جی اے چشتی نے ڈیڑھ سو پاکستانی فلموں کی موسیقی ترتیب دی

عاشق علی خان کی فن موسیقی اور تھیٹرز کے معروف لوگوں سے واقفیت بھی تھی


Cultural Reporter September 21, 2013
1944ء میں ہدایتکار کیدار شرما کی فلم ’’کلیاں‘‘ کا میوزک دیا اسی سال دوسری فلم ’’ شکریہ ‘‘ کی بھی موسیقی دی۔ فوٹو: فائل

جی اے چشتی کا پورا اور اصلی نام غلام احمد چشتی تھا ۔ 1901 ء میں مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر میں واقع ایک قصبہ گوناچور میں پیدا ہوئے ۔

اسکول میں نصابی تعلیم کا سلسلہ میٹرک تک قائم رہا۔ اپنے والدین کے اکلوتے صاحبزادے تھے اور ایک بہن تھی جی اے چشتی کی آواز اچھی تھی۔ محافل نعت اور اس قسم کی دیگر تقریبات میں شرکت کرتے اور اپنی خوش الحانی سے داد وتحسین حاصل کرتے۔ ضلع قصور مین گنڈا سنگھ والا کے نہری محکمہ میں پنڈت سیتا رام ایک افسر تھے۔ جن کے غلام احمد (جی اے چشتی) کے گائوں کے ایک شخص میاں احمد بخش سے بہت اچھی دوستی تھی ۔ میاں احمد بخش غلام احمد (جی اے چشتی) کو کو پنڈت سیتا رام کے پاس لے گئے جو سنگیت کا بے حد رسیا تھا۔ انھوں نے اپنے ہیڈ آفس میں عاشق علی خان کوبلوایا اور غلام احمد سے متعارف کروایا ۔

عاشق علی خان کی فن موسیقی اور تھیٹرز کے معروف لوگوں سے واقفیت بھی تھی وہ تبدیل ہو کر لاہور آئے تو غلام احمد کو بھی ساتھ ہی لے کر آئے اور آغا حشر کاشمیری کے ڈرامہ بھیشم پرتگیا میں بحیثیت معاون کمپوزر ملازم کروا دیا۔ لاہور ہی کی ایک دوسری کمپنی جس کے کمپوزر استاد جھنڈے خان تھے یہ ان کے نائب ہوگئے یہاں معاوضہ بھی نسبتا زیادہ تھا اور آغا جی کا خوف بھی نہیں تھا۔ 1938ء میں ہدایتکار آر ایل شوری نے اپنی فلم ''سوہنی مہیوال'' کے میوزک کے لیے انھیں منتخب کرلیا ۔ ہمدم کے تحریر کردہ گیتوں کی دھنیں چشتی نے بڑی محنت اور لگن سے بنائیں۔ سوہنی مہینوال کی موسیقی ہٹ ہوگئی اور اس کا ایک نغمہ ''چھبی دیاں چنیاں میں مل مل دھونی آں، ماہی گیا پردیس تے میں چھم چھم رونی آں'' بے حد مقبول ہوا۔



1943ء میں تلواڑ کی ایک اور فلم ''منچلی'' کی موسیقی بھی ترتیب دی۔ 1944ء میں ہدایتکار کیدار شرما کی فلم ''کلیاں'' کا میوزک دیا اسی سال دوسری فلم '' شکریہ '' کی بھی موسیقی دی۔ فلم ''شکریہ'' کے گانوں '' ہماری گلی آنا اچھا جی'' اور '' اک شہر کی لونڈیا'' بہت مقبول ہوئے ۔ 1945ء میں ''البیلی '' اور ''ضد'' نامی فلموں کی موسیقی دی۔ 1947ء میں ہدایتکار ایس ڈی نارنگ کی فلم ''یہ ہے زندگی'' کی موسیقی دی۔ 1947ء میں ہدایتکار ایچ ایس راویل کی فلموں ''جھوٹی قسمیں '' اور ''دوباتیں'' کی موسیقی دینے کے بعد پاکستان آگئے اور ''شاہدہ'' کی موسیقی کو مکمل کیا۔جس کے چند نغمات ماسٹر غلام حیدر نے ترتیب دیے تھے ۔

ہدایتکار نذیر کی فلم ''سچائی'' کے بعد ''پھیرے'' کی موسیقی نے جہاں ''پھیرے'' کو پاکستان کی پہلی کامیاب ترین اور سلور جوبلی بنادیا وہاں خود بھی ہمہ گیر شہرت ومقبولیت سے ہمکنار ہوئے ۔ جی اے چشتی نے پاکستان میں کم وبیش ڈیڑھ سو فلموں میں موسیقی دی اور اس کی ہر فلم میں ہر دوسری فلم اپنی موسیقی کی وجہ سے مقبول ہوئی جن میں ''پتن'' ، '' دلا بھٹی'' ، ''لارے'' ،'' سلطنت'' ، '' ڈاچی'' ، '' لخت جگر'' ، '' سسی '' ، '' یکے والی'' ، '' نوکر'' ، ''زلفاں'' ، '' بھریا میلہ'' ، '' راوی پار'' ، '' چن مکھناں'' ، '' جند جان'' ، '' سجن پیارا ''،''پینگاں'' ، '' ماہی منڈا'' ، '' مس 56''،''میرا ماہی'' ،'' یار مار'' ،''چٹی '' جیسی فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں ۔فن موسیقی کا یہ ستارہ 25دسمبر 1994ء کو 95برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔

مقبول خبریں