میاں صاحبان خلق خدا بہت تنگ ہے
اب تو ہماری عدالتیں بھی چیخ رہی ہیں کہ دوڑو پکڑو چور اچکے اور ڈاکو ڈکیت بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔
کبھی کالم کے لیے موضوع تلاش کرنے میں بڑی بھاگ دوڑ کرنی پڑتی تھی۔ بعض اوقات تو خود رپورٹر بھی بننا پڑ جاتا تھا اور پھر موزوں خبر تلاش کر کے اس پر کالم لکھنا پڑتا تھا لیکن امن اور سکون کے وہ زمانے گئے۔ اب تو ہماری عدالتیں بھی چیخ رہی ہیں کہ دوڑو پکڑو چور اچکے اور ڈاکو ڈکیت بہت زیادہ ہو گئے ہیں' اتنے زیادہ کہ ان کی موجودگی میں امن کہاں۔ ان حالات میں اب کالم کے موضوع کی تلاش کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ اس تلاش میں صرف اخباری خبریں ہی نہیں عدالتیں بھی شامل ہو گئی ہیں اور عدالتیں بھی عدالت عظمیٰ تک۔ محترم چیف جسٹس کے سامنے پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے انکشاف کیا کہ کراچی شہر میں 33 ہزار مفرور ملزم موجود ہیں۔ اس پر جناب چیف جسٹس نے ان کی گرفتاری' ان کی جائیدادوں کی ضبطی اور اسلحہ کی برآمدگی کے لیے کئی مشورے بھی دیے ہیں۔ کسی شہری کا قانون شکنی کر کے مفرور ہونااور اس کی گرفتاری کے لیے کسی عدالتی حکم کی ضرورت نہیں۔
پولیس کے کس سپاہی کو علم نہیں کہ یہ لوگ پولیس کو مطلوب ہیں اور ان کے ساتھ سلوک بھی متعین ہے لیکن ہمارے ہاں ہماری بدقسمتی سے ایسی کمزور ڈھیلی ڈھالی آرام طلب اور لاتعلق قسم کی حکومتیں آتی رہی ہیں کہ اب نوبت یہ ہے کہ ملک کا سب سے بڑ ا اور سب سے اہم شہر ہزاروں مفروروں کی قیام گاہ ہے بلکہ پناہ گاہ ہے۔ ہماری عدالتیں ہماری حکومتوں کی نالائقیوں اور لاپرواہیوں کی نشاندہی کرتی رہتی ہیں ورنہ عوام کو تو پتہ بھی نہ چلے کہ ان کے حکمران کیا کر رہے ہیں اور سوائے حکمرانی کے گوناگوں مزے لوٹنے کے اور بھی کچھ کرتے ہیں یا نہیں۔ بدنصیبی کے ہزار پہلو اور مثالیں ہیں لیکن ہمارے ہاں جزا اور سزا دونوں ختم ہو گئی ہیں اور جب کسی حق دار کو انعام نہ ملے اور کسی کو جرم کی سزا نہ ملے تو کوئی بڑا ہی بزدل مفرور وغیرہ کسی جرم سے باز آ سکتا ہے۔
کراچی شہر میں ہزاروں انسانوں کے قتل کی جو تعداد اخباروں میں چھپتی ہے اس کے مقابلے میں سزا کی کوئی خبر میں نے کبھی نہیں پڑھی بلکہ سابقہ حکومت یہ فخر اپنے ساتھ لے گئی کہ اس دور میں موت کی سزا نہیں دی گئی اور یہ اس طرح بھی درست ہے کہ جب بے نظیر کے قتل کی کسی کو سزا نہیں ملی ،کوئی ملزم نہیں ٹھہرا تو اور کون ہے جس کا خون اس سے زیادہ قیمتی ہو گا اور اس کو بہانے والے کی تلاش میں محنت کی جائے گی۔ ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں بلکہ جن حالات کو ہم نے پیدا کر دیا ہے ان میں امن و امان کیسے ممکن ہے۔ مجھے اپنی کسی بچی کی بے حرمتی کا ذکر کرنے کی ہمت نہیں پڑتی لیکن ایک بات بتا دیں کہ ایسے جرائم کے جب مجرم پکڑے گئے تو انھیں چند برسوں کی قید کے سوا اور کیا سزا ملی۔ نہیں معلوم موت کی سزا کے لیے کون سا جرم ہوتا ہے۔ یہ بات سابقہ حکومت کے اس فیصلے کی روشنی میں دیکھیں کہ سزائے موت ختم کر دی گئی ہے۔
