کشمیر میں لاوا پک رہا ہے

کشمیر میں دہشت کی فضا طاری ہے اور بھارتی صدر کا کہنا ہے کہ ہندوستانی سماج ہمیشہ فطری اور خوشگوار رہا ہے۔


Editorial August 16, 2019
کشمیر میں دہشت کی فضا طاری ہے اور بھارتی صدر کا کہنا ہے کہ ہندوستانی سماج ہمیشہ فطری اور خوشگوار رہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور نہتے کشمیریوں پر جارحیت کے خلاف پاکستان سمیت کشمیری قوم نے دنیا بھر میں بھارت کا یوم آزادی بطور یوم سیاہ منایا۔کالے پرچم لہرائے گئے، قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کے تحت بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ، غیر آئینی اقدام اور مظالم کے خلاف ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں ، عمارتوں پر آزاد کشمیر کے پرچم بھی لہرائے گئے، قومی پرچم سرنگوں رہا۔

ریلیوں کے شرکا بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کرتے رہے، انھوں نے بھارتی جبر وستم کے خلاف زبردست نعرے بازی کی، ملک کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر میں جلسے منعقد کیے، جلوس نکالے گئے، حریت کانفرنس نے بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرہ کیا ، بیرون ملک مقیم پاکستانی اور کشمیری بھی احتجاج میں شامل رہے۔ جلوسوں اور ریلیوں میں شریک عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا ، ان کا کہنا تھا کہ برصغیر کی سیاسی تاریخ اور عالمی سطح پر کشمیر کاز کے حق میں اس سے زیادہ توانا صدائے احتجاج پہلے کبھی بلند نہیں کی گئی۔

صدر مملکت عارف علوی نے پاکستان کے 72 ویں یوم آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری امن پسندی کو بھارت کمزوری نہ سمجھے، ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ تھے، رہیں گے۔ دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا، صدر نے کہا کہ جنگ مسلط کی گئی تو اس کے دنیا پر اثرات پڑیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیرکی حیثیت تبدیل کر کے آخری کارڈ کھیل لیا، آگے کشمیرکی آزادی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بھارت نے آرٹیکل370 اور 35 اے ختم کر کے اپنے آئین، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کی ہائیکورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی کی ہے۔

ہمیں اطلاع ہے کہ بھارت نے زیادہ خوفناک منصوبہ بنایا ہوا ہے، بھارت نے جس طرح پلوامہ واقعہ کے بعد بالاکوٹ پر حملہ کیا، اب وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد کشمیر پر بھی حملہ کرنا چاہتا ہے لیکن بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا، افواج پاکستان اور قوم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

بدھ کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہمارا مذہب ہمیں جنگ میں پہل اور جارحیت کی قطعاً اجازت نہیں دیتا، لیکن آزادی کے لیے جنگ میں شرکت کرنے والے شہداء کا بڑا رتبہ ہے، مسلمان کم تعداد میں ہونے کے باوجود بڑی افواج کو شکست دے چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جب کرفیو اٹھے گا تو پتہ چلے گا کہ کیا کیا چیزیں سامنے آتی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں پہلے فوج میں اضافہ کیا گیا، پھر طلبہ اور ہندو یاتریوں کو نکالا گیا، وہ یہ سب کر کے ایسا کیا کرنے جا رہے تھے جسے چھپانا ضروری تھا۔

دریں اثناء آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کشمیر پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، نتائج کی پروا کیے بغیر ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ایک ٹویٹ میں یوم آزادی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ کا جو پیغام جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارت کے مخاصمانہ عزائم کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا چاہے اس کی کوئی بھی قیمت نہ چکانی پڑے ۔ پاک فوج کشمیر کاز کے لیے اپنی ذمے داریاں ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے گی۔ ہم نتائج کی پرواہ کیے بغیر ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

