پشاور المیہ سوچا سمجھا منصوبہ

1852 میں ہم نے غالب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ’ہاں مہِ نو، سنیں ہم اس کا نام… جس کو تُوجھک کے کررہا ہے سلام‘۔50 یا 60 ...


Zahida Hina September 24, 2013
[email protected]

1852 میں ہم نے غالب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ 'ہاں مہِ نو، سنیں ہم اس کا نام... جس کو تُوجھک کے کررہا ہے سلام'۔ 50 یا 60 برس بعدہم 'مہ نو' یعنی 'نئے چاند' کی ایک نئی تشریح اور تعبیر سن رہے تھے۔ ہمیں بتایا جارہا تھا کہ 'مہ نو' اب قتل وخون کا استعارہ ہے۔ کہا جارہا تھا کہ ''خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا۔'' سبز ہلالی پرچم کے بارے میں ہمیں بتایا گیا کہ سبز رنگ پر بنا ہوا چاند تارا اگر اسلامی مملکت کی علامت ہے تو اس کے برابر میں سفید پٹی ہماری اقلیتیوں کی نمایندگی کرتی ہے۔ ایک معاصر میں ملک کے نامور کارٹونسٹ ظہور نے اس سفید پٹی کو آج کے تناظر میں بنایا ہے، یہ سفید پٹی کھوپڑیوں سے بھری ہوئی ہے جن سے خون ٹپک رہا ہے۔ 66 برس کے فوراً بعد ہی یہ سفید پٹی بھلائی جاچکی تھی۔ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں کو اصل عروج جنرل ضیا الحق کے زمانے میں ہوا لیکن ان سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو بھی اقلیتوں کے ساتھ زیادتی اور ''اسلامائزیشن'' کے عمل میں اپنا حصہ ڈال چکے تھے۔

قیام پاکستان کے وقت اقلیتوں سے کہا گیا تھا کہ آئین کی رو سے پاکستان میں انھیں بھی مسلم اکثریت جتنے حقوق حاصل ہوں گے لیکن 1949 میں جب قرارداد مقاصد منظور ہوئی تو یہ دراصل پاکستان کی تمام اقلیتوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کا آغاز تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قانون ساز اسمبلی اس قرارداد کو منظور نہ ہونے دیتی لیکن میاں افتخار الدین کے سوا کسی مسلمان رکن نے اس قرارداد کی مخالفت نہیں کی بلکہ اس کی تحسین کی گئی اور پھر سال بہ سال اس قرارداد کی کاٹ میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ جنرل ضیا الحق نے اسے اوجِ کمال پر پہنچایا۔ جنرل پرویز مشرف نے ذاتی اقتدار کے استحکام اور اس کی مدت میں اضافے کے لیے امریکی صدر جارج بش جونیئر کی شروع کی ہوئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی اجازت دی جس کا نتیجہ ہم برسوں سے بھگت رہے ہیں۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں جتنی بھاری قیمت پاکستان نے ادا کی، اس کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ ہمارے سماج میں وہ انتہا پسند دور دور تک پھیل گئے جن کا مقصد پاکستان کی سالمیت اور اس کی عوامی یکجہتی کو پارہ پارہ کردینا تھا۔

اس کی معیشت کو تباہ کرنا اور عالمی برادری میں اسے دہشت گردوں کے سامنے لڑکھڑاتی ہوئی ریاست کے طور پر پیش کرنا تھا۔ انھیں داد دیجیے کہ وہ اپنی اس حکمت عملی میں کامیاب رہے اور ان کے درپردہ دوست، پشاور کے مقتل میں کھڑے ہوکر بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ اس اندوہناک واقعے پر کچھ لوگ سیاست چمکا رہے ہیں۔ ان کا اشارہ وزیر اعظم کے اس بیان کی طرف ہے کہ ایسے واقعات مذاکرات کے لیے نیک شگون نہیں ہیں۔ ان قومی رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا کرنے والے مسلمان اور انسان نہیں ہوسکتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ جنوں اور بھوتوں کی وہ کون سے نسل ہے جس کی اصلیت سے وہ آگاہ ہیں اور جو ہر دوسرے ، چوتھے دوپایوں کے روپ میں آتی ہے اور انسانی خون کی بھینٹ لے کر چلی جاتی ہے۔ اندرون پشاور شہرکوہاٹی دروازے کے پاس بنے ہوئے تاریخی گرجا گھر میںاتوار کی عبادت کے دوران جس طرح کے خود کش دھماکے ہوئے انھوںنے فوری طور پر 80 سے زیادہ انسانی جانوں کو اپنا نوالہ بنایا اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ ان میں کتنے جاں بر ہوسکیں گے ، ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا۔

