تکنیکی خرابیوں کی حامل گاڑیوں سے عوام کی زندگیوں کو خطرات لاحق

درآمد ہونیوالی زیادہ تر گاڑیوں میں حفاظتی شرائط پوری نہیں ہوتیں، ایئربیگز بھی نہیں ہوتے


Business Reporter August 21, 2019
وہیکل آرڈیننس 1965 فرسودہ ہو چکا، اس میں جدید سیفٹی خصوصیات کا ذکر نہیں، ماہرین فوٹو: فائل

تکنیکی خرابیوں اور حادثات کا شکار درآمدی اور مقامی گاڑیوں سے عوام کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

ملک میں سیفٹی شرائط کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ادارہ یا مکینزم موجود نہیں ہے۔ پاکستان میں فی الوقت وہیکل آرڈیننس 1965 کے تحت کمرشل گاڑیوں کا مخصوص دورانیے کے بعد معائنہ کیا جاتا ہے جو وقت کے ساتھ فرسودہ ہوچکا ہے اور اس میں موجودہ گاڑیوں کے معائنے اور ان میں سیفٹی کو یقینی بنانے کی کمی ہے۔

آٹو سیفٹی ماہرنے کہا کہ آرڈیننس میں جدید سیفٹی خصوصیات شامل نہیں ہیں جن پر عالمی سطح پر عمل کیا جاتا ہے۔ دو قسم کی سیفٹی خصوصیات کا معائنہ ضروری ہے جن میں ایکٹو سیفٹی فیچر اور پیسِیو خصوصیات ہیں، ایکٹیو سیفٹی خصوصیات میں گاڑی کی سیٹ بیلٹ، چائلڈ سیٹ ، آئی ایس او فکس اینکرز کیساتھ گاڑی میں بیٹھے افراد کی سلامتی کیلیے ہیں۔ اسی طرح ایس آر ایس بیگس جو سیٹ بیلٹ کے ساتھ حفاظت کرتے ہیں پیسیو فیچرز ہیں۔

مقبول خبریں