پاک افغان جوائنٹ چیمبر کا وفد 25 ستمبر کو کراچی پہنچے گا

مقصد بزنس کمیونٹی کو قریب لانا،باہمی تجارتی فروغ اورکاروباری مواقع پیدا کرنا ہے، زبیرموتی والا


APP September 23, 2013
افغان وفد 25 سے 29 ستمبر تک کراچی میں رہے گا۔ فوٹو: فائل

پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زبیر موتی والا نے کہا ہے کہ جوائنٹ چیمبر کے شریک صدر خان جان اولکوزئی کی قیادت میں پی اے جی سی سی آئی کا اعلیٰ سطحی وفد 25 ستمبر 2013 کو کراچی پہنچے گا۔

افغان وفد کے دورہ کراچی کا مقصد دونوں جانب کی بزنس کمیونٹی کو قریب لانے اور باہمی تجارت کے فروغ سمیت کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر کے صدر زبیر موتی والا نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ افغان وفد 25 سے 29 ستمبر 2013 تک کراچی میں رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وفد میں کنسٹرکشن اور الائیڈ میٹیریل، فوڈ، ایگریکلچرل اور متعلقہ میٹیریل، مشینری، آٹو پارٹس، ٹائرز، پلاسٹک، الیکٹرانکس، ٹیکسٹائل، گارمنٹس، فیبرکس اور سروسز سیکٹر سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد شامل ہیں۔



انہوں نے بتایا کہ پی اے جی سی سی آئی نے 28 ستمبر کو پاکستان اور افغانستان کے کاروباری افراد کے درمیان تعارفی اجلاس کا انعقاد کیا ہے جس میں بزنس ٹو بزنس میچ میکنگ اور نیٹ ورکنگ کے حوالے سے اہم گفتگو کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وفد 26 سے 29 ستمبر تک ٹریڈ ڈیولمپنٹ اتھارٹی پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان ایکسپو میں بھی شرکت کرے گا اور اس مقصد کے لیے پی اے جے سی سی آئی نے ایک بوتھ بھی ایکسپو پاکستان میں حاصل کر لیا ہے۔ زبیر موتی والا نے پاک افغان جوائنٹ چیمبر کی انفرادیت اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ اس چیمبر کے قیام کا مقصد معاشی استحکام، دونوں قوموں کے مابین باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جوائنٹ چیمبر نے اپنے قیام کے قلیل عرصے میں دونوں جانب کی بزنس کمیونٹی کو سہولتوں کی فراہمی اور انہیں سپورٹ کرنے کے لیے اچھی خاصی پیش رفت کی ہے۔ زبیر موتی والا نے مزید بتایا کہ پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر بورڈ کی پانچویں میٹنگ کا انعقاد بھی کر رہا ہے جس میں بورڈ ممبرز سرحد کے پار دونوں جانب کی بزنس کمیونٹی سے حاصل کردہ آرا پر مبنی سفارشات پر غور کریں گے، خاص طور پر افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ 2010 پر غور کیا جائے گا۔