ان خود کش دھماکوں کے لیے دہشت گردوں نے جو وقت منتخب کیا، وہ بہت سوچا سمجھا تھا۔ اس سے پہلے وزیر اعظم چین کے دورے پر روانہ ہوئے تو نانگا پربت پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعے نے انھیں مشکل صورتحال میں ڈال دیا تھا اور اب وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے چلے اور لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پہنچ رہے تھے جب یہ جاں کاہ سانحہ رونما ہوا۔ اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی جاری کردی گئی کہ پاکستانی اقلیتوں پر یہ دھماکے اس وقت تک جاری رہیںگے جب تک امریکا ڈرون حملوں سے باز نہیں آتا۔

وزیراعظم دو دن بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہیے کہ وہ اقوامِ عالم کے صدور اور وزرائے اعظم کے سامنے پاکستان کا موقف بیان کررہے ہوں گے اور یہ یقین دلانے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے، اپنے پڑوسیوں سے دوستانہ تعلقات کا خواہشمند ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عزم صمیم رکھتا ہے۔ پشاور میں پاکستان کے بے گناہ عیسائیوں کی عبادت گاہ کو مقتل بنا دینے والے اس حملے کے بعد کون ہے جو ہمارے بیانات پر اعتبار کرے گا اور اگر کر بھی لے تو اس بات پر کیسے یقین کرے گا کہ پاکستانی وزیراعظم، سیاسی اور معتدل مذہبی قوتیں اور فوج مل کر بھی اس عفریت پر قابو پاسکیں گی۔ چند دنوں پہلے ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے یہ بات طے کی گئی تھی کہ امن کے لیے مذاکرات کا آپشن استعمال کیا جائے گا۔ ابھی اس آل پارٹیز کانفرنس کی متفقہ قرارداد کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ اعلیٰ فوجی افسر قتل کردیے گئے اور انتہاپسندوں کی طرف سے مطالبات کی ایک طویل فہرست پیش کردی گئی۔

انتہا پسندوںکے وہ حمایتی جو اپنے چہروں پر بھیڑ اور بکری کے مکھوٹے چڑھائے رہتے ہیں ۔ انھوں نے فوراً یہ کہنا شروع کردیا کہ ان مطالبات کو مسترد نہیں کرنا چاہیے اور اب پشاور جیسے خونیں واقعے کے بعد بھی اس سفاکی میں ملوث گروہوں پر واضح الفاظ میں ذمے داری عائد نہیں کرتے بلکہ یہی کہتے ہیں کہ ان معاملات کو صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ اس موقعے پر بھی انھیں صرف یہ یاد رہتا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں یہ بات طے ہوچکی ہے کہ متعلقہ فریق سے مذاکرات کیے جائیں گے۔