جب اس سزا کے لائق کوئی جرم ہی نہ ہو تو سزا کس بات کی۔ اگر ہماے انتظامی ادارے اور ہمارے حکمران اس پالیسی پر گامزن رہے تو یہ ملک پہلے سے زیادہ جرائم کا گہوارہ بن جائے گا اور دنیا کے دوسرے حصوں کے مجرم بھی یہاں پناہ لیا کریں گے۔ امریکا کے بالکل ابتدائی دور میں دنیا بھر کے مجرم اور قاتل امریکا میں بھاگ گئے اور وہاں انھوں نے نئی زندگی شروع کی جس کا نام آج کا امریکا ہے لیکن ہمارے ہاں کسی حکومت یا بااختیار لوگوں کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے جو بھی آئے گا افغانوں کی طرح مزید تباہی لائے گا۔ اگر کوئی غور کرے تو ہمارے قانونی ادارے یعنی قانون نافذ کرنے والے ادارے بے اثر اور ختم ہو چکے ہیں۔ جرائم تو ہمیشہ ہوتے رہے ہیں لیکن انتہائی خوفزدہ ہو کر۔ پولیس عقابی نظروں سے مجرموں کی تلاش کرتی تھی اور پھر ان کا تعاقب کرتی تھی۔ غنیمت ہے کہ ہماری عدلیہ آگے بڑھ کر قوم اور حکومت کو مطلع کرتی رہتی ہے کہ تمہارا ملک کہاں جا رہا ہے اور اس کا کیا بنے گا۔
عوام کے مسائل کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ ایک ضرورت کے تحت میں نے اپنا فون نمبر اخبار میں دے دیا۔ اس کے جواب میں فون کرنے والوں نے میرا چین حرام کر دیا لیکن میں حیرت زدہ رہ گیا کہ عوام کے مسائل کس حد تک پہنچ چکے ہیں بلکہ ان کی زندگیوں میں اتر چکے ہیں۔ مجھے ان کی ہچکیاں سنائی دیں اور ان کے حقیقی مسائل کا پتہ چلا۔ موبائل فون آج ہر ایک کے پاس ہے چنانچہ ملک کے کونے کونے سے فون موصول ہوئے اور جب سے میں نے رپورٹنگ چھوڑی ہے مجھے پہلی بار پتہ چلا ہے کہ ہمارے پاکستانی کس حال میں ہیں۔ ہمارے حکمران خدا کا شکر ادا کریں یا زرداری صاحب کا کہ ان کی کوئی اپوزیشن نہیں ہے لیکن یہ صورت حال سخت تشویشناک ہے۔ قومی جسم میں جو پھوڑا پک چکا ہے وہ پھٹے گا تو ضرور لیکن لازم ہے کہ اس کا کوئی معالج بھی ہو جو اسے سیدھے راستے پر لے جائے' تباہی سے بچا لے۔
میاں صاحب کا پورا خاندان گزشتہ دنوں ترکی گیا جیسے یہ سب کسی ان دیکھے ملک اور کسی جنت کی زیارت کرنے جا رہے ہیں۔ وہاں کے لوگ اب کاروباری ہو گئے ہیں۔ گزشتہ دنوں میاں شہباز صاحب کی دعوت پر ترک کاروباری لوگوں کا ایک وفد آیا۔ اس وفد کے کچھ لوگ میاں نواز شریف صاحب سے ملے اور اس بارے میں جو خبر چھپی اس میں بتایا گیا کہ ترک سرمایہ کاروں نے میاں صاحب سے ملاقات کی لیکن یہ ملاقات گلے شکوؤں سے بھری ہوئی تھی۔ ترک سرمایہ کاروں کے وفد نے ملاقات کے دوران شکایات کے انبار لگا دیے۔ سرمایہ کاروں نے این ٹی ڈی سی اور نیپرا کی جانب سے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں رکاوٹ ڈالنے کے دستاویزی ثبوت بھی پیش کیے۔ کمپنیوں نے وفد کو بتایا کہ پاکستانی ادارے سرمایہ کاری میں رکاوٹ ہیں۔ ترک کمپنیوں نے شکایت کی کہ نیپرا نے ابھی تک سولر انرجی کے منصوبوں کے لیے ٹیرف کا اعلان نہیں کیا سرمایہ کاری کیسے کریں۔ این ٹی ڈی سی بھی ونڈ پاور منصوبوں کے لیے ٹرانسمیشن لائن بچھانے سے انکاری ہے۔ یہ ہماری حکومت کی بیرونی سرمایہ کاری کے لیے کوششوں کا ایک تازہ ترین نتیجہ ہے جو ہمارے دوستوں نے نیک نیتی کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ اس ضمن میں مزید کچھ عرض کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