلوس گوجرانوالہ کے قریب پہنچا تو میاں صاحب کو جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی خوشخبری سنائی۔ اس طرح عدلیہ کی تاریخ کا نیا دور شروع ہوا۔ جسٹس افتخار چوہدری کی قیادت میں فل بینچ نے پی سی او ججز کے تقرر کو غیر قانونی قرار دیا اور بہت سے ججوں کو مستعفی ہونا پڑا، اب وکلاء تحریک کا نیا منظرنامہ سامنے آیا۔
ملک کے مختلف شہروں میں وکلاء نے ایک مافیا کی شکل اختیار کر لی، ججوں کو اپنی مرضی کے فیصلے لکھنے پر مجبور کیا گیا، وکلاء کے راستے میں آنے والے بعض ججوں پر تشدد ہوا، اس طرح پولیس افسران اور صحافی بھی وکلاء کے تشدد کا شکار ہوئے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور صحافیوں کی انجمنوں کے رہنمائوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ تنازعات حل ہوئے۔ بعض ڈسٹرکٹ ججوں نے وکلاء کے توہین آمیز رویے کے خلاف اجتماعی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا اور سپریم کورٹ نے اپنے بعض فیصلوں کے ذریعے پارلیمنٹ پر بالادستی حاصل کرنے کی کوشش کی اور توہین عدالت پر نوٹس جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو پہلے نااہل قرار دیا گیا اور پھر ان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات شروع ہوئے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور مختلف ہائی کورٹ کی بار ایسوسی ایشنوں کے نمایندوں نے سپریم کورٹ کی بھرپور حمایت کی، یوں عدالتی آمریت کا تصور سامنے آیا۔
سپریم کورٹ کی سینئر وکیل عاصمہ جہانگیر نے اس صورتحال کے خلاف آواز اٹھائی، ان کا کہنا تھا کہ وکلاء تحریک کے بعض رہنمائوں کے مقدمات کی پیروی ان مقدمات کی کامیابی کی ضمانت بن گئی۔ ان وکلاء کو محض وکالت نامے جمع کرنے کے عوض بھاری معاوضے ادا کیے جانے لگے۔ عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوئیں۔ ایک سینئر وکیل کا کہنا ہے کہ جو سینئر وکیل پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے بعد ہائی کورٹوں کے جج منتخب ہوئے تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ان کو جج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، وہ سب سے زیادہ مشکل صورتحال کا شکار ہوئے، ان وکلاء کے مقدمات کو نظر انداز کیا جانے لگا، بعض اوقات ان سے توہین آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ نوجوان وکلاء عدالتی فعالیت، توہین عدالت اور دوسرے قانونی معاملات پر ملک کے انگریزی کے اخبارات میں تنقیدی آرٹیکل تحریر کرتے ہیں اور مختلف ٹی وی چینلز پر ماہر قانون کی حیثیت سے مدعو ہوتے ہیں، وہ اعلیٰ ترین عدالت میں امتیازی سلوک کا شکار ہوئے۔
بعض نقاد کہتے ہیں کہ وکلاء تحریک کا فائدہ ججوں اور بعض وکلاء کو ہوا، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وکلاء تحریک کے لیے مالیاتی معاونت مسلم لیگ ن نے کی، اس طرح سب سے زیادہ فائدہ اس کا ہوا۔ انصاف آج بھی مہنگا اور مشکل ہے، وکلاء کی تحریک کو کور کرنے والے سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ وکلاء تحریک میں فاشزم کی جھلک اس وقت نظر آئی تھی جب سینئر وکیل نعیم بخاری پر راولپنڈی بار میں تشدد کیا گیا تھا، اس طرح پیپلز پارٹی کے سابق رہنما ڈاکٹر شیر افگن نیازی کو وکلاء کے ایک مشتعل ہجوم میں لاہور میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اگر وکلاء کے رہنما نعیم بخاری اور ڈاکٹر نیازی پر ہونے والے تشدد کے باوجود ان پر ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے تو وکلاء تحریک کی کامیابی کے بعد اس میں منفی رجحانات پیدا نہیں ہوتے۔ وکلاء تحریک کے نتیجے میں جنرل مشرف کو اقتدار چھوڑنا پڑا، ملک میں جمہوریت کی بحالی ہوئی مگر اس تحریک کے منفی رجحانات اس کے مثبت اثرات کا تاثر اور بھرم ختم کر رہے ہیں۔