ہوشربا مہنگائی کی بہتی گنگا

بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے شوگر مافیا بھی سرگرم ہوچکی ہے۔


Editorial August 22, 2019
بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے شوگر مافیا بھی سرگرم ہوچکی ہے۔ فوٹو: فائل

BERLIN: یوٹیلٹی اسٹورز پر تین سو سے زائد اشیا کی قیمتوں میں1 روپے سے 65 روپے تک کا اضافہ، اس بات کو ظاہرکرتا ہے کہ مہنگائی کا جن بے قابو ہوچکا ہے اور اسے بوتل میں دوبارہ بندکرنے کے لیے حکومتی سطح پرکسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔

گھی ،کوکنگ آئل ، مصالحہ جات ، ٹوتھ پیسٹ ، شیمپو ، صابن ، چائے کی پتی اور پیمپر سمیت دیگر اشیا مہنگی ہونے سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ جب ذرایع آمدنی انتہائی محدود ہوں تومہنگائی مار دیتی ہے۔ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت نے عوام کو منافع خوروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے یا پھر انھیں عوام کے آلام و مصائب کا قطعاً کوئی ادراک نہیں ہے۔ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے شوگر مافیا بھی سرگرم ہوچکی ہے۔

یوٹیلٹی اسٹورز پرچینی74 روپے کلو جب کہ اوپن مارکیٹ میں چینی76روپے کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔دکانداروں نے سرکاری نرخ نامہ ردی کی نذرکرتے ہوئے من مانے ریٹس مقررکردیے ہیں ،کیونکہ ان سے باز پرس کرنیوالی پرائس کمیٹیاں غیر فعال ہیں۔ عوامی رائے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یوٹیلٹی اسٹورز پر اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ قیمتوں کوکنٹرول کرنے میں حکومت ناکام ہو چکی ہے۔اب مارکیٹ اور یوٹیلٹی اسٹورزکی قیمتوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہا ہے۔

ان اسٹورزکی افادیت کم کرنے کی یہ ایک سازش بھی ہوسکتی ہے، جس پر ارباب اختیارکوغورکرنا چاہیے۔ تبدیلی کا نعرہ جس پر موجودہ حکومت نے ووٹ لیے،اس کے اثرات عوام تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔عوام ہوشربا مہنگائی کے ہاتھوں اذیت اورکرب میں مبتلا ہیں۔ حکومت کو اپنے عوام پر رحم کرتے ہوئے سب سے پہلے تو یوٹیلٹی اسٹورز پر اشیائے خورونوش میں اضافہ واپس لینا چاہیے۔ ملک گیر سطح پر مہنگائی کم کرنے کے لیے ٹاسک فورس کی تشکیل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

مقبول خبریں