جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کو سیاسی، اقتصادی، سفارتی،عسکری اورتزویراتی محاذ پرکثیرالجہتی چیلنجوں کا سامنا ہے۔


Editorial August 21, 2019
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کو سیاسی، اقتصادی، سفارتی،عسکری اورتزویراتی محاذ پرکثیرالجہتی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ فوٹو:فائل

KARACHI: وزیراعظم عمران خان نے چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں مزید 3سال کے لیے توسیع کر دی ہے۔ پیر کو وزیراعظم آفس کی طرف سے جاری کی گئی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ان کی موجودہ مدت ملازمت کی تکمیل کی تاریخ سے مزید 3 سال کے لیے بطور چیف آف دی آرمی اسٹاف مقرر کیا جاتا ہے۔

یہ فیصلہ علاقائی سلامتی ماحول کے پیش نظر کیا گیا ہے جب کہ سیاسی مبصرین، مین اسٹریم سیاسی جماعتوں، اپوزیشن اور عوامی حلقوں نے اس فیصلے کو صائب اور خطے کے پیدا شدہ ماحول،ا سٹرٹیجیکل زمینی حقائق اور ملکی امن و استحکام کے سیاق و سباق میں بروقت قرار دیا ہے، وزیراعظم آفس نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ اب وہ 29 نومبر 2022تک آرمی چیف رہیں گے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کو سیاسی، اقتصادی، سفارتی، عسکری اور تزویراتی محاذ پرکثیر الجہتی چیلنجوں کا سامنا ہے، اس تناظر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع ایک صائب اور دور اندیشی پر مبنی اسٹرٹیجیکل فیصلہ ہے اور اس پر سیاسی سواد اعظم کا انداز نظر بھی سیاسی بلوغت کا مظہر ہے۔

تاجر برادری نے کہا کہ آرمی چیف کو توسیع صحیح فیصلہ ہے، دنیا کی نظریں پاکستان پر جمی ہوئی ہیں، عالمی طاقتوں میں ایک دوسرے پر مسابقت کی جنگ جاری ہے، تجارتی تنازعات کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں، خطے کو ہولناکی سے بچانا ہے، بھارتی حکومت نے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کے اندوہ ناک تجربات روا رکھے ہیں، ایک زندہ سانس لیتی آبادی پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے اور غیر انسانی حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کرفیو نہیں ہٹایا جا رہا۔

مودی کی نسل پرستی جرمن نازیوں کو شرمندہ کیے ہوئے ہے، نسل انسانی کو برصغیر میں پہلی بار ایک خوں آشام چنگیزیت مسلط ہوئی ہے اور دنیا خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے، وطن عزیز عالمی ضمیر سے فریاد کناں ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے مودی اور عمران خان سے رابطہ کیا ہے، کشمیر پر کشیدگی کم کرنے پر زور بھی دیا ہے، وزیراعظم نے ٹرمپ سے کردار ادا کرنے کو کہا ہے، اب ٹرمپ کی باری ہے کہ وہ ثالثی سمیت کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لیں اور اپنا رول پلے کریں۔ وزیراعظم عمران خان بلاشبہ حقیقت پسند ی کا دامن تھامے ہوئے ہیں، انھیں ادراک ہے کہ بھارت خطے کو آگ و خوں کے سیلاب میں ڈبونے پر کمربستہ ہے، لیکن اس کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کو 29 نومبر 2016 کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی منظوری سے چیف آف دی آرمی اسٹاف تعینات کیا گیا تھا۔ آئی ایس پی آر کی ویب سائٹ پر دستیاب تفصیلات کے مطابق جنرل قمر جاویدباجوہ نشان امتیاز(عسکری)نے 24 اکتوبر 1980کو16بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (ٹورنٹو) کینیڈا، نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی مونٹیسوری کیلیفورنیا (امریکا) نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔

