سوڈانی آرمی اور اپوزیشن میں شراکت اقتدار کا معاہدہ

جنوبی سوڈان کے لوگوں نے علیحدگی کی تحریک شروع کر دی


Editorial August 19, 2019
جنوبی سوڈان کے لوگوں نے علیحدگی کی تحریک شروع کر دی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

سوڈان کے اپوزیشن اتحاد اور حکمران ملٹری کونسل میں شراکت اقتدار کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔خوش آیند امر یہ ہے کہ فریقین عبوری حکومت اور عام انتخابات کے انعقاد پر بھی اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ سوڈان پر طویل عرصہ سے عمر البشیر کی حکمرانی تھی۔کچھ عرصہ پہلے عمر البشیر کے خلاف زبردست مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد سوڈانی فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ سوڈان میں افراتفری کی وجہ سے اس افریقی ملک کے استحکام اور سلامتی کا سوال کافی عرصہ سے درپیش تھا۔

واضح رہے سوڈان کو اپنے پڑوس میں بالخصوص صومالیہ سے لے کر مصر اور لیبیا تک اٹھنے والی بغاوتوں کے اثرات کا بھی سامنا رہا ہے۔ ملک میں امن و امان کے لیے ان متذکرہ تمام عوامل کو اور دیگر خرابیوں کو درست کرنا ہو گا۔ سوڈان کے چوٹی کے جرنیلوں میں سے ایک محمد حمدان دغالو جو ملٹری کونسل کے نائب سربراہ ہیں، انھوں نے اپوزیشن اتحاد کے نمایندے احمد الربیع کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔مفاہمتی یاداشت پر دستخط کی اس تقریب کے موقع پر حاضرین نے خوشی سے تالیاں بجائیں اور آرکسٹرا نے امن کی دھن بجائی۔ واضح رہے اپوزیشن نمایندے احمد الربیع نے امن معاہدے کے لیے فضا کو سازگار بنانے میں کردار ادا کیا۔ افریقی یونین اور ایتھوپین مذاکرات کار نے فریقین کے مذاکرات تک پہنچنے میں مددگار اور سہولت کار کے فرائض انجام دیے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا سوڈان پر بہت اثر و رسوخ ہے۔ لہٰذا ان دونوں ملکوں نے بھی امن معاہدہ طے کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہاں یہ امر بھی قبل ذکر ہے کہ سوڈان کے فوجی سپاہی یمن میں بھی سعودی عرب کے ایما پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ امن معاہدے کے موقع پر جنوبی سوڈان ، ایتھوپیا اور کینیا کے نمایندے بھی موجود تھے ۔ اپوزیشن کے صف اول کے رہنما صادق المہدی جو سوڈان کے آخری جمہوری حکمران ہیں نے اس موقع پر کہا کہ آنے والا وقت ان کے لیے ٹیسٹ کیس ہے، تمام سوڈانیوں کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ عارضی ملٹری کونسل (ٹی ایم سی) سوڈان پر اپریل سے حکومت کر رہی ہے ۔ ٹی ایم سی اور اپوزیشن اتحاد جو فورسز آف فریڈم اینڈ چینج کہلاتا ہے ، ٹی ایم سی کے ساتھ شراکت اقتدار کے لیے کافی عرصے سے مذاکرات کر رہا تھا۔ یاد رہے سوڈان میں پچھلے کافی عرصہ سے عوامی احتجاج جاری رہا اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں مظاہرین کی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

دغالو جسے حمیدتی بھی کہا جاتا ہے اس کی قوت کا راز اس بات میں تھا کہ وہ پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورس کا انچارج ہے۔ حکومت مخالف گروہ سے لڑنے والوں کا کہنا ہے کہ ہم لوگ شہیدوں کے وارث ہیں جو اب بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ ہفتے کو طے پانے والے سمجھوتے کے مطابق مفاہمتی کونسل میں دونوں فریقوں کی طرف سے پانچ پانچ اراکین شامل کیے جائیں گے اور انھی میں سے سوڈان کے لیے نئے وزیر اعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔ دریں اثنا عمر البشیر کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ قائم کرنے کی کوشش بھی متوقع ہے۔

سوڈان میں امن کی راہ نکل آئی ہے ۔ اگر اپوزیشن اور ملٹری اتحاد اپنے عہد پر قائم رہے تو سوڈان میں جمہوریت کا عمل شروع ہو جائے گااور افریقی براعظم کا یہ اہم مسلم ملک آمریت سے نکل کر ترقی کے سفر پر روانہ ہو جائے گا۔سوڈان پر طویل عرصہ تک عمر البشیر حکومت کرتے رہے 'ان کے نظریات اور افکار کی وجہ سے سوڈان عالمی طور پر تنہا ہوا جب کہ ملک میں انتہا پسندی پھیلنے کی وجہ سے جنوبی سوڈان کے لوگوں نے علیحدگی کی تحریک شروع کر دی۔

امریکا اور دیگر مغربی ملکوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور جنوبی سوڈان کو آزاد ملک کا درجہ دلوا دیا ۔یوں براعظم افریقہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اسلامی ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ۔ بہرحال اب سوڈان میں جمہوری قوتیں مضبوط ہوتی نظر آ رہی ہیں ۔ سوڈان کے ہمسایہ ممالک نے بھی بہتر کردار ادا کیا ہے جب کہ عرب ملکوں خصوصاً سعودی عرب 'متحدہ عرب امارات اور مصر کا کردار بھی اہم رہا ۔ ان ملکوں کے مثبت کردار کی وجہ سے سوڈانی اپوزیشن اور ملٹری کونسل کے درمیان امن معاہدہ طے پایا۔

مقبول خبریں