ستلج میں سیلابی بہاؤ بھارتی آبی جارحیت

سیلابی پانی کوکامیابی سے روکا جا سکتا ہے،اسی پانی سے بجلی بنائی جا سکتی ہے۔


Editorial August 24, 2019
سیلابی پانی کوکامیابی سے روکا جا سکتا ہے،اسی پانی سے بجلی بنائی جا سکتی ہے۔فوٹو: فائل

ISLAMABAD: این ڈی ایم اے نے دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤکی تازہ صورتحال جاری کردی ہے، جس کے مطابق پانی کے بہاؤ میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔ دریائے ستلج پرگنڈا سنگھ والا سے گزرنے والا پانی کا بڑا ریلہ ہیڈ سلیمانکی پہنچنے والا ہے۔

اس وقت بھارت کی جانب سے پیشگی اطلاع کے بغیر دریائے ستلج میں اضافی پانی چھوڑنے کے باعث متعدد قصبوں اور دیہات میں وسیع پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں، جن میں کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں ، جب کہ مختلف علاقوں سے لوگ نقل مکانی پر مجبور بھی ہوئے ہیں۔ ضلع قصوراور اوکاڑہ سے 2475 لوگوں کو محفوظ متبادل جگہوں پر منتقل کیاگیا ہے۔

2133 لوگوں کو سامان کی منتقلی کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی مہیا کی گئی ہیں۔ دریائے سندھ پرگدوکے مقام پراس وقت درمیانے درجہ کا سیلاب ہے۔اس کے علاوہ تمام ملکی دریاؤں اور ہیڈ ورکس پرپانی کا بہاؤ خطرے کے نشان سے نیچے ہے۔ دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے سے چیچہ وطنی کے نواحی دیہاتوں میں کھڑی فصلیں زیرآب آگئیں۔

یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت، پاکستان میں سیلاب کا ذمے دار ہے؟اس کا جواب مثبت ہے کیونکہ پاکستان کی جانب بہنے والے زیادہ تردریاؤں کا منبع بھارت سے گزرتا ہے اور اسی چیزکا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت پاکستان کی طرف آنے والے پانیوں پر 30 سے زائد ڈیمز بنا رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو ہمیشہ اس بات کا خطرہ رہتا ہے کہ بھارت کسی وقت ڈیمزکے اسپل ویزکھول دے گا تو پاکستان میں سیلابی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔اس بار بھی بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔

ہمارے حکمران تو سوئے ہوئے ہیں، پتہ نہیں کہ وہ کب بیدار ہونگے۔ پانی جب سرسے اونچا ہوجائے گا ، تو پھر ان کے جاگ جانے سے کسی کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ لوگ ان سے سخت مایوس ہوچکے ہیں۔ تقریباً ہر سال برسات ہوتی ہے مون سون سیزن میں تو دریاؤں میں سیلاب آجاتے ہیں۔ یہی سیلابی پانی ہرے بھرے کھیتوں کو اجاڑدیتا ہے۔ انسانوں اور حیوانوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔

سیلابی پانی کوکامیابی سے روکا جا سکتا ہے،اسی پانی سے بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ یہی پانی پھر زرعی زمینوں کی سیرابی وشادابی کا سبب بنتا ہے اور ان سے بے شمار قیمتی اشیائے خوردنی پیدا ہوتی ہیں۔ انواع واقسام کے پھلوں کی پیداوار ہوتی ہے جنھیں ہم بیرون ممالک برآمد کر کے قیمتی زرمبادلہ کماتے ہیں۔ قانون قدرت کے مطابق پانی اونچائی سے نیچے کی طرف آتا ہے۔

پہاڑی علاقوں میں ان گنت چھوٹے بڑے ڈیمز بنا کر سیلاب کے مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کیا جا سکتا ہے۔یہ ذخیرہ شدہ پانی ہمیں تباہی سے محفوظ رکھے گا، اضافی پانی سے اراضیات کی آبپاشی ہوگی۔ پانی کے بغیر کامیاب زراعت ممکن نہ ہے۔ ہمیں نئے ڈیمز بنانے کی اشد ضرورت ہے، ہمارا پاکستان ڈیمز بننے سے ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے آگاہی مہم کو قومی مہم بنانا ضروری ہے، کیونکہ اب ہمارے پاس مزید وقت نہیں ہے۔

مقبول خبریں