یہ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا کی بڑی سے بڑی جنگ ہو یا دہشت گردوں کا سامنا ہو، آخری بازی مذاکرات کی میز پر ہی کھیلی جاتی ہے لیکن مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے بھی کچھ آداب اور اصول ہوتے ہیں۔ افسوس کہ بعض سیاستدانوں کو اس بات کی توفیق کبھی نہیں ہوتی کہ وہ رات کے اندھیرے میں اپنے دوستوں کو امن مذاکرات کے آداب بھی تعلیم کریں۔نیویارک پہنچنے سے پہلے لندن کے اپنے مختصر قیام میں وزیر اعظم نے کہا کہ ''دہشت گرد پاکستان کے عزم کو کمزورکرنا چاہتے ہیں، ہم نے طالبان کے ساتھ مذاکرات نیک نیتی سے آگے بڑھانے کی کوشش کی، ہمیں تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی، بدقسمتی سے ایسے واقعات مذاکرات کے لیے نیک شگون نہیں، شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ مشاورت سے کیا جائے گا۔''

پشاور میں پاکستانی مسیحیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس نے ان کے اور دنیا کے سامنے ہمارے سر جھکا دیے ہیں۔ یہ وہ برادری ہے جس نے قیام پاکستان سے آج اور ابھی تک پاکستانی سماج کی بہتری کے لیے اپنے حدود امکان سے بڑھ کر خدمت کی ہے۔ اس برادری نے قانون، تعلیم، صحافت اور میڈیکل سروس کے میدان میں بے پناہ خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اگر نہ ہوتے تو ہم کتنے ہی شعبوں میں مفلس ہوتے۔ ان کی کار گزاریوں کا اعتراف کرنے کے بجائے فرقہ وارانہ بنیادوں پر کبھی ان کی بستیاں جلائی گئیں، گھر لوٹے گئے ، خواتین کی بے حرمتی کی گئی، شاتم رسولؐ ہونے کے الزامات عائد کیے گئے اور سماج میں انھیں اچھوت بنادیا گیا۔ یہ درست ہے کہ عام پاکستانی ایسا نہیں ہے لیکن یہ تو مانتے ہی بنے گی کہ ہمارے اندر نفرت اور تعصب کا ایسا کوڑھ پھوٹا ہے جس نے ہمیں انسانیت کے درجے سے گرا دیا ہے۔

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کیا غلط کہا کہ ہم نے اقلیتوں کو تنہا کر دیاہے، اگر سیاست دان یا سیاسی جماعتیں اقلیتوں کو سیاسی دھارے میں لے کر آئیں تو کسی کو بھی ان پر حملے کرنے کی ہمت نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ اگر اقلیتوں کا ساتھ نہیں دیا جائے گا تو وہ اکیلے کیسے اپنا تحفظ کر سکیں گی۔ بشپ آف لاہور الیگزینڈر جان ملک نے ایک چینل پر گفتگو کرتے ہوئے لوگوں کو یاد دلایا کہ کہ قائد اعظم نے 11 اگست 1947 کو اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے عیسائی، ہندو ،مسلمان سب کو برابر تحفظ دینے کی بات کی تھی ، بعد میں آنے والی سیاسی حکومتوں نے ایسی آئینی ترامیم کیں جس نے آئین کے اندر مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز پیدا کردیا ۔

اس موقعہ پر کسی گمنام صاحب کی طرف سے آنے والا پرائیویٹ میسج آپ کی نذر ہے، شاید یہ آپ کے دل کو چھو سکے۔

جب تک میں اندھیرے میں تھا...شیعہ کو واجب القتل سمجھتا تھا...بریلویوں کو مشرک سمجھتا تھا...وہابیوں کو گستاخِ رسولؐ سمجھتا تھا...یہودیوں کو منافق سمجھتا تھا... عیسائیوں کو گمراہ سمجھتا تھا...ہندوئوں کو ناپاک سمجھتا تھا...سکھوں کوجاہل سمجھتا تھا...چینیوں کو گندا سمجھتا تھا... اپنے فرقے کو درست اور دنیا کے تمام فرقوںاور مذاہب کو...غلط سمجھتا اور ان سے نفرت کرتا تھا... پھر روشنی ہوئی اور اب میں صرف ایک انسان ہوں...اب میں کسی کو واجب القتل نہیں سمجھتا...اب میں کسی سے نفرت نہیں کرتا...روشنی اب میرے چاروں طرف ہے!

مقبول خبریں