1947میں کاغذ کا ٹکڑا کشمیر کی حیثیت تبدیل کر سکا اور نہ ہی موجودہ غیر قانونی اقدام اس کی حیثیت تبدیل کر سکتا ہے۔ مقبوضہ وادی میں محاصرہ مزید سخت کر دیا گیا ہے، سابق بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی آواز سنی جائے۔

واضح رہے10 ویں روز بھی کرفیو جاری رہا، بھارتی حکام دعوے کرتے ہیں کہ پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں مگر بھارت پر اس قدر ''خوف مزاحمت'' طاری ہے کہ کسی کو پر مارنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 45 ارکان برطانوی پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ مداخلت کرے، پولش وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے ہم منصب سے رابطہ کیا اور کشیدہ صورتحال پر تشویش ظاہر کی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے رابطہ ہوا، لاوروف کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔

ادھر سلامتی کونسل کو پاکستان کی طرف سے جلد کونسل کا اجلاس بلانے کا مراسلہ مل گیا ہے، ملیحہ لودھی نے وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی کا خط صدر سلامتی کونسل کو پہنچا دیا ہے، ایم کیو ایم کے تحت اظہار یکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد کیا گیا جب کہ ملک بھر میں سیاسی، سماجی ،مذہبی اور فلاحی تنظیموں اور شہری اداروں نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم مل کر لہرائے۔ رینجرز کی گاڑیوں نے گشت کے دوران دونوں پرچم سربلند رکھے۔ پاکستان نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کیا ہے اور بھارتی ہائی کمشنرکو بھی طلب کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج کشمیریوں پر انتہائی مشکل وقت ہے۔ ہمیں آر ایس ایس کے خوفناک نظریے کا سامنا ہے، یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں مسلمانوں سے بدلہ لینا ہے ۔راجہ فاروق حیدر اپنی تقریر کے دوران آبدیدہ ہو گئے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو سیز فائر لائن (سی ایف ایل) قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے جلد آزاد کشمیر حکومت نوٹیفکیشن جاری کریگی۔

آزاد کشمیر قانون سازاسمبلی کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، قائد ایوان شبلی فراز، صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین کشمیر کمیٹی فخر امام، گورنر کے پی کے شاہ فرمان، وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان، گورنر گلگت بلتستان سمیت اہم شخصیات نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

کشمیری رہنماؤں نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نے ظلم و ستم کی وہ انتہا کر دی ہے جس کی مہذب دنیا میں آج تک کوئی مثال نہیں ملتی۔ادھر بھارت کے صدر رامناتھ کووند نے اپنے صدارتی پیغام میں مہاتما گاندھی کا ذکر کیا، کہا کہ گاندھی جی کی معنویت برقرار ہے، رام ناتھ نے دفعہ 370 کی منسوخی اور کشمیر کی جبری تقسیم کو تاریخی قرار دیا۔

عجیب بات ہے کشمیر میں دہشت کی فضا طاری ہے اور بھارتی صدر کا کہنا ہے کہ ہندوستانی سماج ہمیشہ فطری اور خوشگوار رہا ہے ،انھوں نے نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کے سقوط کے سائے میں بھارتیوں سے کہا کہ وہ جیو اور جینے دو کے اصول پر چلیں، کیونکہ یہی عمل انھیں آگے بھی کرنا پڑیگا جب کہ نریندر مودی نے اپنا بیان لال قلعہ سے جاری کیا۔

مودی نے ون نیشن ون کانسٹی ٹیوشن سے لے کر کئی نعرے یکجا کر کے بھارتی عوام سے کہا کہ انھوں نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کا خواب مکمل کیا۔ تاہم بھارتی عوام کو بھارتی حکران یہ زمینی حقیقت بتانے کے لیے تیار نہیں کہ کشمیر میں جو لاوا پک رہا ہے اس نے خطے کی ساری بساط سیاست بدل دینی ہے، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اب کشمیریوں کو صرف وقت کی للکار کا انتظار ہے۔

مقبول خبریں