نئے صوبوں کا کمیشن غیرجانبدار ہونا چاہیے خرم دستگیر

پارٹیوں کو اختلافات دور کرنا ہونگے، محمد علی درانی کی کل تک میں...


Monitoring Desk August 30, 2012
پارٹیوں کو اختلافات دور کرنا ہونگے، محمد علی درانی کی کل تک میں جاوید چوہدری سے گفتگو ۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہاہے نئے صوبوں سے متعلق کمیشن صرف پنجاب کیلیے خاص نہیں ہوناچاہیے۔ اسے قومی سطح پر ایک مستقل غیرجانبدارکمیشن ہوناچاہیے۔ اس پر پنجاب سے مشاورت ہونی چاہیے اوراس کمیشن میں پنجاب کی بھرپور نمائندگی ہو۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام 'کل تک' کے میزبان جاویدچوہدری سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم نے صدر مملکت سے صوبوںکے بارے میں کمیشن بنانے کی استدعانہیں کی تھی بلکہ یہ درخواست وفاقی حکومت سے کی گئی تھی۔ یہ وزیراعظم کا کام تھا کہ وہ اس بارے میں ہم سے مشاورت کرتے۔ ہمارے اعتراض وزیر اعظم نے دورکرنا ہیں۔ ہم نے صوبے کوئی سیاسی وقتی ضرورت کے تحت نہیں بنانے بلکہ اس لیے بنانے ہیں تاکہ عوام کی فلاح ہو۔ صدر مملکت نے مسلم لیگ ن کی جانب سے فاٹا اور ہزارہ کو صوبہ بنانے کی قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد کو نظر انداز کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلم لیگ کی قرارداد کی وجہ سے ہی جنوبی پنجاب کا صوبہ بنے گا اور بہاولپور صوبے کی بحالی ہو گی۔ جنوبی پنجاب میں کوئی خونیں انقلاب نہیں آئے گا بلکہ ووٹ کے ذریعے انقلاب آئیگا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما جمشید دستی نے کہا کہ نئے صوبوں کی بنیاد رکھ کر اب مسلم لیگ ن کیوں بھاگ رہی ہے۔ ان کے بھاگنے سے نقصان ہوگا اور حالات خون خرابے کی جانب جائیں گے۔ ہم مسلم لیگ کے سر پر پگھڑی رکھنا چاہتے ہیں۔

ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتے، جنوبی پنجاب میں بہت محرومی ہے۔ وہاں پانی ہے نہ تعلیم، صحت کے مراکز اور دیگر بنیادی سہولیات بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ کا پہلے اقرار اور اب انکار کھلی سیاسی منافقت اور جنوبی پنجاب کے عوام کیساتھ کھلی دشمنی ہے، سابق وفاقی وزیر اور بہاولپور صوبہ بحالی تحریک کے سربراہ محمد علی درانی نے کہا کہ بہاولپور صوبہ کی بحالی کا مسئلہ پس پردہ نہیں چلا گیا ہے، اس بارے میں جو کمیشن بنا ہے اس کے ٹرم آف ریفرنس میں بہاولپور اور جنو بی پنجاب صوبہ دونوں ہیں اور کمیشن کو ان دو صوبوں کے بارے میں ہی رائے دینی ہے، صوبوں کے بارے میں پنجاب اسمبلی نے متفقہ قراردادیں منظور کی تھیں۔ اس بارے میں اگر پارٹیوںکے درمیان اختلافات ہیں تو انہیں دور کرنا ہوگا اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