وہ اسکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کوئٹہ، کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور این ڈی یو میں انسٹرکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ انفنٹری بریگیڈ کے سربراہ اور راولپنڈی کور کے چیف آف اسٹاف بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے 16 بلوچ رجمنٹ، انفنٹری بریگیڈ اور ناردرن ایریا کمانڈر ایف سی این اے میں انفنٹری ڈویژن کی بھی کمان سنبھالی۔ انھوں نے کانگو میں پاکستانی دستے کی کمان بھی کی، وہ راولپنڈی کور کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے اپنا آئینی اختیار استعمال کیا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں اصل حقائق اس وقت سامنے آئیں گے جب کرفیو اٹھے گا۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کو بھی کرفیو توڑنے کی کوشش کی گئی ہے اور بھارتی سیکیورٹی فورسز اور کشمیریوں کے مابین مڈ بھیڑ کی اطلاعات ہیں۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کے غیر ذمے دارانہ بیان اور ان کے عزائم سب کے سامنے ہیں۔ ایک واضح پیغام آج دنیا کے سامنے ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ وقت کی ضرورت ہیں مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ خوش آیند ہے۔

وفاقی وزیرریلوے شیخ رشیداحمد نے لندن سے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پوری دنیاکے لیے پیغام ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کا نوٹیفیکیشن موجودہ سیکیورٹی حالات کی سنجیدگی کا ادراک ہے۔

ہم تاریخ کے اہم دوراہے پر ہیں اور جنرل باجوہ پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کے تسلسل کی علامت ہیں۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ جنرل باجوہ کی قائدانہ صلاحیتیں، حب الوطنی وقت کی اہم ضرورت، قوم اعتماد کر سکتی ہے کہ مسلح افواج کی قیادت مضبوط ہاتھوں میں ہے۔

وزیر اطلاعات، خیبر پختون خوا شوکت یوسفزئی نے بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پرمبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں پاک فوج ناقابل تسخیر ہے۔پاکستان کی پاک فوج اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے تیار کھڑی ہے، دشمن کی ہر چال اس کی زد میں ہے، اس لیے لازم ہے کہ سیاست دان اور عوام زمینی حقائق پر نظر رکھیں، ہر شہری کا جمہوری حق ہے حکمرانوں سے ریلیف مانگے، یہ خوش آیند پیش رفت ہے کہ حکومت اپنی ایک سالہ کارکرکردگی کا حساب قوم کے سامنے پیش کر رہی ہے، میڈیا پر سیاسی اکابرین اور اپوزیشن میں ملکی مسائل اور عوام کو درپیش مختلف النوع معاملات پربحث و تمحیص جاری ہے۔

خطے کی بدلتی صورتحال نے سیاسی عمل کے روایتی کردار پر اہم سوالات کھڑے کیے ہیں، تبدیلی کے عمل سے کوئی شے الگ نہیں رہ سکتی، ملکی جمہوری تسلسل کو لاحق بیرونی خطرات کا سدباب کرنے کی ضرورتوں کے ادراک کے لیے نئے مفاہمتی سیاسی اقدامات ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں، داخلی مناقشت، کشیدگی، محاذ آرائی اور چپقلش سے ہونے والے نقصانات پر بچنے کے لیے فہمیدہ حلقے سنجیدگی سے سوچ بچار کر رہے ہیں۔

ریاستی اور سماجی شیرازہ بندی کی فکری، ملی اور سیاسی ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ قومی جذبے سے ہم آہنگ ہونے میں پہل کرنی چاہیے تاکہ دشمن ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی پر وار کرنے سے پہلے دس بار اپنی تباہی اور بربادی کا سوچ لے۔

اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص ملک کے مفاد کر ہر شے پر مقدم رکھے، ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی اتفاق رائے، اتحاد اور یقین کامل کے ساتھ اپنی سیاسی ترجیحات کو ریاست، حکومت اور سماج کی بنیادی اقدار سے ہمکنار کر دے، عوامی توقعات کو حقیقت پسندانہ طور پر قومی ترقی و استحکام سے مربوط کرنا تقاضائے وقت ہے، سیاست میں تدبر، دوراندیشی، معاملہ فہمی، عملیت پسندی، قومی سوچ کو فروغ دینے اور اپنے اساسی نظریات، اصولوں پرثابت قدم رہنے اور اداروں کو ایک پیج پر رکھنے کی دیدہ وری ناگزیر ہے۔

اگرچہ مہنگائی کا عفریت منہ کھولے ہوئے ہے، لوگ بجلی،گیس، ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ، بیروزگاری اور غربت سے تنگ آئے ہوئے ہیں، لیکن حکومت اپنے آدرش سے ہٹے بغیر عوام کو آسودہ حال کرنے کی کوششیں جاری رکھے، سی پیک سے خطہ مستفید ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں